سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ قَدَّمَ وَلَدًا باب: اس شخص کے ثواب کا بیان جس نے کوئی لڑکا ذخیرہ آخرت کے طور پر پہلے بھیج دیا ہو۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَأَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ، قَال : سَمِعْتُ جَدِّي أَبَا أُمِّي سِمَاكَ بْنَ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيّ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِمَا الْجَنَّةَ " فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : " وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ " . قَالَتْ : فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ ؟ قَالَ : " فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَنْ يُصَابُوا بِمِثْلِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ بَارِقٍ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرَابِطِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ 1 فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَسِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ هُوَ : أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ .´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” میری امت میں سے جس کے دو پیش رو ہوں ، اللہ اسے ان کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا “ اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے عرض کیا : آپ کی امت میں سے جس کے ایک ہی پیش رو ہو تو ؟ آپ نے فرمایا : ” جس کے ایک ہی پیش رو ہو اسے بھی ، اے توفیق یافتہ خاتون ! “ ( پھر ) انہوں نے پوچھا : آپ کی امت میں جس کا کوئی پیش رو ہی نہ ہو اس کا کیا ہو گا ؟ تو آپ نے فرمایا : ” میں اپنی امت کا پیش رو ہوں کسی کی جدائی سے انہیں ایسی تکلیف نہیں ہو گی جیسی میری جدائی سے انہیں ہو گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- ہم اسے عبدربہ بن بارق ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور ان سے کئی ائمہ نے روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” میری امت میں سے جس کے دو پیش رو ہوں، اللہ اسے ان کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا “ اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے عرض کیا: آپ کی امت میں سے جس کے ایک ہی پیش رو ہو تو؟ آپ نے فرمایا: ” جس کے ایک ہی پیش رو ہو اسے بھی، اے توفیق یافتہ خاتون! “ (پھر) انہوں نے پوچھا: آپ کی امت میں جس کا کوئی پیش رو ہی نہ ہو اس کا کیا ہو گا؟ تو آپ نے فرمایا: ” میں اپنی امت کا پیش رو ہوں کسی کی جدائی سے انہیں ایسی تکلیف نہیں ہو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1062]
نوٹ:
(سند میں عبدربہ بن بارق کوکئی لوگوں نے ضعیف قراردیا ہے، حافظ ابن حجرنے ’’صدوق یخطيء‘‘ کہا ہے، ترمذی نے خود ’’حدیث غریب‘‘ کہا ہے، اوروہ ایسا ضعیف حدیث کے بارے میں کہتے ہیں) تخريج: انظر ما قبله (صحیح)