مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1056
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : أَنَّ هَذَا كَانَ قَبْلَ أَنْ يُرَخِّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ ، فَلَمَّا رَخَّصَ دَخَلَ فِي رُخْصَتِهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّمَا كُرِهَ زِيَارَةُ الْقُبُورِ لِلنِّسَاءِ لِقِلَّةِ صَبْرِهِنَّ وَكَثْرَةِ جَزَعِهِنَّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن عباس اور حسان بن ثابت سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبروں کی زیارت کی اجازت دینے سے پہلے کی بات ہے ۔ جب آپ نے اس کی اجازت دے دی تو اب اس اجازت میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں ، ۴- بعض کہتے ہیں کہ عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت ان کی قلت صبر اور کثرت جزع فزع کی وجہ سے مکروہ ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1056
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (1576)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1576

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابوعبد اللہ صارم
´عوتوں کے لیے قبروں کی زیارت`
«. . . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے . . . [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 1056]
فوائد و مسائل:
یہ ممانعت منسوخ ہے: قبروں کی زیارت سے مردوں اور عوتوں سب کو منع کیا گیا تھا، لیکن بعد میں یہ ممانعت منسوخ کر کے سب کو اجازت دے دی گئی۔ یہ حدیث اس دور کی ہے، جب قبروں کی زیارت منع تھی۔
امام حاکم رحمہ اللہ اس اور اس جیسی دیگر احادیث کے بارے میں فرماتے ہیں: زیارت قبور سے ممانعت کے بارے میں مروی یہ احادیث منسوخ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين: 1385]
↰ امام حاکم رحمہ اللہ کہ یہ بات بالکل درست ہے، درج ذیل دلائل بھی اسی موقف کی تائید کرتے ہیں۔
دلیل نمبر:
عبداللہ بن ابوملیکہ تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک دن قبرستان کی جانب سے آئیں، تو میں نے ان سے دریافت کیا: مومنوں کی ماں! آپ کہاں سے آئی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اپنے بھائی عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کی قبر سے۔ میں عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت سے منع نہیں فرمایا تھا؟ سیدہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: جی منع تو فرمایا تھا، لیکن بعد میں قبروں کی زیارت کا حکم فرما دیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين للحاكم: 376/1، السنن الكبريٰ للبيهقي 78/3 وسنده صحيح]
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ [تلخيص المستدرك: 376/1]
◈ حافظ عراقی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو جید کہا ہے۔ [تخريج احاديث الاحياء: 2608/8]
◈ حافظ بوصیری لکھتے ہیں: یہ سند صحیح اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [مسباح الزجاجة: 568]
سنن ابن ماجہ [1570] کے الفاظ یوں ہیں: «رخص فى زيارة القبور»
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے کی اجازت دے دی۔
دلیل نمبر:
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «نهيتكم عن زيارة القبور، فزوروها»
میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کرتا تھا، لیکن اب تم قبرستان چلے جایا کرو۔ [صحيح مسلم: 977]
↰ یہ حدیث پاک عام ہے، جس میں مرد و عورت دونوں شامل ہیں۔ مذکورہ بالا حدیث بھی یہی بتاتی ہے۔
درج بالا اقتباس ماہنامہ السنہ جہلم، شمارہ 69، حدیث/صفحہ نمبر: 17 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1576 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عورتوں کے لیے زیارت قبور منع ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1576]
اردو حاشہ:
فائدہ:  اس سے مراد بار بار زیارت کرنے والیاں ہیں۔
زوارات مبالغے کا صیغہ ہے۔
یعنی کثرت سے یا بار بار زیارت کرنے والی عورتیں۔
کبھی کبھار جانے کا جواز اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت فرمایا کہ قبرستان میں جا کر مدفونین کے لئے کس طرح دعا کروں تو رسول اللہﷺ نے انھیں یہ نہیں فرمایا تم جایا ہی نہ کرو۔
یوں کہا۔ (السَّلَامُ عَلَي أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُوْمِنِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْن...الخ)
 ديكھیے: (صحیح مسلم، الجنائز، باب ما یقال عند دخول القبور والدعاء لأھلھا: حدیث: 974)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1576 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