کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: دشمن کے ہاتھوں قید ہو کر نصرانی ہو جانے والے قیدی کا حکم
حدیث نمبر: 4008
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كُتِبَ إِلَيْهِ فِي أَسِيرٍ تَنَصَّرَ بِأَرْضِ الرُّومِ فَكَتَبَ: «إِنْ جَاءَكَ بِذَلِكَ الثَّبْتُ فَاقْسِمْ مَالَهُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: قیدی اگر رومیوں میں جا کر نصرانی ہو جائے۔ تو اگر یہ ثابت ہو جائے۔ تو اس کا مال اس کے ورثاء میں تقسیم کر دو۔
حدیث نمبر: 4009
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي رَجُلٍ يُؤْسَرُ فَيَتَنَصَّرُ قَالَ: «إِذَا عُلِمَ ذَلِكَ بَرِئَتْ مِنْهُ امْرَأَتُهُ وَتَعْتَدُّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر قیدی نصرانی ہو جائے۔ تو اس کی بیوی اس سے جدا ہو جائے۔ اور عدت تین حیض کی گزارے۔
حدیث نمبر: 4010
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أنا جُوَيْبِرٌ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، قَالَ: «إِذَا ارْتَدَّ الرَّجُلُ بَانَتْ مِنْهُ امْرَأَتُهُ، فَإِنْ أَسْلَمَ فَهُوَ خَاطِبٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ نے فرمایا: جو مرتد ہو جائے۔ اس کی بیوی اس سے جدا ہو جاتی ہے۔ اور اگر اسلام لے آئے۔ تو نکاح دوبارہ ہو گا۔