کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: شہادت سے متعلق جامع احادیث کا بیان 2
حدیث نمبر: 4109
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ حِينَ مَنَعَهُ النَّاسُ الزَّكَاةَ أَرَادَ أَنْ يُقَاتِلَهُمْ، فَقِيلَ لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا؟» قَالَ: فَهَذَا مِنْ حَقِّهَا أَلَّا يُفَرِّقُوا بَيْنَ مَا جَمَعَ اللَّهُ وَلَوْ مَنَعُونِي شَيْئًا مِمَّا أَقَرُّوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهِ
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب لوگوں نے زکوٰۃ روک لی تو میں نے قتال کا ارادہ کیا۔“ کہا گیا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا اس کا مال اور خون محفوظ ہے؟“ فرمایا: ”زکوٰۃ بھی حق ہے، اگر وہ ایک رسی بھی روکیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے قتال کروں گا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4109
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه النسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3991، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3428، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2680، 2901، 2933»
الزہری "عن من حدثه" → مبہم راوی
حدیث نمبر: 4110
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ الطَّائِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: جَاءَ وَفْدُ أَهْلِ الرِّدَّةِ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ يَسْأَلُونَ أَبَا بَكْرٍ الصُّلْحَ، فَخَيَّرَهُمْ، إِمَّا حَرْبٌ مُجْلِيَةٌ، وَإِمَّا سِلْمٌ مُخْزِيَةٌ، قَالُوا: أَمَّا حَرْبٌ مُجْلِيَةٌ فَقَدْ عَرَفْنَاهَا، فَمَا سِلْمٌ مُخْزِيَةٌ؟ قَالَ: «تَدُونَ قَتْلَانَا، وَلَا نُودِي قَتْلَاكُمْ، وَتَشْهَدُونَ عَلَى قَتْلَاكُمْ أَنَّهُمْ فِي النَّارِ، وَتَرُدُّونَ إِلَيْنَا مَنْ أَخَذْتُمْ مِنَّا، وَلَا نَرُدُّ إِلَيْكُمْ مَا أَخَذْنَا مِنْكُمْ، وَنَنْزِعُ مِنْكُمُ الْحَلْقَةَ وَالْكُرَاعَ، وَتُتْرَكُونَ تَتَّبِعُونَ أَذْنَابَ الْإِبِلِ حَتَّى يُرِيَ اللَّهُ خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ وَالْمُؤْمِنِينَ رَأْيًا يَعْذِرُونَكُمْ عَلَيْهِ» فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا مَا قَدْ قُلْتَ فَكَمَا قُلْتَ، لَكِنْ قَتْلَانَا قُتِلُوا فِي اللَّهِ، أُجُورُهُمْ عَلَى اللَّهِ , لَا دِيَةَ لَهُمْ
مظاہر امیر خان
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ارتداد کرنے والے بنو اسد اور غطفان کے وفد نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے صلح کی درخواست کی۔ آپ نے کہا: ”یا تو عبرتناک جنگ یا ذلت والی صلح۔“ انہوں نے صلح کی شرائط پوچھیں۔ فرمایا: ”ہمارے مقتولین کی دیت نہ لو، اپنے مقتولین کو دوزخی مانو، ہمارے قیدی واپس کرو، اپنے قیدی نہ لو، ہتھیار چھوڑو اور اونٹوں کے پیچھے لگ جاؤ یہاں تک کہ اللہ خلیفہ کو تمہارے بارے میں کوئی فیصلہ دکھائے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہمارے مقتولین اللہ کے لیے شہید ہوئے، ان کی کوئی دیت نہیں۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4110
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2934، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1953»
حدیث نمبر: 4111
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: بَعَثَنَا عُثْمَانُ فِي خَمْسِينَ رَاكِبًا، وَأَمِيرُنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى ذِي خَشَبٍ اسْتَقْبَلَنَا رَجُلٌ فِي عُنُقِهِ مُصْحَفٌ، مُتَقَلِّدٌ سَيْفَهُ، تَذْرِفُ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا يَأْمُرُنَا أَنْ نَضْرِبَ بِهَذَا - يَعْنِي السَّيْفَ - عَلَى مَا فِي هَذَا، فَقَالَ لَهُ مُحَمَّدٌ: «اجْلِسْ فَنَحْنُ قَدْ ضَرَبْنَا بِهَذَا عَلَى مَا فِي هَذَا قَبْلَكَ أَوْ قَبْلَ أَنْ تُولَدَ» قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهُمْ حَتَّى رَجَعُوا قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ: فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ وَجَدُوا كِتَابًا إِلَى ابْنِ سَعْدٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پچاس سواروں کے ساتھ بھیجا، امیر محمد بن مسلمہ تھے۔ ذی خشب پہنچے تو ایک شخص ملا، گردن میں قرآن لٹکا تھا اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اس نے کہا: ”ہم سے کہا جا رہا ہے تلوار سے قرآن پر حملہ کرو۔“ محمد نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، ہم تم سے پہلے قرآن کے لیے تلوار اٹھا چکے۔“ پھر وہ انہیں باتوں سے واپس لے گیا۔ جابر نے فرمایا: ”کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس ابن سعد کے نام خط ملا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4111
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 5895، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2935»
حدیث نمبر: 4112
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَحْصُورًا مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي الدَّارِ فَرُمِيَ رَجُلٌ مِنَّا فَقُتِلَ، فَقُلْتُ لِعُثْمَانَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا طَابَ الضِّرَابُ؟ قَتَلُوا رَجُلًا مِنَّا، فَقَالَ: «عَزَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِلَّا طَرَحْتَ سَيْفَكَ، فَإِنَّمَا تُرَادُ نَفْسِي وَسَأَقِي الْمُؤْمِنِينَ الْيَوْمَ بِنَفْسِي» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَرَمَيْتُ بِسَيْفٍ فَمَا أَدْرِي أَيْنَ هُوَ حَتَّى السَّاعَةِ
