کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: مجوسی عورتوں کے قیدی بنانے اور ان سے تعلق کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3992
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا سُبِيَتِ الْمَجُوسِيَّاتُ، وَعَبَدَةُ الْأَوْثَانِ أُجْبِرْنَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَسْلَمْنَ وُطِئْنَ، وَاسْتُخْدِمْنَ، وَإِنْ لَمْ يُسْلِمْنَ اسْتُخْدِمْنَ وَلَمْ يُوطَأْنَ، وَإِذَا سُبِيَتِ الْيَهُودِيَّاتُ وَالنَّصْرَانِيَّاتُ أُجْبِرْنَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَسْلَمْنَ، أَوْ لَمْ يُسْلِمْنَ وُطِئْنَ وَاسْتُخْدِمْنَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مجوسی اور بت پرست عورتیں قید کی جائیں، تو انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے، اگر اسلام قبول کر لیں تو ان سے ہمبستری کی جائے، ورنہ صرف خدمت لی جائے، اور یہودی و نصرانی عورتوں سے اسلام قبول کریں یا نہ کریں، ان سے ہمبستری اور خدمت دونوں جائز ہیں۔“
حدیث نمبر: 3993
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، وَجَرِيرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ عَنِ الْأَمَةِ الْمَجُوسِيَّةِ، أَيَطَؤُهَا الرَّجُلُ؟ قَالَ: «لَا» وَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: مَا هُمْ بِخَيْرٍ مِنْهُنَّ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، وَكَانَ أَشَدَّهُمَا قَوْلًا
مظاہر امیر خان
موسیٰ بن ابی عائشہ رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے مرہ ہمدانی سے پوچھا کہ مجوسی باندی سے ہمبستری جائز ہے؟ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ پھر سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے پوچھا، تو انہوں نے سختی سے منع کیا۔
حدیث نمبر: 3994
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، وَالشَّعْبِيِّ أَنَّ «السِّبَاءَ، يَهْدِمُ نِكَاحَ الزَّوْجَيْنِ»
مظاہر امیر خان
محمد بن علی اور شعبی رحمہما اللہ نے فرمایا: ”قید کر لینا میاں بیوی کے نکاح کو ختم کر دیتا ہے۔“