حدیث نمبر: 4069
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَيْهِمْ: «أَنِ اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ مَفَازًا»
مظاہر امیر خان
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”دشمن کے درمیان اور اپنے درمیان بیابان کو فاصلہ رکھو۔“
وضاحت:
نام: أبو بكر بن عمرو بن عتبة بن مسعود الثقفي نسب: ثقفی، یعنی وہی قبیلہ جس سے المغیرہ بن شعبہ اور الحجاج بن یوسف بھی تعلق رکھتے تھے۔ طبقہ: تابعی ثقاہت: ابن حجر: انہیں "ثقة فقيه من فقهاء المدينة" (ثقہ اور مدینہ کے فقہاء میں سے) قرار دیتے ہیں، امام الذہبی: نے بھی ان کا ذکر مثبت انداز میں کیا ہے، اور ان سے مروی احادیث صحیحین میں بھی موجود ہیں ◄ ان کے بارے میں تفصیلات کتبِ رجال میں، جیسے تهذيب الكمال، تقريب التهذيب، اور سير أعلام النبلاء میں ملتی ہیں۔
حدیث نمبر: 4070
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي قَتْلَى أُحُدٍ {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ} [آل عمران: 169] وَنَزَلَ فِيهِمْ {وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ} [آل عمران: 140] قَالَ: قُتِلَ يَوْمَئِذٍ سَبْعُونَ رَجُلًا أَرْبَعَةٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، وَالشَّمَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ الْأَسَدِيُّ، وَسَائِرُهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ "
مظاہر امیر خان
حضرت ابو الضحی رحمہ اللہ سے روایت ہے: احد کے شہداء کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی «وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ» اور ان پر یہ بھی «وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ»، اس دن ستر آدمی شہید ہوئے، چار مہاجرین سے تھے: سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ، سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ، سیدنا شماس بن عثمان رضی اللہ عنہ، اور سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ، باقی سب انصار سے تھے۔
حدیث نمبر: 4071
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قُلْتُ: أُصَلِّي وَعَلَيَّ قَرْنٌ فِيهِ سَهْمٌ فِي نَصْلِهِ دَمٌ؟ قَالَ: «لَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: اگر کپڑے یا جسم پر زخم ہو اور اس میں خون لگا ہو تو نماز ہو جائے گی؟ فرمایا: ”نہیں۔“
حدیث نمبر: 4072
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ " لَمَّا نَزَلَتْ {إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ} [التوبة: 39] قَالَ الْمُنَافِقُونَ: فَقَدْ بَقِيَ مِنَ النَّاسِ نَاسٌ لَمْ يَنْفِرُوا فَهَلَكُوا، وَكَانَ قَوْمٌ تَخَلَّفُوا {لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ} [التوبة: 122] وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي أُولَئِكَ {وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ} [الشورى: 16] "
مظاہر امیر خان
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے: جب یہ آیت نازل ہوئی «إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ» تو منافقین نے کہا: ”کچھ لوگ ہیں جو جہاد کے لیے نہیں نکلے تو کیا وہ ہلاک ہو گئے؟“ حالانکہ ایک گروہ ایسا تھا جو دین کا علم حاصل کرنے کے لیے پیچھے رہ گیا تھا «لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ»، اور ان کے بارے میں اللہ نے فرمایا «وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ»۔
حدیث نمبر: 4073
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اشْحَذْ سَيْفَكَ , فَقِيلَ لَهُ: وَمَا ذَاكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «قَدْ قُذِفَ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنُ، وَنَزَعَ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّكُمُ الرُّعْبَ» قَالُوا: وَبِمَ ذَاكَ قَالَ: «بِحُبِّكُمُ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَتِكُمُ الْمَوْتَ، وَطُوبَى لِمَنْ خَرَسَ لِسَانُهُ، وَبَكَى عَلَى خَطِيئَتِهِ، وَوَسِعَهُ بَيْتُهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: انہوں نے کہا: ”اپنی تلوار کو تیز کرو۔“ پوچھا گیا: کیوں اے ابو عبداللہ؟ فرمایا: ”تمہارے دلوں میں بزدلی ڈال دی گئی ہے اور تمہارے دشمنوں کے دلوں سے خوف نکال لیا گیا ہے۔“ کہا: وہ کیوں؟ فرمایا: ”دنیا کی محبت اور موت کی ناپسندیدگی کی وجہ سے۔“ خوشخبری ہے اس کے لیے جس کی زبان خاموش ہو، اپنی خطاؤں پر روئے اور جسے اس کا گھر کافی ہو۔
حدیث نمبر: 4074
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ فِئَةٍ»، وَكَانَ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَقُولُ: وَجْهِيَ لِوَجْهِكَ الْوِقَاءُ , وَنَفْسِي لِنَفْسِكَ الْفِدَاءُ
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو طلحہ کی آواز لشکر میں ایک جماعت سے بہتر ہے۔“ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بیٹھتے اور کہتے: ”میرا چہرہ آپ کے چہرے کے لیے ڈھال ہے اور میری جان آپ کی جان کے فدا ہے۔“
حدیث نمبر: 4075
