حدیث نمبر: 3980
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ، وَعَدِيَّ بْنَ عَدِيٍّ، وَمَكْحُولًا قَالُوا فِي الْعَبْدِ الْمَمْلُوكِ يَلْحَقُ بِالْعَدُوِّ ثُمَّ يُسْتَأْمَنُ قَالُوا: " يُخَيَّرُ أَنْ يُرَدَّ إِلَى مَوْلَاهُ، وَإِمَّا أَنْ يُرَدَّ إِلَى مَكَانِهِ وَلَا يُعْطَى أَمَانًا عَلَى أَنْ يَذْهَبَ بِنَفْسِهِ قَالَ: «إِنْ فُتِحَ لِلْعَبِيدِ هَذَا الْبَابُ عَمِلُوا بِهِ جَمِيعًا أَوْ عَامَّتُهُمْ»
مظاہر امیر خان
رجاء بن حیوہ، عدی بن عدی اور مکحول رحمہم اللہ نے فرمایا: ”اگر غلام دشمن سے امان مانگے، تو یا تو اپنے مالک کی طرف لوٹایا جائے، یا اپنے مقام پر، اسے خود چلے جانے کا امان نہیں دیا جائے گا، کیونکہ اگر یہ دروازہ کھل گیا تو سب غلام یہی کریں گے۔“
حدیث نمبر: 3981
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «إِذَا لَحِقَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِهِ الْعَدُوَّ فَقَتَلَ فِيهِمْ، أَوْ زَنَى، أَوْ سَرَقَ، ثُمَّ أَخَذَ أَمَانًا عَلَى نَفْسِهِ بِمَا أَصَابَ، فَأَعْطَاهُ الْأَمَانَ، لَمْ يَقُمْ عَلَيْهِ مَا أَصَابَ فِي الشِّرْكِ، وَإِذَا أَصَابَ فِي الْإِسْلَامِ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَلَحِقَ بِالشِّرْكِ، ثُمَّ أَخَذَ عَلَى نَفْسِهِ أَمَانًا، فَإِنَّهُ يُقَامُ عَلَيْهِ مَا فَرَّ مِنْهُ»
مظاہر امیر خان
عطیہ بن قیس رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی صحابی دشمن میں شامل ہو کر قتل، زنا یا چوری کرے، پھر امان لے، تو دورِ شرک کا معاملہ معاف ہے، لیکن اگر اسلام میں ایسا کرے، پھر شرک کی طرف جائے، تو اس پر حد جاری ہوگی۔“
وضاحت:
یہ روایت ضعیف و مرسل ہے، لہٰذا مستقل حجت نہیں، البتہ اس کا مفہوم دیگر صحیح نصوص سے تائید یافتہ ہے، اس لیے بطورِ استئناس قابلِ ذکر ہے۔