کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: دشمن سے امان لے کر دار الاسلام میں داخل ہونے والے کا حکم
حدیث نمبر: 4002
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مُسْلِمٍ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنَ الْهِنْدِ بِأَمَانٍ إِلَى عَدَنٍ، فَقَتَلَهُ رَجُلٌ بِأَخِيهِ، فَكُتِبَ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَكَتَبَ عُمَرُ: «أَنْ لَا تَقْتُلُوهُ بِهِ، وَخُذُوا مِنْهُ الدِّيَةَ، وَابْعَثُوا بِهَا إِلَى ذُرِّيَّتِهِ» وَأُمِرَ بِهِ فَسُجِنَ
مظاہر امیر خان
حضرت زیاد بن مسلم رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک شخص ہندوستان سے امان لے کر عدن آیا۔ پھر ایک مسلمان نے اپنے بھائی کے بدلے اسے قتل کر دیا۔ تو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھا: اسے قتل نہ کرو۔ اس سے دیت لو۔ اور مقتول کے وارثوں کو بھیجو۔ اور قاتل کو قید کر دو۔
حدیث نمبر: 4003
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ} [النساء: 92] قَالَا: " الرَّجُلُ يَكُونُ مِنَ الْعَدُوِّ فَيُسْلِمُ، ثُمَّ يُرِيدُ أَنْ يَأْتِيَ الْمُسْلِمِينَ، فَيُقْتَلُ خَطَأً قَالَا: «لَا دِيَةَ فِيهِ وَعَلَيْهِ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ»
مظاہر امیر خان
حضرت عطاء اور حضرت مجاہد رحمہما اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فرمان «فإن كان من قوم عدو لكم وهو مؤمن» کے بارے میں کہ اگر کوئی دشمن قوم کا فرد اسلام قبول کرے۔ پھر خطاً قتل ہو۔ تو اس پر صرف ایک غلام آزاد کرنا لازم ہے۔ دیت نہیں۔
حدیث نمبر: 4004
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي قَوْلِهِ: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنَا إِلَّا خَطَأً، وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ} قَالَ: " هَذَا لِلْمُسْلِمِ الَّذِي وَرَثَتُهُ الْمُسْلِمُونُ، {فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: 92] قَالَ: " الرَّجُلُ الَّذِي يُسْلِمُ وَيَكُونُ قَوْمُهُ مُشْرِكِينَ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَقْدٌ {وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ، وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: 92] قَالَ: «هَذَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ وَقَوْمُهُ مُشْرِكُونَ، وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ نَبِيِّ اللَّهِ عَهْدٌ فَيُقْتَلُ فَيَكُونُ مِيرَاثُهُ لِلْمُسْلِمِينَ وَدِيَتُهُ لِقَوْمِهِ لِأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: جو مسلمان قوم مشرک ہو اور مسلمان سے معاہدہ ہو۔ اگر اس کا کوئی فرد قتل ہو۔ تو اس کی دیت اس کی قوم کو دی جائے۔ اور میراث مسلمانوں کو ملے۔
حدیث نمبر: 4005
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُمَا قَالَا فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ يَدْخُلُ دَارَ الْإِسْلَامِ بِأَمَانٍ وَفِيهَا بَعْضُ وَرَثَتِهِ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ قَالَا: " إِنْ كَانَ أَظْهَرَ السُّكُونَ فِي أَرْضِ الْعَرَبِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهُ فَلَهُ مِيرَاثُهُ، وَإِلَّا فَلَا، وَقَالَا فِي الْمَرْأَةِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ أَهْلِ الْحَرْبِ تَدْخُلُ دَارَ الْإِسْلَامِ بِأَمَانٍ قَالَا: «إِنْ أَظْهَرَتِ السُّكُونَ فِي أَرْضِ الْعَرَبِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْكِحَهَا الْمُسْلِمُ، وَإِنْ لَمْ تُظْهِرْ فَلَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا سعید بن مسیب اور سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو حربی شخص دارالاسلام میں امان کے ساتھ آئے۔ اگر اس نے دارالعرب میں سکونت اختیار کی ہو۔ تو وراثت پائے۔ ورنہ نہیں۔ اور کتابیہ عورت اگر امان کے ساتھ آئے۔ اور سکونت اختیار کرے۔ تو مسلمان اس سے نکاح کر سکتا ہے۔ ورنہ نہیں۔