کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: شہادت سے متعلق جامع احادیث کا بیان 2
حدیث نمبر: 4149
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , نا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: مَا أَزْعُمُ أَنِّي بِقَمِيصِي هَذَا أَحَقُّ مِنِّي بِالْخِلَافَةِ، قَدْ جَاهَدْتُ إِذْ أَنَا أَعْرِفُ الْجِهَادَ، وَلَا أَبْخَعُ نَفْسِي أَنْ يُقَالَ رَجُلٌ خَيْرٌ مِنِّي، وَاللَّهِ لَا أُقَاتِلُ حَتَّى تَأْتُونِي بِسَيْفٍ لَهُ لِسَانٌ وَشَفَتَانِ، فَيَقُولُ: هَذَا مُؤْمِنٌ وَهَذَا كَافِرٌ "
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ خلافت پر میرا حق میری قمیص پر میرے حق سے زیادہ ہے۔ میں نے اس وقت جہاد کیا جب جہاد کو پہچانتا تھا۔ میں اس پر افسوس نہیں کرتا اگر کہا جائے کہ کوئی شخص مجھ سے بہتر ہے۔ اللہ کی قسم! میں اس وقت تک قتال نہیں کروں گا جب تک تم میرے پاس ایسی تلوار نہ لاؤن جو زبان اور ہونٹ رکھتی ہو، جو کہے: یہ مؤمن ہے اور یہ کافر۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4149
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 8464، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2973، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20736، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38564، والطبراني فى«الكبير» برقم: 322»
حدیث نمبر: 4150
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: «مَا مِنَّا أَحَدٌ أَدْرَكَتْهُ الْفِتْنَةُ إِلَّا لَوْ شِئْتَ لَقُلْتُ فِيهِ غَيْرَ ابْنِ عُمَرَ»
مظاہر امیر خان
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ایک شخص نے کہا: ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے فتنہ نے آلیا ہو مگر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو چھوڑ کر۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4150
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2974، 2975، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38448»
حدیث نمبر: 4151
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: «اللَّهُمَّ أَبْقِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَا أَبْقَيْتَنِي أَقْتَدِي بِهِ، فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا الْيَوْمَ عَلَى الْأَمْرِ الْأَوَّلِ غَيْرَهُ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص نے کہا: ”اے اللہ! جب تک تو مجھے باقی رکھے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو باقی رکھ، تاکہ کہہرہ کہا کہ میں سا کہا کہیں سا کہا کہ ان کی اقتداء کر سکوں، کیونکہ میں آج کسی کو ان سے کسلا، کی سج سے سے ابتدائی دین پر قائم نہیں جانتا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4151
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2974، 2975، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38448»
حدیث نمبر: 4152
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: «إِنِّي لَقِيتُ أَصْحَابِي عَلَى أَمْرٍ فَإِنْ خَالَفْتُهُمْ خَشِيتُ أَنْ لَا أَلْحَقَ بِهِمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں نے اپنے ساتھتیوں کوئکہ رہ کہ پر پایا، پرہ سا کہ پرہ کہ مخالہت کرتا تو ڈرتا ہوں کہ ان سے نہ مل سکوں۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4152
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «إسناده منقطع، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2976، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 35783»
حدیث نمبر: 4153
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: نا أَيُّوبُ، قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: مَنْ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنَّا، وَمَنْ يُنَازِعُنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: " فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ: الَّذِينَ قَاتَلُوكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ فِي قَوْلِي هَذَا هِرَاقَةُ الدِّمَاءِ، وَأَنْ يُحْمَلَ قَوْلِي عَلَى غَيْرِ الَّذِي أَرَدْتُ، وَذَكَرْتُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْجِنَانِ "
مظاہر امیر خان
ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مجھے خبر دی گئی کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کام پر ہم سے زیادہ کون حقدار ہے اور کون ہم سے جھگڑا کر سکتا ہے؟ میں نے ارادہ کیا کہ کہہ دوں: وہ لوگ جنہوں نے تم سے اور تمہارے والد سے اسلام پر جنگ کی، لیکن میں نے خونریزی کے خوف سے بات روک لی اور جنت کو یاد کیا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4153