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھر میں محصور تھا۔ ہمارے ایک ساتھی کو قتل کر دیا گیا۔ میں نے کہا: یا امیرالمومنین! اب لڑائی کا وقت ہے۔“ آپ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اپنی تلوار پھینک دو۔ میرا خون محفوظ رکھنا ہے۔“ چنانچہ میں نے تلوار پھینک دی اور آج تک نہیں جانتا کہاں گئی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4112
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2936، 2937، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4382»
قال ابن حجر: الاسم: نجيح بن عبد الرحمن، الشهرة: أبو معشر، ضعيف، أسن واختلط
حدیث نمبر: 4113
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ يَوْمَ الدَّارِ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا ضِرَابٌ؟ فَقَالَ لِي: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَيَسُرُّكَ أَنْ تَقْتُلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَإِيَّايَ مَعَهُمْ؟» فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: «وَاللَّهِ لَئِنْ قَتَلْتَ رَجُلًا وَاحِدًا، لَكَأَنَّمَا قَتَلْتَ النَّاسَ جَمِيعًا» فَرَجَعْتُ فَلَمْ أُقَاتِلْ
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں محاصرہ کے دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ عرض کی: یا امیرالمومنین! کیا لڑائی نہیں کریں گے؟“ فرمایا: ”اے ابوہریرہ! کیا تمہیں پسند ہے کہ تم تمام لوگوں کو اور مجھے قتل کر دو؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ فرمایا: ”اگر ایک آدمی کو قتل کرو گے تو گویا سب کو قتل کیا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4113
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «إسناده ضعیف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2936، 2937، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4382»
ثقہ، مدلس (أعمش کا عنعنہ ہے)
حدیث نمبر: 4114
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ «وَاللَّهِ لَا تُرِيقُونَ مِحْجَمًا مِنْ دَمٍ إِلَّا ازْدَدْتُمْ بِهِ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قتل کیے گئے تو فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم ایک قطرہ خون بہاؤ گے تو اللہ سے مزید دور ہو جاؤ گے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4114
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «إسناده ضعیف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
ثقہ، مدلس (لیکن أعمش کا عنعنہ ہے)
حدیث نمبر: 4115
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ الْمِصْرِيِّينَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَلَمَّا ضَرَبُوهُ خَرَجْتُ أَشْتَدُّ قَدْ مَلَأْتُ فُرُوجِي عَدْوًا حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِي نَحْوٍ مِنْ عَشْرَةٍ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَ لِي: «مَا وَرَاءَكَ؟» فَقُلْتُ: قَدْ وَاللَّهِ قَدْ فُرِغَ مِنَ الرَّجُلِ، فَقَالَ: «تَبًّا لَكُمْ آخِرَ الدَّهْرِ» وَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوجعفر انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں مصریوں کے ساتھ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ جب انہیں مارا تو میں بھاگا۔ مسجد پہنچا تو ایک آدمی بیٹھا تھا، سیاہ عمامہ پہنے، دس افراد کے درمیان۔ اس نے پوچھا: کیا ہوا؟“ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! معاملہ ختم ہو گیا۔“ اس نے فرمایا: ”تم پر افسوس ہو آخر زمانے والو!“ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4115
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2939، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6063، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 25451، 38831»
أعمش کا عنعنہ ہے۔
وله شواهد من حديث جابر بن عبد الله بن عمرو بن حرام الأنصاري، فأما حديث جابر بن عبد الله بن عمرو بن حرام الأنصاري، «أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1358، 1358، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4076، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1735»
حدیث نمبر: 4116
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّهُ كَانَ إِذَا حَدَّثَ مَا صُنِعَ بِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَكَى»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو بیان کرتے تو رو پڑتے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4116
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
أعمش مدلس ہیں اور عن سے روایت کر رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 4117
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو زُرَارَةَ قَالُوا: نَشْهَدُ بِاللَّهِ عَلَى عَلِيٍّ شَهَادَةً يَسْأَلُنَا اللَّهُ عَنْهَا، فَقَدْ شَهِدْنَا مَعَهُ مَشَاهِدَ لَسَمِعْنَا عَلِيًّا يَقُولُ: «وَاللَّهِ مَا قَتَلْتُ عُثْمَانَ، وَلَا اشْتَرَكْتُ، وَلَا أَمَرْتُ، وَلَا رَضِيتُ»
مظاہر امیر خان
ہم گواہی دیتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! نہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا، نہ قتل میں شریک ہوا، نہ قتل کا حکم دیا، نہ قتل پر راضی ہوا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4117
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيره
تخریج حدیث «إسناده حسن لغيره، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 4900، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2941، 2942، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4393، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20972، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38826، 38827، 38828، 38834»
حدیث نمبر: 4118
