حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يُسْهِمُ لِلْخَيْلِ، وَكَانَ لَا يُسْهِمُ لِلرَّجُلِ فَوْقَ فَرَسَيْنِ، وَإِنْ كَانَ مَعَهُ عَشَرَةُ أَفْرَاسٍ»
مظاہر امیر خان
اوزاعی رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑوں کے لیے حصہ مقرر کرتے تھے، اور ایک شخص کے لیے دو گھوڑوں سے زیادہ کا حصہ نہیں رکھتے تھے، اگرچہ اس کے پاس دس گھوڑے بھی ہوں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ أَنْ: «أَسْهِمْ، لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ، وَلِلْفَرَسَيْنِ أَرْبَعَةَ أَسْهُمٍ، وَلِصَاحِبِهَا سَهْمًا، فَذَلِكَ خَمْسَةُ أَسْهُمٍ، وَمَا كَانَ فَوْقَ الْفَرَسَيْنِ فَهِيَ جَنَائِبُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو لکھا: ”گھوڑے کے لیے دو حصے، دو گھوڑوں کے لیے چار حصے، اور سوار کے لیے ایک حصہ، کل پانچ حصے، اور دو گھوڑوں سے زیادہ جو ہوں وہ اضافی جانور ہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَتَبَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بِذَلِكَ
مظاہر امیر خان
یہی مضمون سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو دوسرے خط میں بھی لکھا۔