حدیث نمبر: 3906
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فِي الْغَزْوِ، فَوَجَدَ إِنْسَانًا قَدْ غَلَّ، فَدَعَا سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ وَجَدْتُمُوهُ قَدْ غَلَّ فَاضْرِبُوهُ، وَحَرِّقُوا مَتَاعَهُ»، فَوُجِدَ فِي رَحْلِهِ مُصْحَفٌ، فَسُئِلَ سَالِمٌ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: بِيعُوهُ وَتَصَدَّقُوا بِثَمَنِهِ
مظاہر امیر خان
مسلمہ بن عبدالملک نے سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے پوچھا: ”کسی شخص کے پاس سے غنیمت میں چوری شدہ مال ملا تو کیا کریں؟“ سالم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے خیانت میں پکڑو، اسے مارو اور اس کا سامان جلاؤ۔“ پھر اگر اس کے سامان میں قرآن ہو تو بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کر دو۔
حدیث نمبر: 3907
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ فِي الَّذِي يَغُلُّ قَالَ: «يُحَرَّقُ رَحْلُهُ»
مظاہر امیر خان
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جس نے مالِ غنیمت میں خیانت کی، اس کا سامان جلا دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 3908
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، «أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ زِيَادٌ غَلَّ شَعَرًا مِنَ الْمَغْنَمِ، فَأُتِيَ بِهِ أَبُو سَعِيدِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، فَجَمَعَ مَالَهُ فَأَحْرَقَ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَاضِرٌ ذَلِكَ، فَلَمْ يَعِبْهُ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص زیاد نے مالِ غنیمت میں سے اون چرایا، ابو سعید بن عبدالملک نے اس کا سارا مال جمع کر کے جلا دیا اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی موجود تھے، مگر انہوں نے کوئی اعتراض نہ کیا۔