سنن ترمذي
كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةً باب: ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔
حدیث نمبر: 106
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَ " . وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ , وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ وَجِيهٍ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ ، وَهُوَ شَيْخٌ لَيْسَ بِذَاكَ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ ، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، وَيُقَالُ : الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ ، وَيُقَالُ : ابْنُ وَجْبَةَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتا ہے ، اس لیے بالوں کو اچھی طرح دھویا کرو اور کھال کو اچھی طرح مل کر صاف کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں علی اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۲- حارث بن وجیہ کی حدیث غریب ہے ، اسے ہم صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں ۱؎ ، وہ اس حدیث کو مالک بن دینار سے روایت کرنے میں منفرد ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس لفظ ” قوی نہیں ہیں “ کا تعلق جرح کے مراتب کے پہلے مرتبہ سے ہے، ایسے راوی کی روایت قابل اعتبار یعنی تقویت کے قابل ہے اور اس کی تقویت کے لیے مزید روایات تلاش کی جا سکتی ہیں، ایسا نہیں کہ اس کی روایت سرے سے درخوراعتناء ہی نہ ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتا ہے، اس لیے بالوں کو اچھی طرح دھویا کرو اور کھال کو اچھی طرح مل کر صاف کرو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 106]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتا ہے، اس لیے بالوں کو اچھی طرح دھویا کرو اور کھال کو اچھی طرح مل کر صاف کرو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 106]
اردو حاشہ:
1؎:
اس لفظ ’’قوی نہیں ہیں‘‘ کا تعلق جرح کے مراتب کے پہلے مرتبہ سے ہے، ایسے راوی کی روایت قابل اعتبار یعنی تقویت کے قابل ہے اور اس کی تقویت کے لیے مزید روایات تلاش کی جاسکتی ہیں، ایسا نہیں کہ اس کی روایت سرے سے درخوراعتناء ہی نہ ہو۔
نوٹ:
(سند میں حارث وجیہ ضعیف راوی ہے)
1؎:
اس لفظ ’’قوی نہیں ہیں‘‘ کا تعلق جرح کے مراتب کے پہلے مرتبہ سے ہے، ایسے راوی کی روایت قابل اعتبار یعنی تقویت کے قابل ہے اور اس کی تقویت کے لیے مزید روایات تلاش کی جاسکتی ہیں، ایسا نہیں کہ اس کی روایت سرے سے درخوراعتناء ہی نہ ہو۔
نوٹ:
(سند میں حارث وجیہ ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 106 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 108 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´غسل جنابت میں سارا جسم دھونا فرض ہے`
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إن تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وانقوا البشر . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”ہر بال کی تہہ (نیچے) میں جنابت کا اثر ہوتا ہے اس لئے بالوں کو (اچھی طرح) دھویا کرو اور جسم کو اچھی طرح (مل کر) صاف کیا کرو . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 108]
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إن تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وانقوا البشر . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”ہر بال کی تہہ (نیچے) میں جنابت کا اثر ہوتا ہے اس لئے بالوں کو (اچھی طرح) دھویا کرو اور جسم کو اچھی طرح (مل کر) صاف کیا کرو . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 108]
لغوی تشریح:
«أَنْقُوْا» «إِنْقَاء» سے ماخوذ ہے۔ امر کا صیغہ ہے۔ صاف کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
«اَلْبَشَرَ» ”با“ اور ”شین“ پر فتحہ ہے۔ انسان کی جلد کا ظاہر۔ آدمی کی جلد کی اوپر والی سطح۔
«وَضَعَّفَاهُ» اسے دونوں [ابوداود اور ترمذي] نے ضعیف قرار دیا ہے، اس لیے کہ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن وجیہ ضعیف ہے۔ محدثین نے اس کی روایت کو منکر قرار دیا ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن یہی بات صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ غسل جنابت میں سارا جسم دھونا فرض ہے، البتہ کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں فقہاء کی آراء مختلف ہیں۔
➋ احناف کے نزدیک یہ بھی فرضیت کے حکم میں شامل ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ کا بھی مشہور قول یہی ہے جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مسنون ہے۔
➌ بہرحال احادیث کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ غسل جنابت میں سارا بدن حتی کہ بالوں کو خوب اچھی طرح مل کر دھونا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ بلا کسی اشد مجبوری کے جسم کا کوئی حصہ بال برابر یا بالوں کے نیچے جگہ خشک رہ جائے۔
«أَنْقُوْا» «إِنْقَاء» سے ماخوذ ہے۔ امر کا صیغہ ہے۔ صاف کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
«اَلْبَشَرَ» ”با“ اور ”شین“ پر فتحہ ہے۔ انسان کی جلد کا ظاہر۔ آدمی کی جلد کی اوپر والی سطح۔
«وَضَعَّفَاهُ» اسے دونوں [ابوداود اور ترمذي] نے ضعیف قرار دیا ہے، اس لیے کہ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن وجیہ ضعیف ہے۔ محدثین نے اس کی روایت کو منکر قرار دیا ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن یہی بات صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ غسل جنابت میں سارا جسم دھونا فرض ہے، البتہ کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں فقہاء کی آراء مختلف ہیں۔
➋ احناف کے نزدیک یہ بھی فرضیت کے حکم میں شامل ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ کا بھی مشہور قول یہی ہے جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مسنون ہے۔
➌ بہرحال احادیث کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ غسل جنابت میں سارا بدن حتی کہ بالوں کو خوب اچھی طرح مل کر دھونا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ بلا کسی اشد مجبوری کے جسم کا کوئی حصہ بال برابر یا بالوں کے نیچے جگہ خشک رہ جائے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 108 سے ماخوذ ہے۔