کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: دشمن کے سامان تجارت، سونا اور چاندی کی خرید و فروخت کا بیان
حدیث نمبر: 3927
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُقْبِلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ هَانِئِ بْنِ كُلْثُومٍ، أَنَّ صَاحِبَ جَيْشِ الشَّامِ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّا فَتَحْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الطَّعَامِ وَالْعَلَفِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَقَدَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا بِأَمْرِكَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: «أَنْ دَعِ النَّاسَ يَأْكُلُوا وَيَعْلِفُوا، فَمَنْ بَاعَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَلْيَرُدَّهُ إِلَى غَنَائِمِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَدْ وَجَبَ فِيهِ خُمْسُ اللَّهِ وَسِهَامُ الْمُسْلِمِينَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شام کے لشکر کو لکھا: ”وہاں کا کھانا اور چارہ کھاؤ، جو چیز بیچو اسے واپس غنیمت میں لوٹاؤ کیونکہ اس میں خمس اور مسلمانوں کا حق ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3927
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيره
تخریج حدیث «إسناده حسن لغيره، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2750، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 18077، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34011»
مقبل بن عبد الله مجہول ہے، اس لیے مفرد طور پر حجت نہیں، مگر چونکہ مفہوم کی تائید دیگر صحیح آثار (عمر رضی اللہ عنہ، ابو وائل، حسن بصری وغیرہ) سے ہو رہی ہے، اس لیے یہ اثر محتوی اور مضمون کے لحاظ سے قابلِ اعتماد اور فقہی استدلال کے قابل ہے۔
حدیث نمبر: 3928
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: «دَخَلَ الْقَسْمُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُصِيبُهُ الْمُسْلِمُونَ فِي أَرْضِ عَدُوِّهِمْ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مَطْعَمٍ أَوْ مَشْرَبٍ، وَمَنْ بَاعَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ، فَلْيُؤَدِّهِ إِلَى غَنَائِمِ الْمُسْلِمِينَ»
مظاہر امیر خان
مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: ”مسلمانوں کو دشمن کی سرزمین میں جو چیز ملے اس میں تقسیم ہوگی، سوائے کھانے اور پینے کی اشیاء کے، اور جو شخص ان میں سے کسی چیز کو سونا یا چاندی لے کر بیچے، اسے مسلمانوں کے مالِ غنیمت میں جمع کرائے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3928
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 3929
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، قَالَ: قُلْتُ لِمُجَاهِدٍ: نَكُونُ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ فَنُصِيبُ الْغَنَائِمَ، فَتَكْثُرُ عَلَيْنَا حَتَّى لَا يَسْتَطِيعَ الْأَمِيرُ وَالنَّاسُ، وَيَعْجِزُونَ عَنْ حَمْلِهِ، فَيَقُولُ الْأَمِيرُ: مَنْ أَخَذَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ، فَقَالَ: «وَلَا مِخْيَطًا»
مظاہر امیر خان
لیث رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ہم دشمن کی سرزمین میں ہوتے ہیں اور بہت زیادہ غنیمت اکٹھی ہو جاتی ہے، تو امیر کہتا ہے: ”جو کچھ لے لو وہ تمہارا ہے۔“ تو انہوں نے کہا: ”نہ سوئی بھی!“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3929
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 3930
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَكْحُولًا، يَقُولُ: «مَا قَطَعْتَ مِنْ شَجَرَةٍ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ، وَعَمِلْتَ مِنْهُ قَدَحًا، أَوْ هِرَاوَةً، أَوْ وَتِدًا، أَوْ مِرْزَبَّةً فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَمَا وَجَدْتَهُ فِي ذَلِكَ مَعْمُولًا فَأَدِّهِ إِلَى الْمَغْنَمِ»
مظاہر امیر خان
مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: ”دشمن کی سرزمین میں کسی درخت سے اگر تم نے برتن، لاٹھی، کیل یا ہتھوڑا بنایا تو اس میں کوئی حرج نہیں، اور جو چیز پہلے سے بنی ہوئی ملے تو اسے مالِ غنیمت میں جمع کراؤ۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3930
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2753، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34287»