حدیث نمبر: 3961
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ شِبْلًا حَدَّثَهُ أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ عَاصِمٍ وَلَدَتْ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسَاهَلْتِ»، ثُمَّ ضَرَبَ لَهَا بِسَهْمٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَعْطَيْتَ سَهْلَةَ مِثْلَ سَهْمِي
مظاہر امیر خان
سہلہ بنت عاصم رضی اللہ عنہا نے خیبر کے دن بچہ جنا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے آسانی کی۔“ پھر ان کے لیے حصہ مقرر فرمایا، ایک شخص نے کہا: ”آپ نے سہلہ کو میرا جتنا حصہ دے دیا۔“
وضاحت:
توثیق اور تعدیل
امام احمد بن حنبل نے فرمایا: "شبل ثقة" یعنی وہ ثقہ ہیں۔
یحییٰ بن معین نے بھی انہیں "ثقة" قرار دیا۔
ابو حاتم الرازی نے کہا: "هو أحب إلي من ورقاء في ابن أبي نجيح" یعنی ابن ابی نجيح کی روایت میں شبل مجھے ورقاء سے زیادہ پسند ہیں۔
ابو داود السجستانی نے فرمایا: "ثقة إلا أنه يرى القدر" یعنی وہ ثقہ ہیں، البتہ قدریہ نظریہ رکھتے ہیں۔
ابن حبان نے انہیں اپنی کتاب "الثقات" میں شامل کیا ہے۔
الدارقطني نے بھی انہیں "ثقة" کہا ہے۔
ابن حجر العسقلانی نے "تقريب التهذيب" میں ان کے بارے میں لکھا: "ثقة رمي بالقدر" یعنی وہ ثقہ ہیں، لیکن ان پر قدریہ کا الزام ہے
امام احمد بن حنبل نے فرمایا: "شبل ثقة" یعنی وہ ثقہ ہیں۔
یحییٰ بن معین نے بھی انہیں "ثقة" قرار دیا۔
ابو حاتم الرازی نے کہا: "هو أحب إلي من ورقاء في ابن أبي نجيح" یعنی ابن ابی نجيح کی روایت میں شبل مجھے ورقاء سے زیادہ پسند ہیں۔
ابو داود السجستانی نے فرمایا: "ثقة إلا أنه يرى القدر" یعنی وہ ثقہ ہیں، البتہ قدریہ نظریہ رکھتے ہیں۔
ابن حبان نے انہیں اپنی کتاب "الثقات" میں شامل کیا ہے۔
الدارقطني نے بھی انہیں "ثقة" کہا ہے۔
ابن حجر العسقلانی نے "تقريب التهذيب" میں ان کے بارے میں لکھا: "ثقة رمي بالقدر" یعنی وہ ثقہ ہیں، لیکن ان پر قدریہ کا الزام ہے
حدیث نمبر: 3962
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، " أَنَّ نِسَاءً مِنَ الْمُسْلِمِينَ شَهِدْنَ الْيَرْمُوكَ مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، فَكَانَ بَعْضُهُنَّ يُقَاتِلْنَ، وَبَعْضُهُنَّ يَسْقِينَ الْمَاءَ، وَيَرْتَجِزْنَ، وَيَقُلْنَ فِي ارْتِجَازِهِنَّ: ¤ [البحر الرجز] ¤ إِنَّكُمْ إِنْ تُقَاتِلُوا نُعَانِقْ ... وَنَفْرِشِ النَّمَارِقْ ¤ وَأَلَّا تُقَاتِلُوا نُفَارِقْ ... فِرَاقَ غَيْرَ وَامِقْ ¤
مظاہر امیر خان
ابو بکر بن عبداللہ بن ابی مریم رحمہ اللہ سے روایت ہے: مسلمان عورتوں نے یرموک کے دن سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے ساتھ شرکت کی، بعض لڑتی تھیں، بعض پانی پلاتی تھیں، اور بعض اشعار پڑھتی تھیں: ”اگر تم لڑو تو ہم تم سے لپٹ جائیں گی، اور اگر نہ لڑو تو ہم جدا ہو جائیں گی، بغیر محبت کے۔“
حدیث نمبر: 3962M
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ أَنَّهُنَّ أُسْهِمْنَ يَوْمَئِذٍ "
مظاہر امیر خان
ابو بکر بن ابی مریم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان عورتوں کو یرموک کے دن حصہ دیا گیا۔“
حدیث نمبر: 3963
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةَ «شَهِدَتِ الْيَرْمُوكَ مَعَ النَّاسِ، فَقَتَلَتْ سَبْعَةً مِنَ الرُّومِ بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ ظَلَّتْهَا»
مظاہر امیر خان
اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا نے یرموک کے دن جنگ میں شرکت کی، اور ایک خیمے کے ستون سے سات رومیوں کو قتل کیا۔
حدیث نمبر: 3964
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قُرْطٍ الْأَزْدِيَّ، حَدَّثَهُ قَالَ: «غَزَوْتُ الرُّومَ مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَرَأَيْتُ نِسَاءَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَنِسَاءَ أَصْحَابِهِ مُشَمِّرَاتٍ يَحْمِلْنَ الْمَاءَ لِلْمُهَاجِرِينَ يَرْتَجِزْنَ»
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن قرط ازدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ رومیوں سے لڑنے گیا، تو میں نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی عورتوں کو پانی لاتے اور اشعار پڑھتے دیکھا۔
حدیث نمبر: 3965
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْهَمَ لِرَجُلَيْنِ مِنَ الْيَهُودِ يَوْمَ خَيْبَرَ»
مظاہر امیر خان
زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن دو یہودیوں کو مالِ غنیمت میں حصہ دیا۔
حدیث نمبر: 3966
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَانَ بِنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ فِي حَرْبِهِ فَأَسْهَمَ لَهُمْ»
مظاہر امیر خان
زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں کچھ یہودیوں سے مدد لی، اور ان کو حصہ دیا۔