مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 1021
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، قَالَ : دَفَنْتُ ابْنِي سِنَانًا ، وَأَبُو طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيُّ جَالِسٌ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ ، فَلَمَّا أَرَدْتُ الْخُرُوجَ أَخَذَ بِيَدِي ، فَقَالَ : أَلَا أُبَشِّرُكَ يَا أَبَا سِنَانٍ ، قُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ ، قَالَ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ : قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ : قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهِ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ : مَاذَا قَالَ عَبْدِي ، فَيَقُولُونَ : حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ ، فَيَقُولُ اللَّهُ : ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوسنان کہتے ہیں کہ` میں نے اپنے بیٹے سنان کو دفن کیا اور ابوطلحہ خولانی قبر کی منڈیر پر بیٹھے تھے ، جب میں نے ( قبر سے ) نکلنے کا ارادہ کیا تو وہ میرا ہاتھ پکڑ کر کہا : ابوسنان ! کیا میں تمہیں بشارت نہ دوں ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ضرور دیجئیے ، تو انہوں نے کہا : مجھ سے ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزب نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بندے کا بچہ ۱؎ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتا ہے : تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کر لی ؟ تو وہ کہتے ہیں : ہاں ، پھر فرماتا ہے : تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا ؟ وہ کہتے ہیں : ہاں ۔ تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے : میرے بندے نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں : اس نے تیری حمد بیان کی اور «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: بچہ سے مراد مطلق اولاد ہے خواہ مذکر ہو یا مؤنث۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 1021
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، الصحيحة (1408) , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف, قال البيھقي : ” الضحاك بن عبدالرحمان لم يثبت سماعه من أبى موسى وعيسى بن سنان ضعيف “ (284/1، 285) وقال الھيثمي فى عيسى بن سنان : ”وضعفه الجمھور“ (مجمع الزوائد: 36/1), وقال العراقي : ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء:209/2)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مصیبت پر ثواب کی نیت سے صبر کرنے کی فضیلت کا بیان۔`
ابوسنان کہتے ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے سنان کو دفن کیا اور ابوطلحہ خولانی قبر کی منڈیر پر بیٹھے تھے، جب میں نے (قبر سے) نکلنے کا ارادہ کیا تو وہ میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: ابوسنان! کیا میں تمہیں بشارت نہ دوں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور دیجئیے، تو انہوں نے کہا: مجھ سے ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزب نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندے کا بچہ ۱؎ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتا ہے: تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کر لی؟ تو وہ کہتے ہیں: ہاں، پھر فرماتا ہے: ت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1021]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎: بچہ سے مراد مطلق اولاد ہے خواہ مذکرہویامؤنث۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1021 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