سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب آخَرُ باب: جنازہ سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَرِيضَ ، وَيَشْهَدُ الْجَنَازَةَ ، وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ ، وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْعَبْدِ ، وَكَانَ يَوْمَ بَنِي قُرَيْظَةَ عَلَى حِمَارٍ مَخْطُومٍ بِحَبْلٍ مِنْ لِيفٍ عَلَيْهِ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَمُسْلِمٌ الْأَعْوَرُ يُضَعَّفُ ، وَهُوَ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ الْمُلَائِيُّ تُكُلِّمَ فِيهِ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ ، وَسُفْيَانُ .´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کرتے ، جنازے میں شریک ہوتے ، گدھے کی سواری کرتے اور غلام کی دعوت قبول فرماتے تھے ۔ بنو قریظہ ۱؎ والے دن آپ ایک ایسے گدھے پر سوار تھے ، جس کی لگام کھجور کی چھال کی رسی کی تھی ، اس پر زین بھی چھال ہی کی تھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ہم اس حدیث کو صرف مسلم کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ انس سے روایت کرتے ہیں ۔ اور مسلم اعور ضعیف گردانے جاتے ہیں ۔ یہی مسلم بن کیسان ملائی ہیں ، جس پر کلام کیا گیا ہے ، ان سے شعبہ اور سفیان نے روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کرتے، جنازے میں شریک ہوتے، گدھے کی سواری کرتے اور غلام کی دعوت قبول فرماتے تھے۔ بنو قریظہ ۱؎ والے دن آپ ایک ایسے گدھے پر سوار تھے، جس کی لگام کھجور کی چھال کی رسی کی تھی، اس پر زین بھی چھال ہی کی تھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1017]
وضاحت:
1؎:
خیبرکے یہودیوں کا ایک قبیلہ ہے یہ واقعہ ذی قعدہ 5ھکا ہے۔
نوٹ:
(سند میں مسلم بن کیسان الاعورضعیف ہیں)