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: «وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ بَنِيَ أُمَيَّةَ رَضُوا لَنَفَّلْنَاهُمْ خَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ يَحْلِفُونَ مَا قَتَلْنَا عُثْمَانَ، وَلَا نَعْلَمُ لَهُ قَاتِلًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں چاہتا تھا کہ بنو امیہ راضی ہوجائیں تو ہم بنی ہاشم کے پچاس آدمی ان کے سامنے پیش کرتے جو قسم کھاتے کہ ہم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل نہیں کیا اور نہ قاتل کو جانتے ہیں۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4118
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «إسناده صحیح، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 4900، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2941، 2942، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4393، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20972، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38826، 38827، 38828، 38834»
حدیث نمبر: 4119
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، لِابْنِ عَبَّاسٍ: تَذْكُرُ يَوْمَ كُنْتُ فِيهِ عَنْ يَمِينِ عَلِيٍّ، وَأَنْتَ عَنْ شِمَالِهِ يَوْمَ الْمَرِيدِ؟ سَمِعَ ضَجَّةً مِنْ قِبَلِ الْمَرِيدِ فَبَعَثَ رَسُولًا لَيَنْظُرَ فَقَالَ: إِنِّي تَرَكْتُ عَائِشَةَ تَلْعَنُ قَتَلَةَ عُثْمَانَ وَالنَّاسُ يُؤَمِّنُونَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: «وَأَنَا أَلْعَنُ قَتَلَةَ عُثْمَانَ فِي السَّهْلِ وَالْجَبَلِ» فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: أَمَا أَنَا وَابْنُ عَبَّاسٍ بِذَوَيْ عَدْلٍ؟
مظاہر امیر خان
محمد بن علی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”یاد ہے جب ہم دونوں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دائیں بائیں تھے، اور انہوں نے سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے قاتلان عثمان پر لعنت سن کر فرمایا: میں بھی قاتلان عثمان پر لعنت کرتا ہوں میدان میں اور پہاڑ میں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”ہاں۔“ محمد نے کہا: ”کیا ہم دونوں قابل اعتماد نہیں؟“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4119
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2943، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38948»
حدیث نمبر: 4120
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: أَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَى عَلِيٍّ «أَنَّ ابْنَ عَمِّكَ مَقْتُولٌ، وَأَنَّكَ مَسْلُوبٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا: ”تمہارا چچا زاد بھائی قتل ہونے والا ہے اور تمہارا مال لوٹا جائے گا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4120
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
حدیث نمبر: 4121
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ فِي الدَّارِ فَقَالَ: عَزَمْتُ عَلَى كُلِّ مَنْ رَأَى لِي سَمْعًا وَطَاعَةً إِلَّا كَفَّ يَدَهُ وَسِلَاحَهُ، إِنَّ أَفْضَلَكُمْ عَنَّا مَنْ كَفَّ سِلَاحَهُ، وَيَدَهُ، قُمْ يَا ابْنَ عُمَرَ فَاحْجِزْ بَيْنَ النَّاسِ " فَقَامَ ابْنُ عُمَرَ، وَقَامَ مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ بَنِي عَدِيٍّ، وَبَنِي نُعَيْمٍ، وَبَنِي مُطِيعٍ فَفَتَحُوا الْبَابَ فَخَرَجَ، فَدَخَلَ النَّاسُ فَقَتَلُوا عُثْمَانَ
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ہر اس شخص کو قسم دیتا ہوں جو میری سمع و طاعت رکھتا ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اور ہتھیار روکے رکھے۔ تم میں بہترین وہ ہے جو ہاتھ اور ہتھیار روک لے۔“ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرمایا: ”لوگوں کے درمیان حائل ہو جاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے دروازہ کھولا اور لوگ اندر گھس آئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4121
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2945، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32701، 38236، 38816»
حدیث نمبر: 4122
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَرْوَانُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ وَجَاءَ إِلَى عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي دَارِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَقَالَ: مَرْحَبًا يَا أَخِي أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا رَأَيْتُ فِيَ لَيْلَتِي هَذِهِ؟ قَالَ - قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الْكُوَّةِ، فَقَالَ لِي: «يَا عُثْمَانُ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «حَصَرُوكَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «وَأَعْطَشُوكَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ فَشَرِبْتُهُ حَتَّى رَوِيتُ، إِنِّي لَأَجِدُ بَرْدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ وَكَتِفَيَّ، فَقَالَ: «يَا عُثْمَانُ اخْتَرْ إِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ عِنْدِي، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَظْهَرَ عَلَى الْقَوْمِ» قُلْتُ ": بَلْ أُفْطِرُ عِنْدَكَ، فَقُتِلَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں نے رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔ آپ نے فرمایا: اے عثمان! کیا لوگوں نے تمہیں محصور کیا؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ فرمایا: ”کیا تمہیں پیاسا کیا؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ پھر مجھے پانی دیا جس سے سیراب ہوا۔ فرمایا: ”اے عثمان! چاہو تو میرے پاس افطار کرلو۔“ میں نے کہا: ”میں آپ کے پاس افطار کرنا چاہتا ہوں۔“ چنانچہ اسی دن شہید کر دیے گئے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4122
