کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: دشمن کی سرزمین میں کھانے پینے کی اشیاء کو مباح سمجھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3912
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كُنَّا نُصِيبُ فِي الْمَغَازِي الثِّمَارَ، فَنَأْكُلُهُ وَلَا نَرْفَعُهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہم غزوات میں پھل پاتے تو کھا لیتے اور ذخیرہ نہ کرتے۔“
حدیث نمبر: 3913
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «كُنَّا نُصِيبُ فِي مَغَازِينَا الْحِنْطَةَ، وَالشَّعِيرَ، وَالسَّمْنَ وَالْعَسَلَ فَنَأْكُلُهُ»
مظاہر امیر خان
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہم غزوات میں گندم، جو، گھی اور شہد حاصل کرتے تو اسے کھا لیتے تھے۔۔“
حدیث نمبر: 3914
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ عَنِ الطَّعَامِ نُصِيبُهُ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ، قَالَ: سَلِ الْحَسَنَ؛ فَإِنَّهُ كَانَ يَغْزُو، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «كُنَّا نُصِيبُهُ، فَنَأْكُلُهُ، وَلَا نَرْفَعُهُ»
مظاہر امیر خان
محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے کہا کہ حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا، وہ جہاد میں جاتے تھے، انہوں نے بتایا: ”ہم مال کھاتے تھے مگر ذخیرہ نہیں کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 3915
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَكَانَ النَّفَرُ يُصِيبُونَ الْغَنَمَ الْعَظِيمَةَ، وَلَا يُصِيبُ الْآخَرُونَ إِلَّا الشَّاةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّكُمْ أَطْعَمْتُمْ إِخْوَانَكُمْ» فَرَمَيْنَا لَهُمْ بِشَاةٍ شَاةٍ، حَتَّى كَانَ الَّذِي مَعَهُمْ أَكْثَرَ مِنَ الَّذِي مَعَنَا قَالَ بَكْرٌ: وَمَا رَأَيْنَا أَحَدًا قَطُّ يَقْسِمُ الطَّعَامَ كُلَّهُ، وَلَا يُنْكِرُ أَخْذَهُ، وَلَكِنْ يُسْتَمْتَعُ بِهِ، وَلَا يُبَاعُ، فَأَمَّا غَيْرُ الطَّعَامِ مِنْ مَتَاعِ الْعَدُوِّ فَإِنَّهُ يُقَسَّمُ , قَالَ بَكْرٌ: وَقَدْ رَأَيْتُ النَّاسَ يَنْقَلِبُونَ بِالْمَشَاجِبِ، وَالْعِيدَانِ، لَا يُبَاعُ فِي قَسْمٍ لَنَا مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ
مظاہر امیر خان
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں لوگ بڑی بڑی بکریاں پاتے، بعض کو صرف ایک بکری ملتی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش تم اپنے بھائیوں کو کھانے میں شریک کرتے۔“ تو سب نے اپنی بکریاں ملائیں یہاں تک کہ جن کے پاس کم تھا، وہ زیادہ ہو گیا،، لیکن غیر طعام مال تقسیم کیا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 3916
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ حَرْشَفٍ الْأَزْدِيَّ حَدَّثَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُنَّا نَأْكُلُ الْجُزُرَ فِي الْغَزْوِ وَلَا نَقْسِمُهُ حَتَّى إِنْ كُنَّا لَنَرْجِعُ إِلَى رِحَالِنَا وَأَخْرِجَتُنَا مِنْهُ مُمْلَأَةٌ»
مظاہر امیر خان
ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم غزوہ میں اونٹ ذبح کرتے، گوشت کھاتے لیکن تقسیم نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ شکم بھر کر لوٹتے۔“
حدیث نمبر: 3917
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: قُلْتُ: هَلْ كُنْتُمْ تُخَمِّسُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّعَامَ؟ قَالَ: «أَصَبْنَا طَعَامًا يَوْمَ خَيْبَرَ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ فَيَأْخُذُ مِنْهُ مِقْدَارَ مَا يَكْفِيهِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھانے کو خمس کیا جاتا تھا؟“ فرمایا: ”ہم خیبر میں کھانے پر پہنچے تو ہر آدمی اپنی ضرورت کے مطابق لیتا اور واپس چلا جاتا۔“
