حدیث نمبر: 3956
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ: «أَنَّ كُلَّ عَبْدٍ قَاتَلَ لَيْسَ مَعَهُ مَوْلَاهُ فَاضْرِبْ لَهُ سَهْمَهُ سَهْمَ الْحُرِّ، فَضُرِبَ لِغُلَامٍ لَنَا كَمَا ضُرِبَ لِلْحُرِّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں لکھا: ”جو غلام اپنے آقا کے بغیر قتال کرے، اس کے لیے آزاد آدمی کے برابر حصہ مقرر کرو، چنانچہ ہمارے ایک غلام کے لیے بھی آزاد کے برابر حصہ مقرر کیا گیا۔“
حدیث نمبر: 3957
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ الْحَسَنَ، يُحَدِّثُ عَنْ مَخْلَدٍ الْغِفَارِيِّ، «أَنَّ مَمْلُوكِينَ ثَلَاثَةً لِبَنِي غِفَارٍ شَهِدُوا بَدْرًا، فَكَانَ عُمَرُ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فِي كُلِّ سَنَةٍ ثَلَاثَةَ آلَافٍ»
مظاہر امیر خان
مخلد غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بنو غفار کے تین غلام بدر میں شریک ہوئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہر سال ہر ایک کو تین ہزار درہم دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 3958
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الْعَبْدِ، وَالْأَجِيرِ، وَالتَّاجِرِ يَشْهَدُونَ الْمَغْنَمَ، فَقَالَ: «يُسْهَمُ، وَسَهْمُ الْعَبْدِ لِمَوْلَاهُ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام، مزدور اور تاجر جب مالِ غنیمت میں شریک ہوں، تو ان کا حصہ مقرر ہوگا، اور غلام کا حصہ اس کے مالک کا ہوگا۔“