حدیث نمبر: 3982
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَعَمِّ، قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَبْدِ وَسَيِّدِهِ قَضِيَّتَيْنِ، قَضَى فِي الْعَبْدِ إِذَا خَرَجَ مِنْ دَارِ الْحَرْبِ قَبْلَ سَيِّدِهِ أَنَّهُ حُرٌّ، فَإِنْ خَرَجَ سَيِّدُهُ بَعْدُ لَمْ يُرَدَّ عَلَيْهِ، وَقَضَى أَنَّ السَّيِّدَ إِذَا خَرَجَ مِنْ دَارِ الْحَرْبِ قَبْلَ الْعَبْدِ، ثُمَّ خَرَجَ الْعَبْدُ بَعْدَهُ، رُدَّ عَلَى سَيِّدِهِ»
مظاہر امیر خان
ابو سعید الاعمی رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا، کہ اگر غلام دارالحرب سے مالک سے پہلے نکل آئے، تو آزاد ہے، اور اگر مالک پہلے نکلے، پھر غلام نکلے، تو غلام مالک کو واپس کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 3983
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْتِقُ الْعَبِيدَ إِذَا جَاءُوا قَبْلَ مَوَالِيهِمْ، فَأَسْلَمُوا، وَأَعْتَقَ يَوْمَ الطَّائِفِ عَبْدَيْنِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلاموں کو آزاد کر دیتے تھے، جو مالکوں سے پہلے آ کر اسلام قبول کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے دن دو غلام آزاد کیے۔
وضاحت:
الحجاج بن أرطاة کی وجہ سے سند ضعیف ہے، کیونکہ: مدلس ہے، یہاں عنعنہ سے روایت کی ہے، اور اس پر اختلاط و تسامح کی شکایات موجود ہیں۔ مِقْسَم کی روایت بھی صرف تنہا ہو تو متردد ہوتی ہے، البتہ حَکَم بن عتیبہ کی تدقیق سے اس کی تقویت ممکن ہے۔
حدیث نمبر: 3984
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ شِبَاكٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي وَاحِدٍ مِنْهُنَّ، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الطُّهُورِ وَكَانَتْ أَرْضُنَا أَرْضًا بَارِدَةً، فَلَمْ يَفْعَلْ، وَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ سَاعَةً قَطُّ، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ وَكَانَ عَبْدًا لَنَا، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحَاصِرٌ ثَقِيفًا فَأَسْلَمَ، فَأَبَى أَنْ يَرُدَّهُ عَلَيْنَا " قَالَ: «هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ، ثُمَّ طَلِيقُ رَسُولِهِ»، فَلَمْ يَرُدَّهُ عَلَيْنَا
مظاہر امیر خان
ایک ثقفی شخص نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کی اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی میں بھی نرمی نہ کی، ہم نے سرد موسم میں طہارت کی آسانی مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت نہ دی، ہم نے دباء کے استعمال کی اجازت مانگی، نہ دی، ہم نے اپنے غلام ابو بکرہ کو واپس مانگا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محاصرہ کے دوران اسلام لایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کا آزاد کردہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ ہے۔“ اور اسے واپس نہ کیا۔
وضاحت:
رجل من ثقيف – مبہم (مجہول)، یعنی صحابی کا نام ذکر نہیں۔
◄ اگرچہ راوی مجہول ہے، لیکن چونکہ وہ صحابی ہے (صحابی کی جہالت مضر نہیں ہوتی)، لہٰذا یہ اثر قابلِ قبول ہے، کم از کم حسن درجہ پر۔
◄ اگرچہ راوی مجہول ہے، لیکن چونکہ وہ صحابی ہے (صحابی کی جہالت مضر نہیں ہوتی)، لہٰذا یہ اثر قابلِ قبول ہے، کم از کم حسن درجہ پر۔