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، و«انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
روایت میں دو علتیں ہیں: فرج بن فضالة ضعیف ہے، مروان بن أبي أمية کی توثیق واضح نہیں (مجہول الحال)
حدیث نمبر: 4123
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، قَالَ لَهُ وَهُوَ أَمِيرٌ بِالْمَدِينَةِ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ غَلَبَةً مِنْ أَبِيكَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَلَا أُحَدِّثُكَ، عَنْ غَلَبَتِهِ إِيَّانَا يَوْمَ الْجَمَلِ؟ قُلْتُ: الْأَمِيرُ أَعْلَمُ، قَالَ: لَمَّا الْتَقَيْنَا يَوْمَ الْجَمَلِ تَوَافَقْنَا، ثُمَّ حَمَلَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ، فَلَمْ يَنْشَبْ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَنِ انْهَزَمُوا، فَصَرَخَ صَارِخٌ لِعَلِيٍّ: لَا يُقْتَلُ مُدْبِرٌ، وَلَا يُذَفَّفُ عَلَى جَرِيحٍ، وَمَنْ أَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَ دَارِهِ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ طَرَحَ السِّلَاحَ آمِنٌ، قَالَ مَرْوَانُ: وَقَدْ كُنْتُ دَخَلْتُ دَارَ فُلَانٍ، ثُمَّ أَرْسَلْتُ إِلَى حَسَنٍ وَحُسَيْنٍ ابْنِي عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ فَكَلَّمُوهُ، قَالَ: هُوَ آمِنٌ فَلْيَتَوَجَّهْ حَيْثُ شَاءَ، فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا تَطِيبُ نَفْسِي حَتَّى أُبَايِعَهُ فَبَايَعْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ
مظاہر امیر خان
حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ نے فرمایا: مروان بن حکم نے کہا: ”میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بہتر غالب آنے والا کوئی نہ دیکھا۔“ جنگ جمل میں جب لڑائی شروع ہوئی تو اہل بصرہ شکست کھا گئے۔ پھر علی رضی اللہ عنہ نے اعلان کرایا: ”جو پیچھے ہٹے اسے قتل نہ کیا جائے، جو ہتھیار ڈال دے وہ امان میں ہے، اور جو اپنے دروازے بند کرلے وہ محفوظ ہے۔“ پھر میں نے ان کے پاس امان حاصل کی اور بیعت کرلی۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4123
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2947، 2950، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16843، 16845، 16846، 16847، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18590، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33950، 33952، 38933، 38945، 38971، 38980»
حدیث نمبر: 4124
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا، «كَانَ لَا يَأْخُذُ سَلَبًا، وَأَنَّهُ كَانَ يُبَاشِرُ الْقِتَالَ بِنَفْسِهِ، وَأَنَّهُ كَانَ لَا يُذَفِّفُ عَلَى جَرِيحٍ، وَلَا يَقْتُلُ مُدْبِرًا»
مظاہر امیر خان
حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ نے فرمایا: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ مال غنیمت سے کچھ نہ لیتے تھے۔ خود قتال کرتے تھے۔ زخمی پر حملہ نہ کرتے اور پیٹھ دکھانے والے کو قتل نہ کرتے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4124
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2948، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16858، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38944»
حدیث نمبر: 4125
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ فُلَانٍ الْعَنَزِيُّ خَالِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَمَلِ وَاضْطَرَبَ الْخَيْلُ جَاءَ أُنَاسٌ إِلَى عَلِيٍّ يَدَّعُونَ أَشْيَاءَ فَأَكْثَرُوا، فَلَمْ يَفْهَمْ، فَقَالَ: أَلَا رَجُلٌ يَجْمَعُ كَلَامَهُمْ فِي خَمْسِ كَلِمَاتٍ أَوْ سِتٍّ؟ قَالَ: فَاحْتَفَزْتُ عَلَى إِحْدَى رِجْلَيَّ، ثُمَّ تَطَاوَلْتُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ الْكَلَامَ لَيْسَ بِخَمْسٍ وَلَا سِتٍّ، وَلَكِنَّهُمَا كَلِمَتَانِ، فَنَظَرَ إِلَيَّ عَلِيٌّ، فَقُلْتُ: هَضْمٌ أَوْ قِصَاصٌ، فَقَالَ بِيَدِهِ وَعَقَدَ ثَلَاثِينَ: «قَالُونُ» ثُمَّ قَالَ: «أَرَأَيْتُمْ مَا عَدَدْتُمْ فَإِنَّهُ تَحْتَ قَدَمَيَّ»
مظاہر امیر خان
ایک انصاری صحابی نے کہا: جنگ جمل کے دن جب لوگ چیخنے لگے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کوئی ہو جو ان کی بات پانچ چھ لفظوں میں بیان کرے؟“ میں نے کہا: ”یا امیرالمؤمنین! بات دو لفظوں میں ہے: ہضم یا قصاص۔“ تو آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”جو کچھ تم نے گنا وہ میرے قدموں تلے ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4125
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «إسناده ضعیف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم: 2948 والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16858 وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 3894»
حدیث نمبر: 4126
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: لَمَّا ظَهَرَ عَلِيٌّ عَلَى أَهْلِ الْجَمَلِ، قَالَ: «لَا تُجْهِزُوا عَلَى جَرِيحٍ، وَلَا تَتَّبِعُوا مُدْبِرًا، وَمَا كَانَ فِي الْعَسْكَرِ فَهُوَ لَكُمْ، وَمَا كَانَ خَارِجًا فَلَيْسَ لَكُمْ، وَأُمَّهَاتُ الْأَوْلَادِ لَيْسَ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلٌ، وَتَعْتَدُّ النِّسْوَةُ مِنْ أَزْوَاجِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”زخمی کو قتل نہ کرو۔ پیٹھ دکھانے والے کا پیچھا نہ کرو۔ جو کچھ لشکر میں ہو وہ تمہارا ہے۔ جو باہر ہو تمہارا نہیں۔ لونڈیوں پر تمہارا کوئی حق نہیں۔ اور بیوہ عورتیں عدت چار ماہ دس دن گزاریں۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4126
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2947، 2950، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16843، 16845، 16846، 16847، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18590، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33950، 33952، 38933، 38945، 38971، 38980»
أبو البختري مرسل روایت کرتے ہیں
حدیث نمبر: 4127
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَارٌ، لِي قَالَ: أَتَيْتُ عَلِيًّا يَوْمَ صِفِّينَ بِأَسِيرٍ، فَقَالَ لَهُ: لَا تَقْتُلْنِي، فَقَالَ: " لَا أَقْتُلُكَ صَبْرًا إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ، أَفِيكَ خَبَرُ تَبَايُعٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لِلَّذِي جَاءَ بِهِ: «لَكَ سِلَاحُهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک قیدی سے فرمایا: ”میں تمہیں صبرًا قتل نہیں کروں گا، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں، کیا تم نے بیعت کی خبر دی ہے؟“ قیدی نے کہا: ”ہاں۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قیدی لانے والے سے فرمایا: ”اس کا اسلحہ تمہیں دے دیا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4127
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2951، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16853، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18592، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33945، 39016»
مجہول (غیر مسمى، "جار لی" کہہ کر روایت کی ہے)
حدیث نمبر: 4128
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَرْفَجَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: جَاءَ بِمَا كَانَ مِنْ رَثِّهِ أَهْلُ النَّهَرِ فَوَضَعَهُ فِي الرَّحَبَةِ، فَقَالَ: «مَنْ عَرَفَ شَيْئًا فَلْيَأْخُذْهُ , فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ حَتَّى بَقِيَتْ قِدْرٌ حِينًا حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ فَأَخَذَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان کی باقیات رحبہ میں رکھوا دیں اور اعلان فرمایا: ”جو اپنا مال پہچان لے، لے جائے۔“ چنانچہ لوگ لینے لگے یہاں تک کہ ایک ہانڈی باقی رہ گئی، پھر ایک شخص آیا اور لے گیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4128
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2952، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16857، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18588، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 39098»
حدیث نمبر: 4129
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ سُلَيْمَانُ بْنُ هِشَامٍ يَسْأَلُهُ عَنِ امْرَأَةٍ لَحِقَتْ بِالْحَرُورِيَّةِ، وَفَارَقَتْ زَوْجَهَا، وَشَهِدَتْ عَلَى قَوْمِهَا بِالشِّرْكِ، وَتَزَوَّجَتْ فِيهِمْ، ثُمَّ رَجَعَتْ تَائِبَةً، فَكَتَبَ إِلَيْهِ الزُّهْرِيُّ، وَأَنَا شَاهِدٌ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ فِتْنَةَ الْأُولَى ثَارَتْ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا كَثِيرٌ، فَرَأَوْا أَنْ يَهْدِرُوا أَمْرَ الْفِتْنَةِ، وَلَا يُقَامُ فِيهَا حَدٌّ عَلَى أَحَدٍ مِنْ فَرْجٍ اسْتَحَلَّهُ بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، وَلَا عَلَى قِصَاصٍ اسْتَحَلَّهُ بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، وَلَا مَالٍ اسْتَحَلَّهُ بِتَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، إِلَّا أَنْ يُوجَدَ شَيْءٌ بِعَيْنِهِ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَرُدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا وَأَنْ تَحُدَّ مَنِ افْتَرَى عَلَيْهَا»
مظاہر امیر خان
حضرت زہری رحمہ اللہ نے سلیمان بن ہشام کو لکھا: ”فتنے میں بدری صحابہ کی کثرت تھی، انہوں نے فیصلہ کیا کہ فتنے میں جو کچھ تاویل قرآن سے کیا گیا، اس پر حد یا قصاص نہ ہوگا، اور میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اس عورت کو شوہر کے نکاح میں لوٹا دو اور جو اس پر بہتان باندھے اسے حد لگاؤ۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4129
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2953، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16821، 16822، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18584، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28542»
حدیث نمبر: 4130
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَوْمَ صِفِّينَ عَلَى مِنْبَرٍ لَهُ عَجَلٌ تُجَرُّ بِهِ، فَقَالَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ أَقِمِ الصَّفَّ كَقَصِّ الشَّارِبِ؟ ثُمَّ قَالَ: " عَلَيَّ بِالسِّلَاحِ، فَأَلْقَوْا حَوْلَهُ مِثْلَ الْحَرَّةِ السَّوْدَاءِ، ثُمَّ قَالَ: خُذُوا فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَخْطَئُوا خَطِيئَةً بَلَغَتْ عَنَانَ السَّمَاءِ، فَأَقْبَلَ النَّاسُ فَأَخَذُوا، فَقَالَ: عَلَيْكُمُ الدَّجَّالَ " يَعْنِي هَاشِمَ بْنَ عُتْبَةَ الْأَعْوَرَ
مظاہر امیر خان
کسی نے دیکھا کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ صفین کے دن منبر پر تھے، انہوں نے کہا: ”اے بندۂ خدا! صف اس طرح درست کرو جیسے مونچھ کاٹتے ہو۔“ پھر کہا: ”ہتھیار لاؤ۔“ تو اتنے ہتھیار ڈالے گئے جیسے سیاہ پتھر ہوں، پھر کہا: ”ان لوگوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے، ان سے لڑو۔“ اور کہا: ”دجال کو لازم پکڑو۔“ یعنی ہاشم بن عتبہ الاعور کو۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4130
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2954، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38992»
(1) كذا في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند، وقال المحقق: في ص بالمثناة التحتانية في أوله، وأخشى أن يكون كقص الشارب فصحف .