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2977، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9770، والطبراني فى«الكبير» برقم: 13834»
قال ابن حجر: رواية منقطعة، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (7 / 465)
حدیث نمبر: 4154
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي صِدِّيقُ بْنُ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرُ (1)، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَاسْتَنَاخَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ بَيْنَ دَارِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَدَارِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدٍ، فَأَتَاهُ النَّاسُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ الْمَنْزِلَ، فَانْبَعَثَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، فَقَالَ: دَعُوهَا، فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ، ثُمَّ خَرَجَتْ بِهِ حَتَّى جَاءَتْ بِهِ بَابَ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فَاسْتَنَاخَتْ بِهِ، فَأَتَاهُ النَّاسُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ الْمَنْزِلَ، فَانْبَعَثَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، فَقَالَ: دَعُوهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ، ثُمَّ خَرَجَتْ بِهِ حَتَّى جَاءَتْ بِهِ مَوْضِعَ الْمِنْبَرِ فَاسْتَنَاخَتْ بِهِ ثُمَّ تَحَلَّلَتْ، وَلِلنَّاسِ ثَمَّ عَرِيشٌ كَانُوا يَرُشُّونَهُ، وَيُقِيمُونَهُ، وَيَتَبَرَّدُونَ فِيهِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَاحِلَتِهِ فَأَوَى إِلَى الظِّلِّ، فَنَزَلَ فِيهِ وَأَتَاهُ [7/401] أَبُو أَيُّوبَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ مَنْزِلِي أَقْرَبُ الْمَنَازِلِ إِلَيْكَ فَانْقُلْ رَحْلَكَ إِلَيَّ، قَالَ: نَعَمْ، فَذَهَبَ بِرِحْلَتِهِ إِلَى الْمَنْزِلِ، ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ انْزِلْ عَلَيَّ، فَقَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ مَعَ رَحْلِهِ حَيْثُ كَانَ، وَثَبَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَرِيشِ حَتَّى صَلَّى بِالنَّاسِ فِيهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً .
مظاہر امیر خان
حضرت صدیق بن موسیٰ بن عبداللہ بن زبیر رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو آپ کی اونٹنی نے جعفر بن محمد بن علی اور حسن بن زید کے گھروں کے درمیان بیٹھنے کا ارادہ کیا۔ لوگوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! یہ جگہ منزل ہو۔“ اونٹنی چل پڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، یہ مامور ہے۔“ پھر اونٹنی چلتی رہی یہاں تک کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھ گئی۔ لوگ کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! یہ منزل ہو۔“ آپ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، یہ مامور ہے۔“ پھر اونٹنی چلتی رہی یہاں تک کہ منبر کے مقام پر بیٹھی، پھر بیٹھ کر تھک گئی۔ لوگوں کے لیے وہاں ایک سائبان تھا جسے وہ پانی چھڑک کر ٹھنڈا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے اور سائبان میں آرام فرمایا۔ پھر سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میرا گھر آپ کے قریب ترین ہے، اپنا سامان میرے گھر منتقل کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے آپ کا سامان اپنے گھر منتقل کر لیا۔ پھر ایک اور شخص آیا اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میرے ہاں تشریف لے آئیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی جہاں اپنا سامان رکھتا ہے وہیں رہتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بارہ راتیں اس سائبان میں قیام فرماتے رہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4154
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
(1) كذا في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند، وقال المحقق:ذكره البخاري وابن أبي حاتم كان أصله من الجزيرة تحول إلى مكة سمع منه ابن جريج وغيره، ووقع في تاريخ ابن كثير: صديق بن موسى عن عبد الله بن الزبير خطأ .قلنا: ورد الحديث في المعجم الأوسط للطبراني 4 / 35 من طريق المصنف، وفيه "صديق بن موسى، عن عبد الله بن الزبير" . والله أعلم
وقال النسائي: عطاف بن خالد: ليس بالقوي