سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب آخَرُ باب: جنازے سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 1041
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا الْمُهَزِّمِ، قَالَ : صَحِبْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَشْرَ سِنِينَ سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً وَحَمَلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ مِنْ حَقِّهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَأَبُو الْمُهَزِّمِ اسْمُهُ : يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عباد بن منصور کہتے ہیں کہ` میں نے ابوالمہزم کو کہتے سنا کہ میں دس سال ابوہریرہ کے ساتھ رہا ۔ میں نے انہیں سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جو کسی جنازے کے ساتھ گیا اور اسے تین بار کندھا دیا تو ، اس نے اپنا حق پورا کر دیا جو اس پر تھا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- اسے بعض نے اسی سند سے روایت کیا ہے لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے ، ۳- ابوالمہزم کا نام یزید بن سفیان ہے ۔ شعبہ نے انہیں ضعیف کہا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جنازے سے متعلق ایک اور باب۔`
عباد بن منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابوالمہزم کو کہتے سنا کہ میں دس سال ابوہریرہ کے ساتھ رہا۔ میں نے انہیں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: " جو کسی جنازے کے ساتھ گیا اور اسے تین بار کندھا دیا تو، اس نے اپنا حق پورا کر دیا جو اس پر تھا۔" [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1041]
عباد بن منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابوالمہزم کو کہتے سنا کہ میں دس سال ابوہریرہ کے ساتھ رہا۔ میں نے انہیں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: " جو کسی جنازے کے ساتھ گیا اور اسے تین بار کندھا دیا تو، اس نے اپنا حق پورا کر دیا جو اس پر تھا۔" [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1041]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابوالمہزم ضعیف راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں ابوالمہزم ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1041 سے ماخوذ ہے۔