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، قَالَ: نَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي رِيدَرْسَ (1)، قَالُوا: سَأَلُوا أَسْمَاءَ عَنْ أَشَدِّ يَوْمٍ أَتَى عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: « إِنِّي أَظُنُّ أَنِّي أَذْكُرُ ذَلِكَ، بَيْنَا هُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ، فَقَالُوا: إِنَّهُ يَقُولُ كَذَا، وَيَقُولُ كَذَا فِيمَا يَكْرَهُونَ، فَقُومُوا إِلَيْهِ نَسْأَلُهُ، فَذَهَبَ جَمَاعَةٌ إِلَيْهِ، فَقَالَ: تَقُولُ كَذَا، وَتَقُولُ كَذَا، قَالَ: « نَعَمْ « وَكَانَ لَا يَكْتُمُهُمْ شَيْئًا فَامْتَدُّوهُ بَيْنَهُمْ، وَجَاءَ الصَّرِيخُ إِلَى أَبِي، أَدْرِكْ صَاحِبَكَ، قَالَتْ: فَخَرَجَ أَبِي يَسْعَى، وَلَهُ غَدَائِرُ، فَنَادَى: وَيْلَكُمْ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ ؟ قَالَتْ: فَلَهَوْا عَنْهُ وَأَقْبَلُوا إِلَى أَبِي، فَلَقَدْ أَتَانَا وَهُوَ يَقُولُ: تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ وَإِنَّ لَهُ الْغَدَائِرَ، وَإِنَّهُ لَيَقُولُ هَكَذَا وَيَمُدُّهَا فَتَتْبَعُهُ، وَقَالَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ .
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: لوگوں نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے سخت دن کون سا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ”میں گمان کرتی ہوں کہ وہ دن یاد ہے جب آپ مسجد میں تھے اور ان میں سے کچھ لوگ موجود تھے۔“ وہ کہنے لگے: ”وہ یہ اور یہ کہتا ہے جسے ہم ناپسند کرتے ہیں۔“ تو گروہ کی صورت میں آپ کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا: ”کیا تم یہ کہتے ہو؟“ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور آپ ان سے کچھ نہیں چھپاتے تھے۔ پھر انہوں نے آپ کو پکڑا۔ چیخنے والا میرے والد کے پاس آیا اور کہا: ”اپنے ساتھی کی مدد کو پہنچو۔“ میرے والد دوڑتے ہوئے آئے۔ ان کی چوٹیوں میں بال تھے۔ اور پکار کر کہا: ”تم ایک شخص کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟“ پھر وہ ان سے مشغول ہو گئے۔ اور میرے والد کی طرف متوجہ ہو گئے۔ وہ ہمیں آئے اور کہتے جا رہے تھے: ”تُو بَرَکْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ۔“ ان کے سر میں چوٹی تھی۔ وہ اپنے ہاتھ سے یوں کرتے۔
حدیث نمبر: 4076
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةَ بْنَ بَدْرٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ، وَأَعْطَى الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: تُعْطَى غَنَائِمُنَا أَقْوَامًا تَقْطُرُ دِمَاؤُهُمْ مِنْ سُيُوفِنَا، أَوْ دِمَاؤُنَا مِنْ سُيُوفِهِمْ، فَاجْتَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: «هَلْ فِيكُمْ إِلَّا مِنْكُمْ؟» فَقَالُوا: لَا , إِلَّا فُلَانُ ابْنُ أُخْتِنَا، فَقَالَ: «إِنَّ ابْنَ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ» ثُمَّ قَالَ: «أَمَا تَرْضَوْنَ يَا مَعَاشِرَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَذْهَبُونَ أَنْتُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى دِيَارِكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «لَوْ أَخَذَ النَّاسُ وَادِيًا، وَأَخَذَتِ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ، الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے مال غنیمت میں سے سیدنا عیینہ بن بدر اور سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہما کو سو اونٹ دیے۔ کچھ انصار نے کہا: ”ہماری غنیمت ان لوگوں کو دی جا رہی ہے جن کے خون ابھی ہماری تلواروں سے ٹپک رہے تھے یا ہمارے خون ان کی تلواروں سے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا۔ فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی غیر موجود ہے؟“ کہنے لگے: ”نہیں، سوائے ہمارے فلاں بھانجے کے۔“ فرمایا: ”بھانجے بھی قوم میں سے ہوتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”اے انصار کے گروہ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں لے جاؤ؟“ سب نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!“ آپ نے فرمایا: ”اگر لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار کسی گھاٹی میں تو میں انصار کی گھاٹی اختیار کروں گا۔“ انصار میرے جسم و جان کا حصہ ہیں۔ اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی میں سے ہوتا۔
حدیث نمبر: 4077
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ حِينَ مَنَعَهُ النَّاسُ الزَّكَاةَ أَرَادَ أَنْ يُقَاتِلَهُمْ، فَقِيلَ لَهُ: أَلَيْسَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا» قَالَ: فَهَذَا مِنْ حَقِّهَا أَنْ لَا يُفَرِّقُوا بَيْنَ مَا جَمَعَ اللَّهُ، وَلَوْ مَنَعُونِي شَيْئًا مِمَّا أَقَرُّوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهِ
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تو میں نے ان سے قتال کا ارادہ کیا۔“ کہا گیا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں، پس جب وہ یہ کہہ دیں تو اپنے خون اور مال مجھ سے بچا لیتے ہیں مگر حق کے ساتھ؟“ تو فرمایا: ”زکوٰۃ دینا بھی اسی کا حق ہے، اور اگر وہ ایک چیز بھی روکیں جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیا کرتے تھے تو میں ان سے قتال کروں گا۔“
