کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3931
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَابْنُ عَجْلَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ - يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا انْصَرَفَ عَنْ حُنَيْنٍ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ فَأَخَذَتْ سَمُرَةٌ بِرِدَائِهِ، فَقَالَ: «رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي، تَخَافُونَ عَلَيَّ الْبُخْلَ، وَاللَّهِ لَوْ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيَّ مِثْلَ سَمُرِ تِهَامَةَ نَعَمًا لَقَسَمْتُهُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا، وَلَا جَبَانًا، وَلَا كَذَّابًا» فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ قِسْمَةِ الْخُمُسِ أَتَاهُ رَجُلٌ يَسْتَحِلُّهُ مِخْيَطًا أَوْ خِيَاطًا، فَقَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ، فَإِنَّهُ عَارٌ وَشَنَارٌ وَنَارٌ»، ثُمَّ رَفَعَ وَبَرَةً مِنْ ظَهْرِ بَعِيرِهِ، فَقَالَ: «مَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ وَلَا مِثْلُ هَذَا إِلَّا الْخُمُسُ وَهُوَ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ»
مظاہر امیر خان
عمرو بن دینار رحمہ اللہ اور عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے لوٹے، تو ایک بیری نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر پکڑ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری چادر واپس دو، کیا تم مجھ پر بخل کا خوف کرتے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر اللہ مجھے تہامہ کے درختوں کے برابر مال دے دے تو میں تم میں تقسیم کر دوں گا، پھر نہ تم مجھے بخیل پاؤ گے، نہ بزدل اور نہ جھوٹا۔“ پھر جب خمس کی تقسیم ہوئی تو ایک شخص آیا اور سوئی یا دھاگہ حلال کرنے کا مطالبہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! مالِ غنیمت میں خیانت نہ کرو، کیونکہ یہ قیامت کے دن رسوائی، بدنامی اور آگ ہے۔“ پھر اپنے اونٹ کی پیٹھ سے ایک اون کا تنکا اٹھایا اور فرمایا: ”اللہ نے جو مال تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے میرے لیے یہ تنکا بھی حلال نہیں، سوائے خمس کے اور وہ بھی تمہیں لوٹایا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3931
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 1666، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3690، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4425، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2694، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2754، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6844،، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38117»
قال ابن عبدالبر: "ثم لا تجدوني بخيلاً، ولا جباناً، ولا كذاباً" یہ اثر مرسل صفوان سے زیادہ قوی ہے۔ (التمهيد لابن عبد البر، 16 / 253)
حدیث نمبر: 3932
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ (1)بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا ظَهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ حُنَيْنٍ سَأَلَهُ النَّاسُ وَازْدَحَمُوا عَلَيْهِ حَتَّى أَلْجَوْهُ إِلَى شَجَرَةٍ عَلِقَتْ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: « عَلَامَ تَضْطَرُّونِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ ؟ حَتَّى عَلِقَتْ رِدَائِي، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ كَانَ هَذَا الْوَادِي نَعَمًا كُلُّهُ لَقَسَمْتُهُ فِيكُمْ » .
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہلِ حنین پر غالب آئے، تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مال مانگنے لگے اور اس قدر ہجوم کیا کہ ایک درخت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھکیل دیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر لٹک گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھے اس درخت کی طرف کیوں دھکیل رہے ہو؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر یہ وادی سارا مال و دولت ہوتا تو میں تم میں تقسیم کر دیتا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3932
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
(1) زاد بعده في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند (عن) وهو خطأ، وينظر ترجمة شريك في التهذيبين وغيرهما
قال ابن حجر: صالح بن موسى بن عبد الله متروک
حدیث نمبر: 3933
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يُؤْتَى بِالْغَنَائِمِ، فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنَ الْأَرْضِ صَغِيرَةً، فَأَمْسَكَهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، وَاللَّهِ مَا يَحِلُّ لِي مِنَ الْفَيْءِ قَدْرُ هَذِهِ الْوَبَرَةِ إِلَّا الْخُمُسُ، وَإِنَّ الْخُمُسَ لَمَرْدُودٌ فِيكُمْ، فَاتَّقُوا اللَّهَ، وَأَدُّوا الْمِخْيَطَ وَالْخِيَاطَ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْغُلُولَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ»
مظاہر امیر خان
مطلب بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہیں یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن زمین پر پڑی ہوئی ایک چھوٹی سی اون اٹھائی اور دو انگلیوں کے درمیان پکڑ کر فرمایا: ”لوگو! اللہ کی قسم، میرے لیے مالِ غنیمت سے اس اون کے برابر بھی کچھ حلال نہیں، سوائے خمس کے اور خمس بھی تمہارے درمیان واپس تقسیم کیا جاتا ہے، پس اللہ سے ڈرو اور سوئی اور دھاگہ ادا کرو، اور جان لو کہ خیانت قیامت کے دن رسوائی، آگ اور بدنامی ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3933
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، و«انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
سند مرسل ہے، اور اصولاً ضعیف شمار ہوتی ہے، لیکن متن کے الفاظ بالکل وہی ہیں جو حدیث نمبر 2754 میں موجود صحیح/حسن سند کے ساتھ آ چکے ہیں۔
حدیث نمبر: 3934
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ، وَهِيَ مِنَ الْغَنَائِمِ تُبَاعُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلَادَةِ، فَنُزِعَ وَحْدَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خیبر میں ایک ہار لایا گیا جس میں منکے اور سونا تھا، اور وہ مالِ غنیمت میں سے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سونے کو الگ کیا جائے، پھر فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے برابر وزن کے ساتھ خریدو۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3934
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1591، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4587، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6121، 6122، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3351، 3352، 3353، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1255، 1255 م، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2757، والدارقطني فى «سننه» برقم: 2796، 2797، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24570، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 20555، 37602»
حدیث نمبر: 3935
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، أَنَّهُ كَانَ عَلَى الْغَنَائِمِ بِأَرْضِ الرُّومِ، فَكَانَ لَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَشْتَرِي مِنَ الْمَغْنَمِ دَابَّةً، أَوْ خَادِمًا، أَوْ مَتَاعًا، أَوْ ثَوْبًا بِهِ دَاءٌ أَوْ عَيْبٌ يُرِيدُ رَدَّهُ إِلَّا قَبِلَهُ، وَمحَا الثَّمَنَ عَنْهُ "
مظاہر امیر خان
یحییٰ بن جابر رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ روم کی زمین میں مالِ غنیمت پر مقرر تھے، اور مسلمانوں میں سے جو کوئی کسی غلام، جانور، سامان یا کپڑے میں کوئی نقص دیکھ کر اسے واپس کرنا چاہتا، وہ اس کی قیمت ختم کر دیتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3935
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 3936
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَغْنَمِ حَتَّى يُقَسَّمَ»
مظاہر امیر خان
مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مالِ غنیمت کو تقسیم ہونے سے پہلے نہ بیچا جائے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3936
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2759، 2815، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8706، 9489، 9490، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 1425»