سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّوْحِ باب: میت پر نوحہ کرنے کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، وَالْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهُنَّ النَّاسُ : النِّيَاحَةُ ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَحْسَابِ ، وَالْعَدْوَى أَجْرَبَ بَعِيرٌ فَأَجْرَبَ مِائَةَ بَعِيرٍ مَنْ أَجْرَبَ الْبَعِيرَ الْأَوَّلَ ، وَالْأَنْوَاءُ مُطِرْنَا بِنَوْءٍ كَذَا وَكَذَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں چار باتیں جاہلیت کی ہیں ، لوگ انہیں کبھی نہیں چھوڑیں گے : نوحہ کرنا ، حسب و نسب میں طعنہ زنی ، اور بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگ جانے کا عقیدہ رکھنا مثلاً یوں کہنا کہ ایک اونٹ کو کھجلی ہوئی اور اس نے سو اونٹ میں کھجلی پھیلا دی تو آخر پہلے اونٹ کو کھجلی کیسے لگی ؟ اور نچھتروں کا عقیدہ رکھنا ۔ مثلاً فلاں اور فلاں نچھتر ( ستارے ) کے سبب ہم پر بارش ہوئی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
جاہلیت کے دور میں لوگ حسب ونسب پر فخر کرتے تھے اور دوسروں کے حسب ونسب پر طعن وتشنیع کرتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک تفوق وبرتری کا انحصار تقوی اور اعمال صالحہ پر نہیں تھا، لیکن اسلام کی رو سے عزت وشرافت کا مدار تقوی اور دینداری پر ہے، قیامت کے دن، ایمان اور اعمال کے بغیر ذات اور نسب کچھ کام نہ دیں گے۔
لیکن مسلمانوں میں ابھی یہ ذہنیت موجود چلی آرہی ہے جو کافرانہ حرکت ہے، جس سے بچنا لازم ہے۔
(2)
میت پر چیخنا اور واویلا کرنا بھی جاہلیت کا شعار ہے، وہ اس کام میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتے اور عورتیں نوحہ کرنے میں ایک دوسرے کا تعاون کرتی تھیں، اور مسلمانوں میں یہ رسم دور جاہلیت کی یادگار کے طو ر پرچلی آرہی ہےجس سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