وضاحت:
یہ روایت ضعیف ہے (بسبب الإرسال و الإبھام) — یعنی سند میں انقطاع ہے۔ متناً: یہ اثر کثرتِ طرق، صحیحین میں اس کی مکمل روایت، اور اجماعِ امت کی تائید کی وجہ سے درست و معتبر ہے۔ وله شواهد من حديث عبد الله بن عمر بن الخطاب، فأما حديث عبد الله بن عمر بن الخطاب،«أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 25، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 22، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 175»
حدیث نمبر: 4078
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ بِالْجِعْرَانَةِ قَسْمًا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: " اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ، فَقَالَ: «وَيْلَكَ، وَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ؟» فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَهُ، قَالَ: لَا، إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابًا لَهُ يَقْرَأُونَ الْقُرْآنَ مَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ میں مال تقسیم کیا۔ ایک آدمی آیا اور کہا: ”اے محمد انصاف کرو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تجھ پر! اگر میں انصاف نہ کروں تو کون کرے گا؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اس جیسے لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4079
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيُّ، وَعُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيُّ، وَزَيْدُ الْخَيْرِ الطَّائِيُّ، فَغَضِبَ قُرَيْشٌ، فَقَالُوا: يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لِأَتَأَلَّفَهُمْ» فَجَاءَ رَجُلٌ كَثُّ اللِّحْيَةِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَنْ يُطِيعُ اللَّهَ إِنْ عَصَيْتُهُ؟ أَيَأْمَنِّي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي؟» ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِي قَتْلِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا، إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے ایک مٹی میں لپٹی ہوئی سونا بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کیا: سیدنا اقرع بن حابس، سیدنا عیینہ بن بدر، سیدنا علقمہ بن علاثہ، اور سیدنا زید الخیر رضی اللہ عنہم۔ قریش ناراض ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے انہیں دل جوئی کے لیے دیا۔“ ایک گھنی داڑھی والا، ابھری ہوئی گالوں والا، اندر کو دھنسی آنکھوں والا، ابھری ہوئی پیشانی والا، سر منڈایا ہوا شخص آیا اور کہا: ”اللہ سے ڈریے اے محمد۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو اور کون اللہ کا فرمانبردار ہوگا؟“ پھر وہ پلٹا تو ایک شخص نے اجازت مانگی کہ اسے قتل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اس کی نسل سے ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔“ اگر میں ان کو پا لوں تو قوم عاد کی طرح قتل کر دوں گا۔
حدیث نمبر: 4080
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَخْرُجُ مِنَ الْمَشْرِقِ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ، قِيلَ: مَا سِيمَاهُمْ؟ فَقَالَ: سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ أَوِ التَّسْبِيدُ "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق سے ایک قوم نکلے گی جو قرآن پڑھے گی مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔“ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ پھر کبھی واپس نہ آئیں گے یہاں تک کہ تیر اپنی کمان میں واپس لوٹے۔ پوچھا گیا: ”ان کی نشانی کیا ہے؟“ فرمایا: ”سر منڈوانا یا بال چھوٹے کروانا۔“
حدیث نمبر: 4081
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: انْطَلَقَ بِي أَنَسٌ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ فِي أَرْبَعِينَ رَاكِبًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَفَرَضَ لَنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِفَجِّ النَّاقَةِ صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَدَخَلَ فُسْطَاطَهُ، فَقَامَ الْقَوْمُ فَصَلُّوا إِلَى رَكْعَتَيْهِ رَكْعَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ، فَقَالَ لِابْنِهِ أَبِي بَكْرٍ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: يُضِيفُونَ إِلَى رَكْعَتَيْكَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ أَنَسٌ: قَبَّحَ اللَّهُ الْوُجُوهَ، وَاللَّهِ مَا أَصَابَتِ السُّنَّةَ، وَلَا قَبِلَتِ الرُّخْصَةَ؛ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ قَوْمًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ يَمْرُقُونَ مِنْهُ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ چالیس انصاریوں کے ساتھ سیدنا عبدالملک بن مروان کے پاس گئے۔ عبدالملک نے سب کے وظائف مقرر کیے۔ واپسی پر فج الناقہ پہنچے تو انس نے دو رکعت نماز پڑھی۔ لوگ کھڑے ہو کر مزید دو رکعتیں پڑھنے لگے۔ انس نے کہا: ”اللہ ان کے چہروں کو برباد کرے، نہ سنت کو اپنایا نہ رخصت کو قبول کیا۔“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”کچھ لوگ دین میں غلو کریں گے اور دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 4082