حدیث نمبر: 3918
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «كَانُوا يَقْتَسِمُونَ الطَّعَامَ وَالْعَلَفَ قَبْلَ أَنْ يُخَمَّسَ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ لوگ خمس نکالتے، پھر اسی بی کھاتے اور چارے کو تقسیم کر لیتے تھے۔“
حدیث نمبر: 3919
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «كَانُوا يَأْكُلُونَ مِنَ الْعَسَلِ وَالْفَوَاكِهِ، وَيَعْلِفُونَ إِلَّا الْحِنْطَةَ؛ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَأْخُذُونَ حَتَّى يُخَمَّسَ»
مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ شہد اور پھل کھا لیتے اور چارہ استعمال کر لیتے، لیکن گندم تک خمس نکالے بغیر نہیں لیتے تھے۔“
حدیث نمبر: 3920
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كَانَ سَلْمَانُ إِذَا أَصَابَ شَاةً مِنَ الْمَغْنَمِ ذُبِحَتْ أَوْ ذَبَحُوهَا عَمَدَ إِلَى جِلْدِهَا، فَجَعَلَ مِنْهُ جِرَابًا، وَإِلَى شَعْرِهَا فَجَعَلَ مِنْهُ حَبْلًا، وَإِلَى لَحْمِهَا فَيُقَدِّدُهُ، فَيَنْتَفِعُ بِجِلْدِهَا، وَيَعْمِدُ إِلَى الْحَبْلِ فَيَنْظُرُ رَجُلًا مَعَهُ فَرَسٌ قَدْ صُرِعَ بِهِ فَيُعْطِيهِ، وَيَعْمِدُ إِلَى اللَّحْمِ فَيَأْكُلُهُ فِي الْأَيَّامِ، فَإِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ يَقُولُ: «إِنِّي أَسْتَغْنِي بِالْقَدِيدِ فِي الْأَيَّامِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْسِدَهُ، ثُمَّ أَحْتَاجُ إِلَى مَا فِي أَيْدِي النَّاسِ»
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے: سلمان رضی اللہ عنہ جب مالِ غنیمت میں کوئی بکری حاصل کرتے تو اسے ذبح کر لیتے یا ذبح کروا لیتے، پھر اس کی کھال سے تھیلا بنا لیتے، اس کے بالوں سے رسی تیار کر لیتے اور اس کے گوشت کو خشک کر کے (قدید) بنا لیتے۔ کھال سے خود فائدہ اٹھاتے، رسی کسی ایسے شخص کو دے دیتے جس کا گھوڑا گر گیا ہو، اور گوشت ایام میں کھانے کے لیے محفوظ رکھتے۔ جب ان سے اس بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے: ”میرے لیے خشک گوشت کے ذریعے چند دنوں کا گزارہ کرنا اس سے بہتر ہے کہ اسے خراب کر بیٹھوں، پھر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑے۔“
حدیث نمبر: 3921
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ شَيْخٍ قَدِيمٍ قَدْ أَدْرَكَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُنَّا نَغْزُو فَنُصِيبُ مِنَ الثِّمَارِ وَالْأَعْنَابِ مَا كَانَتْ ظَاهِرَةً، وَإِذَا أَدْخَلُوهَا الْبُيُوتَ لَمْ نَأْخُذْهَا إِلَّا مُثَامَنَةً»
مظاہر امیر خان
ایک پرانے بزرگ رحمہ اللہ سے روایت ہے، جو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے کو پا چکے تھے: وہ فرماتے ہیں: ”ہم جب جہاد میں نکلتے اور میدان میں درختوں پر ظاہر ہونے والے پھل اور انگور پاتے تو ان سے استفادہ کر لیتے، لیکن جب پھل گھروں میں محفوظ کر لیے جاتے تو ہم انہیں خرید کر ہی لیتے۔“
حدیث نمبر: 3922
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْقَوْمِ يَغْزُونَ يُصِيبُونَ الطَّعَامَ وَالْجُبْنَ، فَقَالَ: «لَهُمْ أَنْ يَأْكُلُوا، وَمَا فَضَلَ رَفَعُوهُ إِلَى الْإِمَامِ»
مظاہر امیر خان
عطاء رحمہ اللہ نے کہا: ”جب لوگ کھانے اور پنیر حاصل کریں تو کھا لیں، جو بچ جائے، امام کے پاس واپس کریں۔“
حدیث نمبر: 3923
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: «كُنَّا نَغْزُو فَنُصِيبُ مِنَ الثِّمَارِ، وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا»
مظاہر امیر خان
ابو وائل رحمہ اللہ نے کہا: ”ہم غزوے میں پھل کھاتے، اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔“