حدیث نمبر: 4029
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: نا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: نا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرُّمَاةِ يَوْمَ أُحُدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ، وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلًا، فَقَالَ لَهُمْ: «إِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطَفُنَا الطَّيْرُ فَلَا تَبْرَحُوا مِنْ مَكَانِكُمْ حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا هَزَمْنَا الْقَوْمَ وَأَوْطَأْنَاهُمْ، فَلَا تَبْرَحُوا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ» قَالَ: فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ، فَأَنَا وَاللَّهِ رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ عَلَى الْجَبَلِ، قَدْ بَدَتْ خَلَاخِلُهُنَّ وَأَسْوُقُهُنَّ رَافِعَاتٍ ثِيَابَهُنَّ، فَقَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ: الْغَنِيمَةَ أَيْ قَوْمُ الْغَنِيمَةَ، ظَهَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا تَنْتَظِرُونَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ: أَنَسِيتُمْ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: إِنَّا وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّ النَّاسَ فَلَنُصِيبَنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَلَمَّا أَتَوْهُمْ صُرِفَتْ وُجُوهُهُمْ، فَانْقَلَبُوا مُنْهَزِمِينَ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُمْ فِي أُخْرَاهُمْ، فَلَمْ يَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَأَصَابُوا مِنَّا سَبْعِينَ رَجُلًا، وَكَانَ أَصْحَابُهُ أَصَابُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ أَرْبَعِينَ وَمِائَةَ رَجُلٍ، سَبْعِينَ أَسِيرًا، وَسَبْعِينَ قَتِيلًا، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: أَفِي الْقَوْمِ مُحَمَّدٌ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِيبُوهُ، ثُمَّ قَالَ: أَفِي الْقَوْمِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: أَفِي الْقَوْمِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ؟ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَرَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: أَمَّا هَؤُلَاءِ فَقَدْ قُتِلُوا، فَمَا مَلَكَ عُمَرُ نَفْسَهُ، قَالَ: كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، إِنَّ الَّذِينَ عَدَدْتَ لَأَحْيَاءٌ، وَقَدْ بَقَّى اللَّهُ لَكَ مَا يَسُوءُكَ، فَقَالَ: يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ، وَالْحَرْبُ سِجَالٌ، إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةً لَمْ آمُرْ بِهَا وَلَمْ تَسُؤْنِي، ثُمَّ أَخَذَ يَرْتَجِزُ أُعْلُ هُبَلُ، أُعْلُ هُبَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تُجِيبُوهُ؟» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَقُولُ؟ قَالَ: " قُولُوا: اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ، فَقَالَ: إِنَّ لَنَا الْعُزَّى، وَلَا عُزَّى لَكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تُجِيبُوهُ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَقُولُ؟ قَالَ: «قُولُوا اللَّهُ مَوْلَانَا، وَلَا مَوْلَى لَكُمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن تیر اندازوں پر سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا، اور وہ پچاس آدمی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم ہمیں دیکھو کہ پرندے ہمیں اچک کر لے جا رہے ہیں تو اپنی جگہ سے ہرگز نہ ہٹنا، جب تک میں تمہیں پیغام نہ بھیجوں۔ اور اگر تم دیکھو کہ ہم قوم کو شکست دے کر روند رہے ہیں، تب بھی اپنی جگہ نہ چھوڑنا، جب تک میں تمہیں پیغام نہ بھیجوں۔“ پھر اللہ نے کفار کو شکست دی۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے عورتوں کو دیکھا کہ وہ پہاڑ پر دوڑ رہی تھیں، ان کے پاؤں کی پازیبیں اور پنڈلیاں ظاہر ہو رہی تھیں، اور وہ اپنے کپڑے اٹھائے بھاگ رہی تھیں۔ یہ دیکھ کر سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے کہا: ”لوگو! مال غنیمت! مال غنیمت! تمہارے ساتھی غالب آ گئے ہیں، اب کس چیز کا انتظار ہے؟“ سیدنا عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا تم بھول گئے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”ہم اللہ کی قسم ضرور جائیں گے اور مال غنیمت حاصل کریں گے۔“ چنانچہ جب وہ نیچے اترے تو ان کا رخ پھیر دیا گیا اور وہ شکست کھا کر بھاگ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی پشت کی طرف سے بلا رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے تھے۔ کفار نے ہم میں سے ستر آدمی شہید کر دیے، جبکہ غزوہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کفار میں سے ایک سو چالیس کو نقصان پہنچایا تھا، ستر کو قید کیا اور ستر کو قتل۔ ابوسفیان نے آواز دی: ”کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں موجود ہیں؟“ تین بار۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ جواب نہ دیں۔ پھر اس نے کہا: ”کیا ابوبکر موجود ہیں؟“ تین بار۔ پھر کہا: ”کیا عمر بن خطاب موجود ہیں؟“ تین بار۔ جب اسے کوئی جواب نہ ملا تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گیا اور کہا: ”یہ سب مارے گئے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور بول اٹھے: ”جھوٹا ہے تو اے اللہ کے دشمن! جن کا تو نے نام لیا وہ سب زندہ ہیں، اور اللہ نے تجھے وہ چیز باقی رکھی ہے جو تجھے رنج دے گی۔“ ابوسفیان نے کہا: ”آج کا دن بدر کے دن کے بدلے میں ہے، اور جنگ تو ادل بدل چلتی رہتی ہے۔ تم اپنے مقتولین میں مثلے پاؤ گے، میں نے اس کا حکم نہیں دیا تھا لیکن مجھے اس پر افسوس بھی نہیں۔“ پھر وہ نعرے لگانے لگا: ”اعل هبل، اعل هبل!“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اسے جواب نہیں دو گے؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا جواب دیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: اللہ سب سے بلند اور سب سے عظیم ہے۔“ پھر ابوسفیان نے کہا: ”ہمارے پاس عزیٰ ہے اور تمہارے پاس نہیں۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اسے جواب نہیں دو گے؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کیا جواب دیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔“
حدیث نمبر: 4030
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: أنا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: أَفِيكُمْ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: أَفِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ "
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک گروہ جہاد کرے گا، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہو؟ اگر جواب دیا: ہاں، تو ان کے لیے فتح ہوگی۔ پھر ایک زمانہ آئے گا کہ گروہ میں وہ ہوں گے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت پائی ہوگی، پھر ان کے لیے بھی فتح ہوگی۔“
حدیث نمبر: 4031
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَتِ الْأَنْصَارُ تَقُولُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: ¤ [البحر الرجز] ¤ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعْنَا مُحَمَّدَا ... عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا ¤ فَأَجَابَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ¤ «لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةْ، ... فَأَكْرِمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةْ» ¤
مظاہر امیر خان
غزوہ خندق کے دن انصار یہ اشعار پڑھتے تھے: ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی، جب تک ہم زندہ ہیں، جہاد کرتے رہیں گے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جواب میں فرماتے: ”زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے، پس اے اللہ! انصار اور مہاجرین کی عزت فرما۔“
حدیث نمبر: 4032
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيَّ مِنْ وَرَاءِ نَهْرِ بَلْخٍ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ وَهُوَ يَقُولُ: «لَا عَيْشَ إِلَّا طِرَادُ الْخَيْلِ الْخَيْلَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا بریدہ الاسلمی رضی اللہ عنہ نہر بلخ کے اس پار گھوڑے پر سوار کہہ رہے تھے: ”زندگی تو صرف گھوڑوں کی دوڑ ہے!“
حدیث نمبر: 4033
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَا: «أَوَّلُ مَنِ اتَّخَذَ الْخَنْدَقَ عَلَى عَسْكَرِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے شخص ہیں جنہوں نے لشکر کے گرد خندق بنانے کا طریقہ جاری فرمایا۔
حدیث نمبر: 4034
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دِرْعَيْنِ، وَقَالَ مَرَّةً: لَبِسَ - كَمَا قَالَ سُفْيَانُ - دِرْعَيْنِ "
مظاہر امیر خان
غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو زرہیں پہنی تھیں، یا جیسا کہ سفیان نے کہا: دو زرہیں زیب تن فرمائیں۔
حدیث نمبر: 4035
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: لَوْلَا ثَلَاثٌ لَسَرَّنِي أَنْ أَكُونَ قَدْ مُتُّ: لَوْلَا أَنْ أَضَعَ جَبِينِي لِلَّهِ، وَأُجَالِسَ أَقْوَامًا يَتَلَقَّطُونَ طَيِّبَ الْكَلَامِ كَمَا يُتَلَقَّطُ طَيِّبُ الثَّمَرِ، وَالسَّيْرُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تین چیزیں نہ ہوتیں تو میں چاہتا کہ میں مر چکا ہوتا: اللہ کے لیے اپنا ماتھا جھکانا، نیک باتیں جمع کرنے والے لوگوں کی مجلس، اور اللہ کی راہ میں سفر کرنا۔“
حدیث نمبر: 4036
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ جَلَسَ نَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ فِي جَبَلِ بَدْرٍ يَقُولُونَ حَيْثُمَا كَانَتِ الدَّبْرَةُ كُنَّا مَعَ أَهْلِهَا، فَلَمَّا أَعَزَّ اللَّهُ نَصْرَ رَسُولِهِ جَاءُوهُ فَأَخْبَرُوهُ أَمْرَهُمْ، فَقَالُوا: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ سَمِعْنَا شَيْئًا يَهْبِطُ مِنَ السَّمَاءِ، وَسَمِعْنَا حَمْحَمَةَ الْخَيْلِ، وَقَرْعَ الْأَدَاةِ، وَسَمِعْنَا شَيْئًا يُقَالُ لَهُ: أَقْدِمْ حَيْزُومُ قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ»
مظاہر امیر خان
بدر کے دن کچھ عرب پہاڑ پر بیٹھے یہ کہتے تھے: ”ہم تو اسی کے ساتھ ہیں جس کے پاس غلبہ ہو۔“ جب اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غلبہ دیا، وہ آئے اور کہا: ”اے رسول اللہ! ہم نے آسمان سے کچھ اترتے سنا، گھوڑوں کی ہنکار اور سامان کی جھنکار سنی، اور آواز سنی: اقدم حيزوم۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے۔“
حدیث نمبر: 4037
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَوِّمُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ قَدْ سَوَّمَتْ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نشانی لگاؤ، بے شک فرشتوں نے بھی نشانی لگائی تھی۔“
حدیث نمبر: 4038
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ عَلَى الْعَدُوِّ، وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، قَالَ: وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُوتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دشمن پر رعب کے ذریعے مدد دی گئی، اور مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے، اور جب میں سو رہا تھا، تو زمین کے خزانوں کی چابیاں میرے پاس لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔“
حدیث نمبر: 4039
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، شَاعِرٍ كَانَ بِمَكَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ يَوْمَ الطَّائِفِ قَالَ: «إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ» فَقَالَ النَّاسُ: قَبْلَ أَنْ نَفْتَحَهَا؟ قَالَ: فَاغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ، فَغَدَوْا وَأَصَابَتْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَسُّرُوا بِذَلِكَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن فرمایا: ”ان شاء اللہ کل ہم واپس پلٹیں گے۔“ تو لوگوں نے کہا: ”کیا ہم طائف کو فتح کیے بغیر لوٹیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو صبح قتال کے لیے نکلو!“ چنانچہ وہ صبح قتال کے لیے نکلے اور انہیں تکلیف پہنچی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان شاء اللہ کل ہم واپس پلٹیں گے۔“ تو لوگ خوش ہو گئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔
حدیث نمبر: 4040
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، فِي قَوْلِهِ {مُسَوِّمِينَ} [آل عمران: 125] قَالَ: «مُعَلَّمِينَ بِالصُّوفِ الْأَبْيَضِ»
مظاہر امیر خان
حضرت ضحاک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «مُسَوِّمِينَ» [آل عمران: 125] کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد ہے: سفید اون کے ساتھ نشان زدہ (فرشتے)۔“
حدیث نمبر: 4041
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ أَشْرَفَتِ امْرَأَةٌ فَكَشَفَتْ عَنْ قُبُلِهَا، فَقَالَتْ: هَا دُونَكُمْ فَارْمُوا، فَرَمَاهَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَمَا أَخْطَأَ ذَلِكَ مِنْهَا "
مظاہر امیر خان
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا، تو ایک عورت قلعہ کی اوٹ سے نکلی اور اپنی شرمگاہ کھول دی اور کہنے لگی: ”یہ لو، مارو!“ تو ایک مسلمان نے تیر مارا اور وہ تیر اس کی شرمگاہ سے خطا نہ کر سکا۔
حدیث نمبر: 4042
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، مِثْلَهُ قَالَ فَقَطَّرَهَا
مظاہر امیر خان
اسی روایت کو ایک اور سند سے بیان کیا گیا اور الفاظ یہ ہیں: ”تو اس نے اسے زخمی کر دیا۔“
حدیث نمبر: 4043
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُبَيْدٍ، قَالَ غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقَالَ: «لَا تَغْزُوا مَعَ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا لَمْ يُتِمَّهُ، أَوْ زَرَعَ زَرْعًا لَمْ يَحْصُدْهُ، أَوْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً لَمْ يَدْخُلْ بِهَا»
مظاہر امیر خان
نبیوں میں سے ایک نبی نے غزوہ کے وقت فرمایا: ”ایسے آدمی کے ساتھ نہ نکلو جس نے کوئی عمارت بنائی ہو اور ابھی مکمل نہ کی ہو، یا کوئی کھیتی بوئی ہو اور ابھی کٹائی نہ کی ہو، یا کسی عورت سے نکاح کیا ہو اور ابھی اس سے صحبت نہ کی ہو۔“
وضاحت:
یہی حدیث صحیح بخاری (3124) اور صحیح مسلم (1747) میں صحابی (سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ) کے واسطے سے صحیح متصل سند سے مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4044
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: «غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ عَشْرَةَ غَزْوَةً» وَسَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ: «غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً»
مظاہر امیر خان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پندرہ غزوات میں شرکت کی۔“ اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سترہ غزوات میں شرکت کی۔“
حدیث نمبر: 4045
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ الطَّائِفَتَيْنِ اللَّتَيْنِ هَمَّتَا {أَنْ تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا} [آل عمران: 122] «بَنُو سَلِمَةَ، وَبَنُو حَارِثَةَ»
مظاہر امیر خان
سعید بن ابی ہلال رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ «طَائِفَتَانِ» [آل عمران: 122] یعنی جو دو گروہ پسپائی کا ارادہ کر بیٹھے تھے، وہ ”بنو سلمہ“ اور ”بنو حارثہ“ تھے۔
حدیث نمبر: 4046
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: " فِينَا نَزَلَتْ فِي بَنِي حَارِثَةَ، وَبَنِي سَلَمَةَ {إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا} [آل عمران: 122] مَا يَسُرُّنِي أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ "
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہمارے بارے میں (یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں) یہ آیت نازل ہوئی: «إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا» [آل عمران: 122] اور مجھے خوشی ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی۔“
حدیث نمبر: 4047
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَ أَبَا بَكْرٍ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ وَهُمْ تَحْتَ الرَّايَاتِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا جبکہ وہ جھنڈوں کے نیچے تھے۔
حدیث نمبر: 4048
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، وَتَكَاثُرِهِمْ وَنَظَرَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَقَلَّهُمْ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ: «اللَّهُمَّ لَا تُوَدِّعْ مِنِّي، اللَّهُمَّ لَا تَخْذُلْنِي، اللَّهُمَّ لَا تَتِرْنِي، اللَّهُمَّ أَنْشُدُكَ مَا وَعَدْتَنِي، اللَّهُمَّ إِنْ يَهْزِمْ هَذَا الْجَمْعُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ هَذَا الْجَمْعَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَا تُعْبَدُ أَبَدًا» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَلْحَفْتَ وَاللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَاللَّهِ لَا يَتَوَدَّعُ مِنْكَ، وَلَا يَخْذُلُكَ، وَلَا يَتِرُكَ، وَلَيَنْصُرَنَّكَ عَلَى عَدُوِّكَ كَمَا وَعَدَكَ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْرُورًا، وَقَالَ: «رَأَيْتُ جِبْرِيلَ مُعْتَجِرًا مُتَدَلِّيًا مِنَ السَّمَاءِ مُعْتَجِرًا بِعُجْرَةِ الْقِتَالِ، عَلَى أَسْنَانِهِ قَتَرَةُ الْغُبَارِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ النَّصْرُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبیداللہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت کو دیکھا تو دو رکعت نماز پڑھی اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں جانب کھڑے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں فرمایا: ”اے اللہ! مجھے تنہا نہ چھوڑ، اے اللہ! مجھے رسوا نہ کر، اے اللہ! مجھے محروم نہ کر، اے اللہ! میں تجھ سے وہ وعدہ مانگتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا، اے اللہ! اگر یہ مشرکین کا لشکر مسلمانوں کے اس لشکر کو شکست دے دے تو پھر کبھی تیری عبادت نہ ہو گی۔“ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو ہرگز نہ چھوڑے گا، نہ آپ کو رسوا کرے گا اور نہ آپ کو محروم کرے گا اور ضرور آپ کو آپ کے دشمن پر فتح دے گا جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو کر لوٹے اور فرمایا: ”میں نے جبرائیل علیہ السلام کو آسمان سے اترتے دیکھا کہ انہوں نے جنگی لباس کے ساتھ اپنے سر کو لپیٹا ہوا تھا اور ان کے دانتوں پر گرد و غبار تھا، تب میں نے پہچان لیا کہ یہ نصرت ہے۔“
حدیث نمبر: 4049
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ جِبْرِيلَ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا فَرَغَ مِنْ قِتَالِ بَدْرٍ عَلَى فَرَسٍ حَمْرَاءَ، مَعْقُودَ النَّاصِيَةِ قَدْ عَصَبَ ثَنِيَّتَهُ الْغُبَارُ، عَلَيْهِ دِرْعُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكَ، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أُفَارِقَ حَتَّى تَرْضَى، أَفَرَضِيتَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عطیہ بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب بدر کی جنگ مکمل ہو گئی تو جبرائیل علیہ السلام سرخ گھوڑے پر سوار ہو کر، جس کی پیشانی کے بال گندھے ہوئے تھے اور گرد و غبار نے ان کی دونوں کنپٹیاں ڈھانپ رکھی تھیں اور ان پر زرہ تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”اے محمد! اللہ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس وقت تک آپ سے جدا نہ ہوں جب تک آپ راضی نہ ہو جائیں، کیا آپ راضی ہو گئے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 4050
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ الْهَوْزَنِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «تَعَادُّوا» فَوَجَدَهُمْ ثَلَاثَمِائَةٍ وَأَرْبَعَةَ عَشَرَ رَجُلًا، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: «تَعَادُّوا» فَتَعَادُّوا مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ وَهُمْ يَتَعَادُّونَ عَلَى بَكْرٍ لَهُ ضَعِيفٍ، فَتَمَّتِ الْعِدَّةُ ثَلَاثَمِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ رَجُلًا، فَقَالَ: «أَنْتُمُ الْيَوْمَ عَلَى عِدَّةِ النَّبِيِّينَ، وَعِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عامر بن عبداللہ بن لحی ہوزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن نکلے تو اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اپنی تعداد گنو۔“ تو وہ تین سو چودہ نکلے، پھر دوبارہ فرمایا: ”اپنی تعداد گنو۔“ تو دوبارہ یہی تعداد نکلی، پھر ایک شخص اپنے کمزور اونٹ پر آیا تو تعداد تین سو پندرہ ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج تم نبیوں اور طالوت کے ساتھیوں کی تعداد پر ہو۔“
حدیث نمبر: 4051
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ اسْتَحْيَا الْمُسْلِمُونَ مِنْ عَوْرَاتِ إِخْوَانِهِمْ وَأَلْقَوْهُمْ فِي قَلِيبٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «أَيْ فُلَانُ أَيْ فُلَانُ أَلَمْ تَجِدُوا اللَّهَ مَلِيًّا بِمَا وَعَدَكُمْ؟ أَيْ فُلَانُ أَيْ فُلَانُ - يُسَمِّيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ - أَلَمْ تَجِدُوا اللَّهَ مَلِيًّا بِمَا وَعَدَكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَ يَسْمَعُونَ؟ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا تَسْمَعُونَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے اپنے بھائیوں کے ستر پوشی کے احساس سے انہیں ایک کنویں میں ڈال دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر آ کر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے فلاں! اے فلاں! کیا تم نے اللہ کو اپنے وعدے میں سچا نہ پایا؟ اے فلاں! اے فلاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ان کے نام لے کر پکارتے تھے، پھر فرمایا: ”کیا تم نے اللہ کو اپنے وعدے میں سچا نہ پایا؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کیا یہ سنتے ہیں؟“ فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ اسی طرح سنتے ہیں جیسے تم سنتے ہو۔“
حدیث نمبر: 4052
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ بِيَدِهِ، وَقَالَ: «اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ قَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَاشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ أَدْمَوْا وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن خلف کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا اور فرمایا: ”اللہ کا غضب اس شخص پر شدید ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے راستے میں اپنے ہاتھ سے قتل کیا، اور اللہ کا غضب ان لوگوں پر بھی شدید ہے جنہوں نے اللہ کے راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کو زخمی کیا۔“
حدیث نمبر: 4053
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: «مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ؟» فَقَالَ أَبُو دُجَانَةَ: أَنَا، فَجَاءَ بِهِ قَدِ انْثَنَى قَالَ: أَعْطَيْتَهُ حَقَّهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن فرمایا: ”کون ہے جو یہ تلوار اس کے حق کے ساتھ لے؟“ تو سیدنا ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں۔“ پھر وہ آئے جبکہ تلوار مڑ چکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم نے اس کا حق ادا کر دیا؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“
حدیث نمبر: 4054
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ، عَنْ أَشْيَاخِهِ قَالَ: ذُكِرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: «إِنَّ عَبْدِي كُلَّ عَبْدِي الَّذِي يَذْكُرُنِي، وَإِنْ كَانَ مُكَافِئًا قِرْنَهُ» فَسَمِعَهَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَعَقَدَ عَلَيْهَا حَتَّى إِذَا قَدِمَ النَّاسُ الشَّامَ انْبَعَثَ فِي سَرِيَّةٍ وَهُمْ رِجَالٌ عَلَى أَقْدَامِهِمْ، فَأَبْطَأَ عَنْ أَصْحَابِهِ يُصَلِّي، وَهَبَطَ إِلَيْهِ عِلْجٌ مِنَ الرُّومِ عَلَى كَوْدَنٍ شَاكِ السِّلَاحِ , يُرِيدُهُ، فَجَاءَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ كَرْمٌ لَهُ سِيَاجٌ أُمُّ غَيْلَانَ الشَّوْكُ، فَرَبَطَ الْعِلْجُ فَرَسَهُ، ثُمَّ شَقَّقَ إِلَيْهِ الْكَرْمَ يَتَهَدَّدُهُ , حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ إِلَّا السِّيَاجُ وَالرَّجُلُ يَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَثْرَةُ ذِكْرِهِ لَمْ يَشْغَلْهُ تَهَدُّدُ عَدُوِّهِ إِيَّاهُ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ قَدْ ضِقْتُ بِهِ ذَرْعًا , فَاكْفِنِيهِ، فَنَظَرَ الرُّومِيُّ فُرْجَةً مِنَ السِّيَاجِ فَذَهَبَ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِ مِنْهَا، فَنَشِبَ الشَّوْكُ بِكُمِّ يَدِهِ فَعَالَجَ طَوِيلًا لِيَتَخَلَّصَ مِنْهَا، فَذَهَبَ لِيُخَلِّصَ كُمَّهُ الْأَيْمَنَ، فَقَبَضَ الشَّوْكُ عَلَيْهِ، فَرَبَطَهُ اللَّهُ رَبْطًا، فَلَمَّا رَآهُ الْمُسْلِمُ مَضَى إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى الْعِلْجُ الْمُسْلِمَ قَدْ أَقْبَلَ إِلَيْهِ جَعَلَ يَنْخِرُ وَهُوَ فِي ذَلِكَ قَدْ أَثْبَتَهُ اللَّهُ فَلَمْ يَتَخَلَّصْ إِلَيْهِ الرَّجُلُ حَتَّى وَجَأَ نَفْسَهُ بِخِنْجَرٍ كَانَ مَعَهُ، فَوَقَعَ , فَجَعَلَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ يَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ قَتَلْتَهُ ثُمَّ سَلَبَهُ سِلَاحَهُ وَثِيَابَهُ، وَحَمَلَهُ اللَّهُ عَلَى فَرَسِهِ
مظاہر امیر خان
سیدنا محمد بن زیاد الالہانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: میرا بندہ، پورا بندہ وہ ہے جو مجھے یاد کرے، اگرچہ اپنے حریف سے برسرپیکار ہو۔“ ایک مسلمان نے یہ حدیث سنی اور اسے یاد رکھا، جب لوگ شام پہنچے تو وہ ایک سریہ میں شامل ہوا اور پیدل تھا، راستے میں ایک رومی اس پر حملہ آور ہوا، درمیان میں ایک انگور کا باغ تھا جس کا باڑھ کانٹوں سے بھرا تھا۔ رومی کا گھوڑا باندھ کر اس نے باغ کا باڑ عبور کیا لیکن مسلمان اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ دشمن کے قریب آ گیا۔ رومی کا آستین کانٹوں میں الجھ گیا اور اللہ نے اسے روک دیا۔ مسلمان نے قریب جا کر رومی کو دیکھا تو وہ نکلنے کی کوشش میں ناکام رہا یہاں تک کہ رومی نے خود کو خنجر مار کر ہلاک کر لیا۔ مسلمان اللہ کا ذکر کرتا اور اس کا شکر ادا کرتا رہا اور کہا: ”اے اللہ! تو نے اسے قتل کیا۔“ پھر اس کا ہتھیار اور کپڑے لے لیے اور اللہ نے اسے اس کے گھوڑے پر سوار کر دیا۔
حدیث نمبر: 4055
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا مَرْوَانُ، قَالَ: نا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: قَالَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا عَوْنُ اللَّهِ لِلضَّعِيفِ مَا غَالَوْا بِالظَّهْرِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر لوگ جان لیتے کہ اللہ کی کمزوروں پر کیسی مدد ہوتی ہے تو وہ سواریوں کی قیمت میں مبالغہ نہ کرتے۔“
حدیث نمبر: 4056
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ «رَأَى ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ فِي بَعْضِ مَوَاطِنِ الْمُسْلِمِينَ وَمَعَهُ لِوَاءُ الْمُسْلِمِينَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے کسی مقام پر دیکھا اور ان کے ہاتھ میں مسلمانوں کا جھنڈا تھا۔
حدیث نمبر: 4057