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِقَوْمٍ سُودِ الرُّءُوسِ غَيْرَكُمْ، كَانَتْ تَنْزِلُ نَارٌ مِنَ السَّمَاءِ فَتَأْكُلُهَا»، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ أَسْرَعَ النَّاسُ فِي الْغَنَائِمِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ، فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال: 69]
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے کسی قوم کے لیے مال غنیمت حلال نہ تھا۔“ ان پر آسمان سے آگ اترتی تھی جو اسے کھا جاتی تھی۔ بدر کے دن جب لوگوں نے مال غنیمت جلدی لوٹی۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: «لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» پھر فرمایا: «فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا»۔
وضاحت:
یہاں الأعمش مدلس ہیں، اور انہوں نے "عن" کے ساتھ روایت کی ہے۔ وله شواهد من حديث جابر بن عبد الله بن عمرو بن حرام الأنصاري، فأما حديث جابر بن عبد الله بن عمرو بن حرام الأنصاري، «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 335، 438، 3122، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 521»
حدیث نمبر: 4083
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ} [الأنفال: 68] " أَنِّي أَحْلَلْتُ لَكُمْ الْغَنَائِمَ فِي عِلْمِي، {لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ} [الأنفال: 68] مِنَ الْأُسَارَى، {عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: 68] قَالَ: " يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ
مظاہر امیر خان
حضرت سعید بن ابی سعید رحمہ اللہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنے علم میں پہلے ہی مال غنیمت تمہارے لیے حلال کر دیا تھا «لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ»، اگر یہ بات پہلے سے نہ ہوتی تو بدر کے دن قیدیوں کے معاملے میں تمہیں بڑا عذاب پہنچتا۔
حدیث نمبر: 4084
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ شِعَارَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ كَانَ: يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ
مظاہر امیر خان
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا یومِ مسیلمہ کا شعار تھا: ”اے سورہ بقرہ والو!“
حدیث نمبر: 4085
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: كَانَ شِعَارُ الْمُهَاجِرِينَ: عَبْدَ اللَّهِ، وَشِعَارُ الْأَنْصَارِ: عَبْدَ الرَّحْمَنِ
مظاہر امیر خان
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: مہاجرین کا شعار تھا: ”عبداللہ۔“ اور انصار کا شعار تھا: ”عبدالرحمن۔“
وضاحت:
حجاج بن أرطاة → ضعیف الحفظ، اور مدلس بھی ہیں۔ حسن بصری → سمرة → ان کے بارے میں مشہور ہے کہ سنداً ارسال کرتے ہیں، اور سمرة سے ان کا سماع محل نظر ہے محدثین (جیسے امام بخاری، ابن معین، وغیرہ) نے الحسن عن سمرة کے اتصال پر اختلاف کیا ہے
حدیث نمبر: 4086
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى نِسَاءِ بَنِي الْأَشْهَلِ لَمَّا فَرَغَ مِنْ أُحُدٍ، فَسَمِعَهُنَّ يَبْكِينَ عَلَى مَنِ اسْتُشْهِدَ مِنْهُنَّ بِأُحُدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلَكِنَّ حَمْزَةَ لَيْسَ لَهُ بَوَاكِي» فَسَمِعَهُ مِنْهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَذَهَبَ إِلَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَذْهَبْنَ إِلَى بَيْتِ حَمْزَةَ فَلْيَبْكِينَ عَلَيْهِ، فَذَهَبْنَ يَبْكِينَ عَلَيْهِ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُكَاءَهُنَّ، فَقَالَ: «مَنْ هَؤُلَاءِ؟» فَقِيلَ: نِسَاءُ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ عَلَى حَمْزَةَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «لَا بُكَاءَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْكُنَّ وَعَنْ أَوْلَادِكُنَّ وَأَوْلَادِ أَوْلَادِكُنَّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد سے واپسی پر بنی اشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے۔ وہ اپنے شہداء پر رو رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن حمزہ کا کوئی رونے والا نہیں۔“ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے انصار کی عورتوں کو حکم دیا کہ حمزہ پر جا کر روئیں۔ وہ جا کر روئیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رونے کی آواز سنی تو پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ کہا گیا: ”انصار کی عورتیں ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب رونا بند کرو۔“ اللہ تم پر، تمہاری اولاد اور ان کی اولاد پر اپنی رضا فرمائے۔
حدیث نمبر: 4087
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ إِذَا هُوَ بِنِسَاءِ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ قَتْلَاهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بَوَاكِيَ لَهُ»، فَسَمِعَ ذَلِكَ سَيِّدُ الْأَنْصَارِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، فَأَتَى نِسَاءَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكُنَّ أَنْ لَا تَبْكِيَنَّ امْرَأَةٌ مِنْكُنَّ شَجْوًا حَتَّى تَبْدَأَ بِشَجْوِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْنَ يَبْكِينَ عَلَى حَمْزَةَ، فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟»، فَأَخْبَرُوهُ بِمَا كَانَ مِنْ سَعْدٍ، فَقَالَ: «مَا أَرَدْتُ ذَلِكَ»، وَنَهَى عَنِ النَّوْحِ
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُحد سے واپس ہوئے تو انصار کی عورتوں کو اپنے شہیدوں پر روتے ہوئے پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن حمزہ کا کوئی رونے والا نہیں۔“ سیدنا سعد نے عورتوں سے کہا: ”پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غم پر روئو۔“ پس وہ حمزہ پر رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: ”میں نے یہ نہیں چاہا تھا۔“ اور نوحہ کرنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 4088
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، وَخَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كُنَّا إِذَا تَصَعَّدْنَا كَبَّرْنَا، وَإِذَا تَصَوَّبْنَا سَبَّحْنَا»
مظاہر امیر خان
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے: ”ہم جب بلندی پر چڑھتے تو تکبیر کہتے اور جب نیچے اترتے تو تسبیح کرتے۔“
حدیث نمبر: 4089
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ أَنَّهُ اجْتَمَعَ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ فِي الْحِجْرِ، وَتَعَاقَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاتِ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى، لَيَقْتُلُنَّ مُحَمَّدًا، فَبَلَغَ ذَلِكَ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، فَدَخَلَتْ عَلَى أَبِيهَا، فَأَخْبَرَتْهُ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَمَا هُمْ جُلُوسٌ فِي الْحِجْرِ حَتَّى جَاءَهُمْ، فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ ضَرَبَ اللَّهُ بِأَذْقَانِهِمْ فِي صُدُورِهِمْ، فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ، شَاهَتِ الْوُجُوهُ»، وَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ، فَرَمَاهُمْ بِهَا، فَقَالَ: مَا أَصَابَتْ تِلْكَ الْحَصْبَاءُ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: قریش کے سرداروں نے حطیم میں جمع ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا عہد کیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور ان کے پاس جا کر مٹھی بھر مٹی ان پر پھینکی۔ فرمایا: ”چہرے بگڑ جائیں۔“ پھر جس پر مٹی پڑی وہ بدر کے دن کافر ہو کر مارا گیا۔
حدیث نمبر: 4090
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَتْ بَدْرٌ مَتْجَرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدَ أَبَا سُفْيَانَ أَنْ يَلْقَاهُ بِهِ، فَلَقِيَهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ بِهَا جَمْعًا عَظِيمًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَأَتَوْا بَدْرًا، فَلَمْ يَلْقَوْا بِهَا أَحَدًا، فَرَجَعَ الْجَبَانُ، وَمَضَى الْجَرِيءُ، فَتَسَوَّقُوا بِهَا، فَلَمْ يَلْقَوْا أَحَدًا، فَنَزَلَتِ {الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا، وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ} [آل عمران: 174] "
مظاہر امیر خان
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے: بدر زمانہ جاہلیت میں تجارتی میلہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسفیان سے وہاں ملاقات کا وعدہ کیا تھا۔ جب مسلمانوں کو دشمن کی کثرت کا بتایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو نکالا۔ لیکن وہاں کوئی نہ ملا۔ بہادر آگے بڑھے، بزدل پیچھے رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ»۔
حدیث نمبر: 4091
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنْ كَانَ أَبَوَاكَ لَمِنْهُمْ
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”تمہارے ماں باپ ان ہی میں سے تھے۔“
حدیث نمبر: 4092
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا وَهْبُ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كَانَ عَبْدُ اللَّهِ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے: ”سیدنا عبداللہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اللہ کی دعوت پر لبیک کہا۔“
حدیث نمبر: 4093
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدَّتِهِ، قَالَتْ: أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصِلُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»
مظاہر امیر خان
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میری والدہ قریش کے عہد میں مجھ سے ملاقات کے لیے آئیں۔“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں صلہ رحمی کرو۔“
وضاحت:
ہشیم کی تدلیس کے باوجود صحیحین میں موجودگی کے باعٹ حدیث صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 4094
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَالِدُ بْنُ يُونُسَ (1)، عَنْ عِكْرِمَةَ « أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَغَيْرِهِ، فَقَبِلَ هَدِيَّتَهُمْ » .
مظاہر امیر خان
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مشرکین بشمول ابوسفیان کو تحفے دیے۔ اور انہوں نے تحفہ قبول کر لیا۔
حدیث نمبر: 4095
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَافِقُ بَيْنَ أَصْحَابِهِ رُفَقَاءَ، فَجَاءَتْ رُفْقَةٌ يَهْرِفُونَ بِرَجُلٍ يَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا مِثْلَ فُلَانٍ، إِنْ نَزَلْنَا فَصَلَاةٌ، وَإِنْ رَكِبْنَا فَقِرَاءَةٌ، وَلَا يُفْطِرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ يَرْحَلُ لَهُ؟ وَمَنْ كَانَ يَعْمَلُ لَهُ؟» وَذَكَرَ سُفْيَانُ أَشْيَاءَ فَقَالُوا: نَحْنُ، فَقَالَ: «كُلُّكُمْ خَيْرٌ مِنْهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابوقلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو سفری ساتھی بنایا کرتے۔ ایک ساتھی کی بڑی تعریف کی گئی کہ وہ نماز، تلاوت اور روزے میں بہت آگے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کے لیے سامان کون اٹھاتا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”ہم۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سب اس سے بہتر ہو۔“
حدیث نمبر: 4096
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قُرْطٍ الْأَزْدِيَّ، قَالَ: أَزْحَفَ عَلَى بَكْرٍ لِي وَأَنَا مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَسَبَقَنِي الْجَيْشُ، فَأَرَدْتُ تَرْكَهُ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُقِيمَهُ، فَقَامَ فَلَمْ أَزَلْ أَتَّبِعِ الْأَثَرَ حَتَّى لَحِقْتُهُمْ وَهُمْ يُقَاتِلُونَ الرُّومَ فِي شَرَفٍ، وَنِسَاءُ خَالِدٍ وَنِسَاءُ أَصْحَابِهِ مُشَمِّرَاتٍ يَحْمِلْنَ الْمَاءَ لِلْمُهَاجِرِينَ وَيَرْتَجِزْنَ "
مظاہر امیر خان
حضرت شریح بن عبید رحمہ اللہ سے روایت ہے: عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔“ میرا اونٹ پیچھے رہ گیا۔ میں نے اللہ سے دعا کی۔ اللہ نے اونٹ کھڑا کر دیا۔ میں لشکر کے نشانوں پر چلتے ہوئے پہنچا۔ وہ رومیوں سے لڑ رہے تھے۔ اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی خواتین پانی لا رہی تھیں اور نعرے لگا رہی تھیں۔
حدیث نمبر: 4097
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ الرُّومَ، حَرَبُوا إِصْطِيبَانَ الْأَحْزَمَ - وَكَانَ مَلِكَهُمْ - وَأَلْقَوْهُ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَمَرَّ بِهِ تُجَّارٌ فَعَرَفُوهُ، فَحَمَلُوهُ حَتَّى أَخْرَجُوهُ إِلَى أَرْضِ حَوْرَانَ، فَأَتَى مُحَمَّدَ بْنَ مَرْوَانَ فَاسْتَغَاثَ بِهِ، وَكَانَ يَدْعُوهُ أَخِي، فَقَالَ إِصْطِيبَانُ لِمُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ: أَتَأْذَنُ لِي بِالدُّخُولِ فِي السَّيْرِ فِي أَرْضِكَ حَتَّى أَنْفُذَ إِلَى أَرْضِ الرُّومِ؟ فَقَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آذَنَ لَكَ حَتَّى يَأْذَنَ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ إِصْطِيبَانُ: إِنِّي قَدْ عَاهَدْتُ اللَّهَ لَئِنْ رَدَّنِي إِلَى مُلْكِي لَا أَدَعُ فِي أَرْضِ الرُّومِ مُسْلِمًا يُصَلِّي الْقِبْلَةَ إِلَّا أَعْتَقْتُهُ، وَجَهَّزْتُهُ عَلَى أَنْ يُقَاتِلُوا مَعِي، فَاسْتَأْذَنَ لَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، فَأَذِنَ لَهُ فَعَبَرَ فِي أَرْضِهِ حَتَّى بَلَغَ أَرْضَ الرُّومِ نَحْوَ أَرْمِينِيَةَ الرَّابِعَةِ، فَاسْتَنْصَرَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَاتَلُوا مَعَهُ حَتَّى ظَفَرَ بِعَدُوُّهِ مِنَ الرُّومِ، وَجَعَلَ يَقْتُلُ عَدُوَّهُ وَأَصْحَابَ شَوْكَتِهِ حَتَّى ظَهَرَ عَلَيْهِمْ، وَاسْتَمْكَنَ مِنْ مُلْكِهِمْ وَدَانَتْ لَهُ أَرْضُ الرُّومِ، فَأَعْتَقَ عِنْدَ ذَلِكَ أُسَارَى الْمُسْلِمِينَ، أَتَى بِهِمْ مِنْ أَرْضِ الرُّومِ كُلِّهَا فَأَعْتَقَهُمْ وَحَمَلَهُمْ حَتَّى بَلَغُوا أَرْضَ قِنَّسْرِينَ، وَأَعْطَاهُمْ خَمْسَةَ دَنَانِيرَ وَاسْتَحْسَنَ ذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ وَالْمُسْلِمُونَ "
مظاہر امیر خان