سند منقطع/ضعیف ہے کیونکہ "أخبرني من رآه" میں واسطہ مبہم (مجهول) ہے۔
حدیث نمبر: 4131
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ، قَالَ: نا الْعَوَّامُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ الْهَمْدَانِيُّ، وَلَمْ أَرَ هَمْدَانِيًّا كَانَ أَفْضَلَ مِنْهُ، قُلْتُ: وَلَا مَسْرُوقٌ، قَالَ: وَلَا مَسْرُوقٌ، قَالَ: " اهْتَمَمْتُ بِأَمْرِ أَهْلِ صِفِّينَ وَمَا كُنْتُ أَعْرِفُ مَنِ الْفَضْلُ فِي الْفَرِيقَيْنِ، فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُرِيَنِي مِنْ أَمْرِهِمْ أَمْرًا أَسْكُنُ إِلَيْهِ، فَأُرِيتُ فِي مَنَامِي أَنِّي رُفِعْتُ إِلَى أَهْلِ صِفِّينَ فَإِذَا أَنَا بِأَصْحَابِ عَلِيٍّ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ وَمَاءٍ جَارٍ فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَا أَرَى، وَقَدْ قَتَلَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، قَالُوا: إِنَّا وَجَدْنَا رَبَّنَا رَءُوفًا رَحِيمًا، قُلْتُ: فَمَا فَعَلَ ذُو الْكَلَاعِ، وَحَوْشَبٌ يَعْنِي أَصْحَابَ مُعَاوِيَةَ، قَالُوا: أَمَامَكَ فَإِذَا سَهْمٌ كَالْحَنَاحِزِ فَهَبَطْتُ عَلَى الْقَوْمِ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ وَمَاءٍ جَارٍ، فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَا أَرَى وَقَدْ قَتَلَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، قَالُوا: إِنَّا وَجَدْنَا رَبَّنَا رَءُوفًا رَحِيمًا، قُلْتُ: فَمَا فَعَلَ أَهْلُ النَّهْرَوَانِ قَالُوا: أُلْقُوا بَرْحًا، أَوْ قَالَ كَمَا لَقَوْا بَرْحًا "
مظاہر امیر خان
عمرو بن شرحبیل رحمہ اللہ نے کہا: ”میں صفین کے معاملے میں متردد تھا، اللہ سے دعا کی کہ مجھے سکون بخشے، تو خواب میں دیکھا کہ اصحاب علی رضی اللہ عنہ سرسبز باغ اور بہتے پانی میں ہیں اور کہہ رہے ہیں: ہم نے اپنے رب کو مہربان پایا، اور اصحاب معاویہ کے بعض لوگ سامنے نظر آئے، اور اہل نہروان کے بارے میں کہا: وہ بری حالت میں پھینکے گئے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4131
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2955، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16818، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38999»
حدیث نمبر: 4132
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّقَ بَيْنَ الْخَيْلِ فَأَرْسَلَ مَا ضَمُرَ مِنْهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی دوڑ کرائی، دبلا گھوڑا حفیاء سے مسجد بنی زریق تک دوڑایا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4132
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 420، 2868، 2869، 2870، 7336، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1870، 1870، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1696، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4686، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3585، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2575، 2576، 2577، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1699، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2473، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2877، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2956، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4815، 4816، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4573، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34243»
حدیث نمبر: 4133
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، سَبَّقَ بَيْنَ الْخَيْلِ بِالْكُوفَةِ، وَجَعَلَ مِائَةَ قَصَبَةٍ، وَجَعَلَ لِآخِرِهَا قَصَبَةً أَلْفَ دِرْهَمٍ "
مظاہر امیر خان
کہا گیا کہ سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں گھوڑوں کی دوڑ کرائی، سو نیزے رکھے اور آخری نیزے پر انعام ایک ہزار درہم رکھا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4133
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 4134
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: «لَا بَأْسَ بِالدَّخِيلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْفَرَسَيْنِ»
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر دونوں گھوڑوں کے درمیان کوئی تیسرا گھوڑا شامل نہ ہو تو شرط کی دوڑ میں کوئی حرج نہیں۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4134
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 4135
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: قَالُوا لِجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ: إِنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا لَا يَرَوْنَ بِالدَّخِيلِ بَأْسًا، قَالَ: «هُمْ أَعَفُّ مِنْ ذَلِكَ»
مظاہر امیر خان
جب سیدنا جابر بن زید رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ صحابہ شرط والی دوڑ میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے تو انہوں نے فرمایا: ”وہ اس سے زیادہ پاکیزہ تھے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4135
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
حدیث نمبر: 4136
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: «كَانَ لَهُ بِرْذَوْنٌ يُسَابِقُ عَلَيْهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت علقمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان کے پاس ایک گھوڑا تھا جس پر وہ دوڑ میں شریک ہوتے تھے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4136
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2960، 2961، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34235»
حدیث نمبر: 4137
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: «كَانَ لَهُ بِرْذَوْنٌ يُرَاهِنُ عَلَيْهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ان کے پاس ایک گھوڑا (برذون) تھا جس پر وہ شرط لگایا کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4137
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2960، 2961، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34235»
حدیث نمبر: 4138
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: إِنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تَشْفِيَنِي مِنْ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَحْزَابِ وَانْصَرَفَ إِلَى قُرَيْظَةَ فَحَاصَرَهُمْ، فَوَلِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ حُكْمَهُمْ، فَحَكَمَ فِيهِمْ أَنْ يُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَأَنْ تُسْبَى الذَّرَارِيُّ، فَقَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ أَنْ يَقْتُلَ مِنْ مُقَاتِلَتِهِمْ، وَسَبَى ذَرَارِيَّهُمْ، ثُمَّ حُمِلَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَكَانَ فِي جَنَازَتِهِ يَوْمَئِذٍ مُنَافِقُونَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَا أَخَفَّهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فِيمَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: فِيمَا حَكَمَ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ وَهُمْ كَاذِبُونَ، وَقَدْ كَانَ سَعْدٌ كَثِيرَ اللَّحْمِ، عَبْلًا مِنَ الرِّجَالِ، عَظِيمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَحْمِلُونَهُ: «يَقُولُونَ مَا أَخَفَّهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِرُوحِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو غزوۂ احزاب کے دن تیر لگا، تو دعا کی: ”اے اللہ! مجھے نہ مار جب تک تو قریظہ اور نضیر سے مجھے تسکین نہ دے۔“ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریظہ کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں محصور کیا، تو ان کے فیصلے کے لیے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا، انہوں نے حکم دیا کہ مردوں کو قتل کیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا جائے۔ پھر ان کی وفات کے وقت منافقین نے کہا: ”کتنا ہلکا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، سعد کی روح کے لیے عرش ہل گیا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4138
