سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ باب: نماز جنازہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُقْضَى دَفْنُهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ أَحَدُهُمَا ، أَوْ أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ " . فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ ، وَفِي الْبَاب : عَنْ الْبَرَاءِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَثَوْبَانَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی نماز جنازہ پڑھی ، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے ۔ اور جو اس کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اس کی تدفین مکمل کر لی جائے تو اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے ، ان میں سے ایک قیراط یا ان میں سے چھوٹا قیراط احد کے برابر ہو گا “ ۔ تو میں نے ابن عمر سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس بھیجا اور ان سے اس بارے میں پوچھوایا تو انہوں نے کہا : ابوہریرہ سچ کہتے ہیں ۔ تو ابن عمر نے کہا : ہم نے بہت سے قیراط گنوا دیئے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- ان سے کئی سندوں سے یہ مروی ہے ، ۳- اس باب میں براء ، عبداللہ بن مغفل ، عبداللہ بن مسعود ، ابو سعید خدری ، ابی بن کعب ، ابن عمر اور ثوبان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ان کا خیال تھا ایک معمولی کام پر اتنا اجر ہمیں اس کا پتہ کیوں نہیں چل سکا۔
کہیں ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھول چوک تو نہیں ہو گئی۔
اس لیے جب ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اس قول کا پتہ چلا تو وہ خود انہیں پکڑ کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس لے گئے اور انہیں براہ راست حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنوایا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اعتراف کرنا پڑا کہ: (كنت ألزمنا لرسول الله - صلى الله عليه وسلم- وأعلمنا بحديثه)
آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے والے اور آپ ہم سے زیادہ آپ کی احادیث جاننے والے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے مقصورہ سےمراد مسجد کے اندر چھوٹا کمرہ ہے جس میں گورنر یا اسکے حاشیہ کھڑا ہوتے اور خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کا منتظم تھا۔
ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے علم کی وسعت وجامعیت اور کمال پراعتماد تھا۔
اس لیے اگر انہیں کسی مسئلہ یا حدیث کے بارے میں شک ہوتا تو وہ فوراً ان سے رجوع کر کے اپنی تسلی کر لیتے۔
2۔
جنازہ میں شرکت کے لیے میت کےگھر جانا چاہیے تاکہ ثواب پورا پورا حاصل کیا جا سکے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط (کا ثواب) ملے گا، اور جو جنازہ کے ساتھ جائے اور اس کے دفنانے تک ٹھہرا رہے تو اسے دو قیراط (کا ثواب) ملے گا، ان میں سے چھوٹا قیراط یا ان میں سے ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3168]
دنیا میں قیراط ایک معمولی وزن ہے۔
یعنی 2125۔
یا 2475۔
گرام۔
مگر ایمان تقویٰ اور اپنے مسلمان بھائی کا حق ادا کرنے کی برکت سے اللہ عزوجل اس عمل کو پہاڑوں کے برابر دے گا۔
اور ایسا ہوجانا کوئی محال نہیں ہے۔
اور ہر صاحب ایمان کو ایسے اعمال خیر کا حریص ہونا چاہیے۔
اس حدیث میں نماز جنازہ کے ساتھ شریک ہونے کا اجر بیان ہوا ہے۔ بطور فائدہ عرض ہے کہ بعض لوگ جنازے کے ساتھ راستے میں ملتے ہیں اور بعض پہلے ہی قبرستان پہنچ جاتے ہیں، جبکہ قیراط کا ثواب اس شخص کو ملے گا جو میت کے گھر سے جنازہ کے ساتھ جاتا ہے، یہ وضاحت صحیح مسلم (945) میں ہے
اللہ تعالیٰ استاذ محترم شیخ حافظ محمد شریف ﷾کو جزائے خیر عطا فرمائے، انہوں نے ناچیز پرمرکز التربية الاسلامیۃ میں بہت زیادہ محنت کی، دوران تدریس یہ اضافہ انہوں نے لکھوایا تھا، اور اس وقت [احكام الجنائز لالباني ص: 68] کا حوالہ دیا تھا، فـجـزاها الله خيرا۔