حضرت صفوان بن عمرو رحمہ اللہ سے روایت ہے: روم والوں نے اپنے بادشاہ اصطیبان الأحزم کو قید کر کے ایک جزیرے میں ڈال دیا۔ چند تاجروں نے اسے پہچان کر حوران لے گئے۔ اس نے محمد بن مروان سے پناہ لی اور کہا: ”اجازت دو کہ تیری زمین سے گزر کر روم جا سکوں۔“ محمد نے عبدالملک بن مروان سے اجازت لی۔ اصطیبان نے وعدہ کیا کہ اگر اللہ نے حکومت لوٹائی تو روم میں جو مسلمان قبلہ رخ نماز پڑھتا ملے گا اسے آزاد کرے گا۔ چنانچہ مسلمانوں کی مدد سے وہ روم پر غالب آیا، مسلمانوں کو آزاد کر کے قنسرین لے آیا اور پانچ پانچ دینار عطا کیے۔ عبدالملک اور مسلمان اس پر خوش ہوئے۔
حدیث نمبر: 4098
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَجِيحٍ، وَفُضَيْلِ بْنِ فَضَالَةَ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ بِالْعَصَائِبِ، وَقَالَ: «إِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا خِرْقَةً فَلْيَتَعَصَّبْ بِهَا»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو پگڑیاں باندھنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”اگر خالی کپڑا بھی ملے تو اسی سے باندھ لو۔“
حدیث نمبر: 4099
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ جَلُولَاءَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَكَتَبَ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَكَتَبَ أَنْ: «يُعْطَى سَلَبَهُ، وَأَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ الْخُمُسُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا: ”جو مشرک کو قتل کرے اس کا مال اسے دیا جائے گا، اس میں سے پانچواں حصہ نکالا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4100
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ يَزِيدَ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْفَرِيضَةَ لِابْنٍ لِي؟ فَقَالَ «ابْنُ كَمْ هُوَ؟» قُلْتُ: ابْنُ سِتٍّ أَوْ سَبْعٍ أَوْ ثَمَانٍ، فَقَالَ: «لَوْ فُرِضَتْ لِوَلَدٍ دُونَ خَمْسَ عَشْرَةَ لَفُرِضَتْ لَهُ»
مظاہر امیر خان
عمر بن عبدالعزیز سے پوچھا گیا: چھ سات آٹھ سال کے بچے کے لیے فریضہ مل سکتا ہے؟ فرمایا: ”پندرہ سال سے کم کے لیے فریضہ نہیں۔“
حدیث نمبر: 4101
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمِ، وَأَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ حَكِيمِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَتَبَ: «وَمَنْ عَاقَدْتُمْ عَلَى عَقْدٍ فَأَتِمُّوا إِلَيْهِمْ، وَاتَّقُوا ظُلْمَهُمْ، وَإِيَّاكُمْ وَلِبَاسَ الْأَقْبِيَةِ، وَرِقَاقَ الْخِفَافِ، وَائْتَزِرُوا، وَانْتَعِلُوا وَأَدِّبُوا الْخَيْلَ، وَتَنَاضَلُوا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”جس سے معاہدہ کرو اسے پورا کرو، ان پر ظلم سے بچو، قبا اور باریک موزے مت پہنو، تہبند باندھو، جوتے پہنو، گھوڑے سدھاؤ اور تیر اندازی سیکھو۔“
حدیث نمبر: 4102
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُضَيْفٍ الْكِنْدِيِّ، أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ، وَخُفَّانِ رَقِيقَانِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عُمَرُ، وَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَّا الْقَبَاءُ فَإِنَّ الرَّجُلَ يَشُدُّهُ عَلَيْهِ فَيَضُمُّ ثِيَابَهُ، وَأَمَّا الْخِفَافُ الرِّقَاقُ أَثْبَتُ فِي الرُّكَبِ فَقَالَ: «نَعَمْ» فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
عیاض بن غطیف کندی سے روایت ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر باریک موزے اور قبا پہننے پر اعتراض کیا۔ میں نے کہا: ”قبا کپڑے سنبھالنے کے لیے ہے اور باریک موزے گھٹنے مضبوط کرتے ہیں۔“ تو آپ نے اجازت دے دی۔
حدیث نمبر: 4103