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «اصْطَبَحَ نَاسٌ الْخَمْرَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ قُتِلُوا شُهَدَاءَ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: احد کے دن کچھ لوگوں نے صبح شراب پی، پھر دن کے آخر میں شہید کر دیے گئے۔
حدیث نمبر: 4058
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «أَوَّلُ امْرَأَةٍ اسْتُشْهِدْتُ فِي الْإِسْلَامِ أُمُّ عَمَّارٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے: اسلام میں سب سے پہلی شہید ہونے والی عورت سیدہ ام عمارہ رضی اللہ عنہا تھیں۔
حدیث نمبر: 4059
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: «لَا تَأْوُوا الْيَهُودَ؛ فَإِنَّ اللَّهَ ضَرَبَ عَلَى رِقَابِهِمْ بِذُلٍّ مُقَدَّمٍ، وَأَنَّهُمْ سَبُّوا اللَّهَ سَبًّا لَمْ يَسُبَّهُ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِهِ، دَعَوُا اللَّهَ ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہود کو اپنے پاس نہ ٹھہراؤ، کیونکہ اللہ نے ان کی گردنوں پر ہمیشہ کے لیے ذلت کا طوق ڈال دیا ہے، اور انہوں نے اللہ پر ایسی سب و شتم کی جسے اللہ کی مخلوق میں سے کسی نے نہیں کیا، انہوں نے اللہ کو تین میں سے تیسرا کہا۔“
حدیث نمبر: 4060
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ (1)، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ « وَفِّرُوا الْأَظْفَارَ، فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ، فَإِنَّهَا سِلَاحٌ » .
مظاہر امیر خان
حضرت حکیم بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ دشمن کی زمین میں ناخن محفوظ رکھو کیونکہ یہ بھی ہتھیار ہیں۔
حدیث نمبر: 4061
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ» قَالَ جَابِرٌ: لَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ أَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ہم حدیبیہ کے دن ایک ہزار چار سو تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم آج روئے زمین کے سب سے بہترین لوگ ہو۔“ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر میں دیکھ سکتا تو تمہیں درخت کی جگہ دکھاتا۔“
حدیث نمبر: 4062
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَشْيَخَتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَطْيَبُ كَسْبِ الْمُسْلِمِ سَهْمُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَصَفْقَةُ يَدِهِ، وَمَا تُعْطِيهِ أَرْضُهُ»
مظاہر امیر خان
حضرت عبدالرحمن بن زیاد بن انعم رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ہمارے مشائخ نے ہمیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کی سب سے پاکیزہ کمائی اللہ کے راستے میں اس کے تیر، اس کے ہاتھ کی تجارت اور اس کی زمین کی پیداوار ہے۔“
حدیث نمبر: 4063
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، أَنَّ كَعْبًا، كَانَ يَقُولُ: «رِزْقُ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي أَسِنَّةِ رِمَاحِهَا، وَعِنْدَ أَزِجَّتِهَا مَا لَمْ يَزْرَعُوا، فَإِذَا زَرَعُوا كَانُوا كَالنَّاسِ، وَلَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي هَذِهِ الْأُمَّةَ حَتَّى يُعْطِيَهُمْ أَحْسَنَ مَشْيِ الدَّوَابِّ»
مظاہر امیر خان
حضرت عبدالرحمن بن یزید بن جابر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”اس امت کا رزق ان کے نیزوں کی نوکوں پر اور ان کی کمانوں کے ساتھ ہے جب تک وہ کھیتی باڑی نہ کریں، جب وہ کھیتی کریں گے تو عام لوگوں جیسے ہو جائیں گے، اور اللہ عزوجل ان کو برابر عطا کرتا رہے گا یہاں تک کہ انہیں چوپایوں کے بہترین چلنے والے عطا کرے گا۔“
حدیث نمبر: 4064
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَنْفِقُ مَالِي وَنَفْسِي فِي سَبِيلِكَ، قَالَ الْأَعْمَشُ: وَرُبَّمَا قَالَ: وَوَلَدِي، فَقَالَ عُمَرُ: «أَلَا يَسْكُتُ أَحَدُكُمْ فَإِنِ ابْتُلِيَ صَبَرَ، وَإِنْ عُوفِيَ شَكَرَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو یہ دعا کرتے سنا: ”اے اللہ! میں اپنا مال، جان (اور کبھی کبھی کہتے: اپنی اولاد) تیری راہ میں خرچ کرتا ہوں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی خاموش نہیں رہتا؟ اگر آزمائش آئی تو صبر کرے اور اگر عافیت ملی تو شکر کرے۔“
حدیث نمبر: 4065
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَرْبُ خَدْعَةً»
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنگ چالاکی ہے۔“
حدیث نمبر: 4066
