حدیث نمبر: 3967
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ، قَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْبَصْرَةِ غَزَوْا نَهَاوَنْدَ، فَأَمَدَّهُمْ أَهْلُ الْكُوفَةِ، فَأَرَادَ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَنَّ لَا يَقْسِمُوا لِأَهْلِ الْكُوفَةِ، وَكَانَ عَمَّارٌ عَلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُطَارِدَ: أَيُّهَا الْأَجْدَعُ، تُرِيدُ أَنْ تُشَارِكَنَا فِي غَنَائِمِنَا؟ قَالَ: خَيْرَ أُذُنَيَّ سَبَبْتَ، كَأَنَّهَا أُصِيبَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ، فَكَتَبَ عُمَرُ أَنَّ «الْغَنِيمَةَ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ»
مظاہر امیر خان
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اہلِ بصرہ نے نہاوند پر حملہ کیا، اہلِ کوفہ نے ان کی مدد کی، جب مالِ غنیمت کی تقسیم کا وقت آیا، تو اہلِ بصرہ نے اہلِ کوفہ کو روکنا چاہا، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میری بہترین چیز کو برا بھلا کہا، گویا یہ زخم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لگا تھا۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا: ”مالِ غنیمت اس کے لیے ہے جو لڑائی میں شریک ہو۔“
حدیث نمبر: 3968
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، وَحَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَحَكِيمِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالُوا: «إِذَا دَخَلَ عَسْكَرُ الْقَوْمِ وَقَدْ غَنِمُوا، وَإِنْ لَمْ يَشْهَدُوا الْقِتَالَ وَالْفَتْحَ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ مِنَ الْغَنِيمَةِ»
مظاہر امیر خان
عطیہ بن قیس رحمہ اللہ و دیگر نے فرمایا: ”جو لوگ لڑائی کے بعد لشکر میں شامل ہوں اور فتح میں شریک نہ ہوں، ان کا مالِ غنیمت میں کوئی حصہ نہیں۔“
حدیث نمبر: 3969
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عَنْبَسَةَ بْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ، فَقَدِمَ أَبَانُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ أَنْ فَتَحَهَا، وَإِنَّ حُزُمَ خَيْلِهِمْ لَلِيفٌ، فَقَالَ أَبَانُ: اقْسِمْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَا تَقْسِمْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ أَبَانُ: أَنْتَ بِهَا يَا وَبْرُ، تَحَدَّرَ مِنْ رَأْسِ ضَالٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسْ يَا أَبَانُ»، وَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
مظاہر امیر خان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان بن سعید بن عاص کو نجد کی طرف بھیجا، وہ خیبر کے بعد واپس آئے، ابان نے کہا: ”اے رسول اللہ! ہمارے لیے بھی تقسیم کریں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”نہ کیجئے۔“ ابان نے ابوہریرہ کو طعنہ دیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ ابان!“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ مقرر نہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 3970
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: نا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَدِمَ قَيْسُ بْنُ مَكْشُوحٍ الْمُرَادِيُّ عَلَى سَعْدٍ فِي ثَمَانِينَ، وَكَانَ مَعَهُ ثَلَاثُمِائَةٍ، فَتَعَجَّلَ إِلَى سَعْدٍ فِي ثَمَانِينَ، فَشَهِدَ الْوَقْعَةَ، ثُمَّ جَاءَ بَقِيَّةُ أَصْحَابِهِ بَعْدَ الْوَقْعَةِ، فَسَأَلُوا سَعْدًا أَنْ يُسْهِمَ لَهُمْ، فَأَبَى حَتَّى كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ أَنْ أَسْهِمْ لِمَنْ أَتَاكَ قَبْلَ أَنْ يَتَفَقَّأَ قَتْلَى فَارِسَ، وَمَنْ جَاءَ بَعْدَ تَفَقِّي الْقَتْلَى فَلَا شَيْءَ لَهُ "
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: قیس بن مکشوح اسی آدمیوں کے ساتھ سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور واقعہ سے پہلے لڑائی میں شریک ہو گئے، باقی لوگ بعد میں آئے، جب انہوں نے حصہ مانگا، تو سعد نے انکار کیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا، تو انہوں نے لکھا: ”جو قتال سے پہلے آیا، اس کے لیے حصہ ہے، جو بعد میں آیا، اس کے لیے کچھ نہیں۔“
حدیث نمبر: 3971
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنْ «أَسْهِمْ، لِمَنْ أَتَاكَ قَبْلَ أَنَّ يَتَفَقَّأَ قَتْلَى فَارِسَ»
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو لکھا: ”ان لوگوں کو حصہ دو جو قتال سے پہلے پہنچے۔“