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
یہ روایت مرسل ہے (کیونکہ حسن بصری نے صحابہ کا واقعہ بغیر واسطہ بیان کیا)
حدیث نمبر: 4139
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدِ اهْتَزَّ عَرْشُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کا عرش سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر لرز اٹھا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4139
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3803، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2466، 2466، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7029، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8167، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3848، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 158، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2963، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14370، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32979»
یہ سند صحیح ہے، خصوصًا کیونکہ أبو معاویة الضرير، الأعمش کے معتمد و مخصوص راوی ہیں، اور ان کے عنعنہ میں تدلیس کا خطرہ نہیں۔
حدیث نمبر: 4140
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: نا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ قَرِيبًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَنْصَارِ: «قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ»، فَجَاءَ حَتَّى قَعَدَ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ، قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِ، أَنْ تُقَتَّلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذُرِّيَّتُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ حَكَمْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب قریظہ کے لوگ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا کہ مرد قتل کیے جائیں اور عورتیں بچے قیدی بنائے جائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ دیا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4140
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3043، 3804، 4121، 6262، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1768، 1768، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7026، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2585، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5905، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5215، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2964، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11338،وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 37985»
قال ابن حجر: سنده حسن، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (4 / 7)
حدیث نمبر: 4141
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ الْقُرَظِيُّ، قَالَ: كُنْتُ فِيمَنْ عُرِضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَشَكُّوا فِيَّ فَنَظَرُوا إِلَى عَانَتِي فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فَخَلَّى سَبِيلِي "
مظاہر امیر خان
حضرت عطیہ قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں قریظہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، میرے بالغ نہ ہونے کی وجہ سے مجھے چھوڑ دیا گیا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4141
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1121، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4780، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3430، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5594، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4404، بدون ترقيم، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1584، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2507، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2541، 2542، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2965، وأحمد فى «مسنده» برقم: 19078، والحميدي فى «مسنده» برقم: 912، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33796، 34387»
حدیث نمبر: 4142
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَحَدَّثَنِي قَالَ: «كُنْتُ فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَشَكُّوا فِيَّ فَوَجَدُونِي لَمْ تَجْرِ عَلَيَّ الْمُوسَى فَخَلَّوْا عَنِّي»
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں نے ایک شخص سے ملاقات کی جو کہتا تھا: میں ان لوگوں میں سے تھا جن پر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا، مگر میرے نابالغ ہونے کی وجہ سے مجھے آزاد کر دیا گیا۔“
وضاحت:
اس روایت میں ایک مجہول راوی کا ذکر ہے: "لَقِيتُ رَجُلًا..." یعنی: سند مرسل یا منقطع کی نوعیت کی ہو گئی اس وجہ سے سند ضعیف ہو جاتی ہے
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4142
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 2584، 8264، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3429، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5593، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2966، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 11438، وأحمد فى «مسنده» برقم: 19307، 23632، والحميدي فى «مسنده» برقم: 913، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1502، وأخرجه الطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5138، وأخرجه الطبراني فى«الكبير» برقم: 439»
حدیث نمبر: 4143
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: نا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ ثَقِيفًا كَانَتْ حُلَفَاءَ لِبَنِي عَقِيلٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَصَابَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَقِيلٍ وَمَعَهُ نَاقَةٌ لَهُ، فَأَتَوْا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ بِمَ أَخَذْتَنِي وَأَخَذْتَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ؟ وَكَانَتِ النَّاقَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا سَبَقَتْ لَمْ تُمْنَعْ مِنْ حَوْضٍ شَرَعَتْ فِيهِ أَوْ كَلَأٍ رَتَعَتْ فِيهِ، قَالَ: " بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ، وَكَانَتْ ثَقِيفٌ أَسَرَتْ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِهِ وَهُوَ مَحْبُوسٌ، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ: «لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ كُنْتَ أَنْتَ قَدْ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ» ثُمَّ مَرَّ بِهِ أُخْرَى، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي، قَالَ: «تِلْكَ حَاجَتُكَ» ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَفْدِيَهُ فَفَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمْسَكَ النَّاقَةَ لِنَفْسِهِ، وَهِيَ الْعَضْبَاءُ، فَأَغَارَ عَدُوٌّ عَلَى سَرْحِ الْمَدِينَةِ فَأَصَابُوهَا، وَكَانَ يُرِيحُونَ إِبِلَهُمْ لَيْلًا، وَكَانَتْ عِنْدَ الْمُشْرِكِينَ امْرَأَةٌ سَبَوْهَا، فَانْطَلَقَتْ فَأَتَتِ النَّعَمَ، فَجَعَلَتْ لَا تَأْتِي إِلَى بَعِيرٍ إِلَّا رَغَا، فَأَتَتْهَا فَلَمْ تَرْغُ، فَاسْتَوَتْ عَلَيْهَا فَأَرْسَلَتْهَا، فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ قَالَ النَّاسُ: الْعَضْبَاءُ الْعَضْبَاءُ، قَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ أَنْجَانِي اللَّهُ عَلَيْهَا لَأَنْحَرَنَّهَا، فَأَخْبَرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «بِئْسَ مَا جَزَيْتِهَا، لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بنو ثقیف کے ساتھ بنو عقیل کا جاہلیت میں حلف تھا، مسلمانوں نے ایک شخص کو اس کی اونٹنی کے ساتھ پکڑ لیا، اس نے کہا: ”یا محمد! تم نے مجھے اور حاجیوں کی فاتح اونٹنی کو کیوں پکڑا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے حلیف ثقیف کی خیانت کے بدلے۔“ پھر وہ شخص مسلمان قیدیوں کے بدلے آزاد کیا گیا، اور اونٹنی (عضباء) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے رکھ لی، پھر وہ اونٹنی دشمن نے چرا لی، اور ایک قیدی عورت اس پر سوار ہو کر مدینہ آگئی۔ جب اس نے نذر کی کہ اگر بچ گئی تو اونٹنی کو ذبح کرے گی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برا بدلہ دیا، نذر میں گناہ اور ملکیت نہ رکھنے میں وفا جائز نہیں۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4143
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1641، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1004، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4391، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7935، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3821، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3316، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1568، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2124، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2820، 2967، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4391، وأحمد فى «مسنده» برقم: 20141، والحميدي فى «مسنده» برقم: 851، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12272، 12295»
حدیث نمبر: 4144
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا مُعَاوِيَةُ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ بِصِفِّينَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذَّنَّا وَأَذَّنُوا، وَأَقَمْنَا فَأَقَامُوا، فَصَلَّيْنَا وَصَلَّوْا، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا الْقَتْلَى بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ حِينَ انْصَرَفَ مَا تَقُولُ فِي قَتْلَانَا وَقَتْلَاهُمْ؟ فَقَالَ: «مَنْ قُتِلَ مِنَّا وَمِنْهُمْ يُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ دَخَلَ الْجَنَّةَ»
مظاہر امیر خان
صفین کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، اذان دی گئی، دونوں لشکروں نے نماز پڑھی، پھر میں نے عرض کیا: ”ہمارے اور ان کے مقتولین کے بارے میں کیا حکم ہے؟“ تو فرمایا: ”جو ہم میں سے یا ان میں سے اللہ کا چہرہ اور آخرت چاہتا تھا، وہ جنت میں جائے گا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4144
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2968، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 39035، والطبراني فى«الكبير» برقم: 688»
حدیث نمبر: 4145
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ صِفِّينَ وَكَانَ مَعَ عَلِيٍّ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَجْمِعُوا رَأْيَكُمْ فَوَاللَّهِ مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ غَيْرَ أَمْرِكُمْ هَذَا، فَاتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ» وَغَمَدَ سَيْفَهُ، وَانْصَرَفَ إِلَى أَهْلِهِ
مظاہر امیر خان
سیدنا سهل بن حنیف رضی اللہ عنہ صفین کے دن فرماتے ہیں: ”اے لوگو! اپنی رائے پر جمع ہو جاؤ، اللہ کی قسم! ہم نے اپنی تلواریں کندھوں پر رکھ کر کوئی ایسا راستہ اختیار نہیں کیا جسے ہم پہچانتے نہ ہوں، لہٰذا اپنی رائے پر شک کرو۔“ پھر تلوار نیام میں رکھ کر اپنے گھر چلے گئے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4145
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3181، 3182، 4189، 4844، 7308، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1785، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11440، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2969، والحميدي فى «مسنده» برقم: 408، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38002، 39026، 39069»
قال ابن حجر: صالح بن موسى متروک، أعمش کی عن سے روایت بھی ضعف کا سبب ہے۔
حدیث نمبر: 4146
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَعْلَمَ بِاخْتِلَافِ النَّاسِ مِنْهُ، قُلْتُ: بَايَعَ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ عَلِيًّا؟ قَالَ: «صَعِدَا إِلَى عَلِيٍّ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، فَلَمَّا نَزَلَا قَالَ النَّاسُ بَايَعَا بَايَعَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا حسن بن محمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا طلحہ اور زبیر نے علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی؟ فرمایا: ”وہ دونوں علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی بالاخانے میں گئے، جب نیچے اترے تو لوگوں نے کہا: انہوں نے بیعت کر لی۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4146
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
حدیث نمبر: 4147
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: «كَانَتِ الْعَرَبُ يَوْمَ صِفِّينَ مَحْضَةً»
مظاہر امیر خان
حسن بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”صفین کے دن عرب مکمل طور پر متحد تھے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4147
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
حدیث نمبر: 4148
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَكُونُ أُمَّتِي فِرْقَتَيْنِ تَخْرُجُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ تَلِي قَتْلَهَا أَوْلَاهُمَا بِالْحَقِّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت دو گروہوں میں تقسیم ہو جائے گی، ان کے درمیان سے ایک مارقہ (باغی گروہ) نکلے گا، جسے ان دونوں میں سے حق کے زیادہ قریب گروہ قتل کرے گا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 4148
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3344، 3610، 4351، 4667، 5058، 6163، 6931، 6933، 7432، 7562، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1064، ومالك فى «الموطأ» برقم: 694، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2373، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 25، 6735، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4667، 4764، 4765، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 169، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2903، 2904، 2972، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11164، والحميدي فى «مسنده» برقم: 766، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 39064، 39075، 39087»