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَحْوَصِ، وَأَبِي بَكْرٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَتَبَ إِلَى النَّاسِ: " أَمَا بَعْدُ، فَإِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهَا، وَاحْتَسِبُوا إِلَى اللَّهِ أَعْمَالَكُمْ، وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ بِأَرْضِ عَدُوِّكُمْ لَا يَفْقَهُوَنَ كَلَامَكُمْ فَأَتِمُّوا إِلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالذِّمَّةَ، فَإِنْ أَشَارَ أَحَدُكُمْ إِلَى عَدُوِّهِ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَئِنْ نَزَلْتَ لَأَقْتُلَنَّكَ، فَنَزَلَ، إِنَّمَا نَزَلَ حِينَ أَشَارَ إِلَى السَّمَاءِ وَذَلِكَ عَقْدُهُ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”دنیا سرسبز اور میٹھی ہے۔ اس سے بچو۔ اپنے اعمال اللہ کے لیے خالص کرو۔ دشمنوں کے ساتھ عہد پورا کرو۔ اگر کسی نے ہاتھ اٹھا کر عہد کیا تو وہ لازم ہوگا۔“
حدیث نمبر: 4104
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ سَلْمَانَ بْنَ رَبِيعَةَ غَزَا بَلَنْجَرَ، فَاسْتَعَانَ بِنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: «يَحْمِلُ أَعْدَاءَ اللَّهِ عَلَى أَعْدَاءِ اللَّهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے: سلمان بن ربیعہ نے بلنجر میں مشرکوں کی مدد لی۔ اور کہا: ”دشمنانِ خدا کو دشمنانِ خدا پر حملہ کرایا ہے۔“
حدیث نمبر: 4105
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُحَدِّثُ قَالَ: «كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَشْتَرِكَ ثَلَاثَةً، فَيَجْلِبُ وَاحِدٌ، وَيَبِيعُ الْآخَرُ، وَيَغْزُو الْآخَرُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» قَالَ: فَرَأَيْتُ أَبَا صَالِحٍ فِي ذَلِكَ الْعَامِ مُرَابِطًا، فَقَالَ: «هَذِهِ نَوْبَتِي»
مظاہر امیر خان
حضرت عوام بن حوشب رحمہ اللہ سے روایت ہے: ابوصالح نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمیں حکم دیتے کہ تین آدمی مل کر کام کریں۔ ایک تجارت کرے۔ ایک فروخت کرے۔ ایک اللہ کے راستے میں لڑے۔ ابوصالح نے اسی سال خود بھی جہاد میں شرکت کی۔
وضاحت:
چونکہ حجاج بن أرطاة مدلس ہیں اور عن سے روایت کر رہے ہیں، اس لیے سند ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 4106
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَرِيزٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: «أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ سَبَايَا مِنْ أَوْطَاسٍ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْحَبَالَى أَنْ يُوطَأْنَ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ، وَمَنْ لَمْ تَكُنْ حَامِلًا فَلْتَسْتَبْرِئْ بِحَيْضَةٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت عامر شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے: مسلمان اوطاس سے لونڈیاں لے کر آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حاملہ عورتوں کے ساتھ صحبت سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ وضع حمل کرلیں، اور غیر حاملہ کا استبراء حیض سے ہو۔“
حدیث نمبر: 4107
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَشْيَاخِهِمْ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: خَرَجَ غَازِيًا فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ فَمَرِضَ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَاحْمِلُونِي، فَإِذَا صَافَقْتُمُ الْعَدُوَّ فَادْفِنُونِي تَحْتَ أَقْدَامِهِمْ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا مَا حَضَرَنِي لَمْ أُحَدِّثْكُمُوهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں جہاد میں نکلا اور مرض الموت میں وصیت کی: جب دشمن سے ملو تو مجھے ان کے قدموں تلے دفن کرنا۔“ پھر فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
حدیث نمبر: 4108
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: " لَأَنْ أَكُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْمٍ، قَالُوا: نُقِرُّ بِالزَّكَاةِ فِي أَمْوَالِنَا، وَلَا نُؤَدِّيهَا إِلَيْكُمْ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرلیتا کہ جو لوگ زکوٰۃ کا اقرار کریں مگر ادا نہ کریں، ان کے بارے میں کیا حکم ہے، تو یہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر تھا۔“
…