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَمَّرَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ تَقُولُونَ فِي أُسَامَةَ أَنَّ أُسَامَةَ حَدَثُ السِّنِّ، وَإِنْ تَقُولُوا فَقَدْ قُلْتُمْ لِأَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهُ لَخَلِيقٌ لِلْإِمْرَةِ» قَالَ بُكَيْرٌ: فَبَلَغَنِي أَنَّ عَبِيدَةَ بْنَ سُفْيَانَ قَالَ: فَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ هَذِهِ إِلَى الْيَوْمِ قَالَ بُكَيْرٌ: وَسَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ قَالَ: " أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ عَلَى جَيْشٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يَحْرِقَ قَرْيَةَ يُبْنَا، فَمَضَى أَوَّلُ الْجَيْشِ وَجَعَلَ أُسَامَةُ يَتَرَدَّدُ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَخَلَ أُسَامَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: مَا تَأْمُرُنِي؟ فَقَالَ: «تَمْضِي عَلَى أَمْرِكَ الَّذِي أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَزِيدُ فِيهِ وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ» فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّكَ إِنْ تَبْعَثْ أُسَامَةَ وَمَعَهُ حَدُّ النَّاسِ فَتَرْتَدُّ هَذِهِ الْأَعْرَابُ فَتَمِيلُ عَلَى ثَقَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: «وَاللَّهِ لَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّ الذِّئَابَ وَالْكِلَابَ تَنْهَشُنِي بِهَا مَا رَدَدْتُ أَمْرًا أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، امْضِ، فَإِنَّ اللَّهَ سِيُعِينُنَا، وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ أُسَامَةُ: فَخَرَجْتُ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ: مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: سَأَلَنِي أَنْ آذَنَ لَكَ فَفَعَلْتُ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْضِيَ، فَقَالَ عُمَرُ: رَحِمَكَ اللَّهُ
مظاہر امیر خان
حضرت بکیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو سپہ سالار بنایا تو لوگوں نے اعتراض کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسامہ کے کم عمر ہونے پر بات کرتے ہو، تم نے اس کے والد پر بھی اسی طرح بات کی تھی، اللہ کی قسم! وہ امارت کے لائق ہے۔“ حضرت بکیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے خبر ملی کہ حضرت عبیدہ بن سفیان رحمہ اللہ نے کہا: ”مجھے امید ہے یہ فیصلہ آج تک قائم ہے۔“ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر پر امیر بنایا اور حکم دیا کہ یبنا گاؤں کو جلا دیں۔ جب لشکر روانہ ہوا تو اسامہ کچھ ٹھہرے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ پھر اسامہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”جس چیز کا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اس پر عمل کرو، نہ میں اس میں کوئی اضافہ کروں گا نہ کمی۔“ لوگوں نے کہا: ”اگر آپ اسامہ کو بھیج دیں گے اور قریبی لوگوں کو ساتھ لے جائیں گے تو بدوی عرب مرتد ہو جائیں گے اور مدینہ پر حملہ کر دیں گے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر درندے مجھے کھا جائیں تب بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو واپس نہ کروں گا۔“ جاؤ، اللہ ہماری مدد فرمائے گا۔ لیکن اگر تم چاہو تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ساتھ رکھ لو۔ اسامہ نے کہا: ”میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں اجازت دی۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ تم پر رحم کرے۔“
حدیث نمبر: 4067
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: «إِنَّ أُنَاسًا طَعَنُوا فِي إِمْرَةِ أُسَامَةَ كَمَا طَعَنُوا فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَإِنَّهُ وَأَبُوهُ لَهَا أَهْلٌ»
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”کچھ لوگوں نے اسامہ کی امارت پر ایسے ہی طعن کیا جیسے پہلے اس کے والد کی امارت پر کیا تھا، حالانکہ وہ دونوں اس کے اہل ہیں۔“
حدیث نمبر: 4068
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حُصَيْنٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: " أَوَّلُ شَيْءٍ نَزَلَ مِنْ بَرَاءَةَ إِلَى بَعْدِ الْأَرْبَعِينَ: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} [التوبة: 41] إِلَى قَوْلِهِ: {إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [البقرة: 184] "
مظاہر امیر خان
حضرت ابو مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: سورہ براءت کی پہلی آیات چالیس سے زیادہ آیات {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} سے {إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ} تک نازل ہوئیں۔
…