کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: دشمن کی سرزمین میں تجارت کرنے، اسلحہ اور کھانے کی ترسیل کا بیان
حدیث نمبر: 3999
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ مَكْحُولًا وَأَشْيَاخَنَا يَكْرَهُونَ التِّجَارَةَ فِي الْغَزْوِ»
مظاہر امیر خان
مکحول اور ان کے شیوخ رحمہم اللہ تجارت کے ساتھ جہاد کرنے کو ناپسند نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4000
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الْحَسَنِ فِيمَنْ يَحْمِلُ الطَّعَامَ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، فَقَالَ: «أُولَئِكَ هُمُ الْفُسَّاقُ»
مظاہر امیر خان
حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو لوگ دشمن کی سرزمین میں کھانے کا سامان لے جاتے ہیں، وہ فاسق ہیں۔“
حدیث نمبر: 4001
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: «أَكْرَهُ أَنْ أَحْمِلَ السِّلَاحَ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ»، قُلْتُ: أَفَيُحْمَلُ الْخَيْلُ إِلَيْهِمْ؟ فَأَبَى ذَلِكَ، وَقَالَ: «أَمَّا مَا يَقْوُونَ بِهِ لِلْقِتَالِ فَلَا يُحْمَلُ إِلَيْهِمْ، وَأَمَّا غَيْرُهُ فَلَا بَأْسَ»
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں دشمن کی طرف ہتھیار لے جانے کو مکروہ سمجھتا ہوں، اور گھوڑے بھی انہیں نہیں بھیجنے چاہئیں، البتہ جو قتال میں مددگار نہ ہو، اس میں حرج نہیں۔“