حدیث نمبر: 3885
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا ابْنُ عَوْنٍ، وَيُونُسُ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ مَالِكٍ بَارَزَ مُرْزُبَانَ الزَّأْرَةِ بِالْبَحْرَيْنِ فَطَعَنَهُ، فَدَقَّ صُلْبَهُ فَصَرَعَهُ، وَنَزَلَ إِلَيْهِ فَقَطَعَ يَدَهُ، وَأَخَذَ سِوَارَيْهِ وَسَلَبَهُ، فَلَمَّا صَلَّى عُمَرُ الظُّهْرَ أَتَى أَبَا طَلْحَةَ فِي دَارِهِ فَقَالَ: «إِنَّا كُنَّا لَا نُخَمِّسُ السَّلَبَ، وَإِنَّ سَلَبَ الْبَرَاءِ قَدْ بَلَغَ مَالًا، فَأَنَا خَامِسُهُ، فَكَانَ أَوَّلُ سَلَبٍ خُمِّسَ فِي الْإِسْلَامِ سَلَبَ الْبَرَاءِ»
مظاہر امیر خان
ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے بحرین میں زأرہ کے مرزبان سے مقابلہ کیا، اسے نیزہ مار کر ریڑھ توڑ دی اور قتل کر دیا، پھر اس کے سوار اور مالِ غنیمت لے لیا۔ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھی تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر گئے اور فرمایا: ”ہم سلب میں خمس (پانچواں حصہ) نہیں نکالا کرتے تھے، لیکن براء کا سلب اتنا قیمتی ہے کہ میں اسے خمس کر رہا ہوں۔“ چنانچہ اسلام میں سب سے پہلے براء رضی اللہ عنہ کا سلب خمس کیا گیا۔
حدیث نمبر: 3886
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ سَلَبَ الْبَرَاءِ، بَلَغَ نَحْوًا مِنْ ثَلَاثِينَ أَلْفًا أَوْ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: براء رضی اللہ عنہ کا مالِ غنیمت تقریباً تیس ہزار کے برابر تھا یا اس کے قریب۔
حدیث نمبر: 3887
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: «رَأَيْتُ سِوَارَ الْمُرْزُبَانِ فِي يَدِ بَعْضِ نِسَاءِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ»
مظاہر امیر خان
ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے مرزبان کے سوار (زیور) کو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے اہلِ خانہ کی کسی عورت کے ہاتھ میں دیکھا۔
حدیث نمبر: 3888
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: لَمَّا أَقْفَلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَيْشَ الَّذِي كَانُوا مَعَ مَسْلَمَةَ كُسِرَ مَرْكَبُ بَعْضِهِمْ فَأَخَذَ الْمُشْرِكُونَ نَاسًا مِنَ الْقِبْطِ، وَكَانُوا خَدَمًا لَهُمْ، فَخَرَجُوا يَوْمًا إِلَى عِيدِهِمْ، وَخَلَّفُوا الْقِبْطَ فِي مَرْكَبِهِمْ، وَشَرِبَ الْآخَرُونَ، وَرَفَعَ الْقِبْطُ الْقِلْعَ، وَفِي الْمَرْكَبِ مَتَاعُ الْآخَرِينَ وَسِلَاحُهُمْ فَلَمْ يَضَعُوا قِلْعَهُمْ حَتَّى أَتَوْا بَيْرُوتَ، فَكَتَبَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَكَتَبَ عُمَرُ: «نَفِّلُوهُمُ الْمَرْكَبَ، وَمَا فِيهِ وَكُلَّ شَيْءٍ جَاءُوا بِهِ إِلَّا الْخُمُسَ»
مظاہر امیر خان
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے حکم دیا کہ جو قبطی غلام مشرکوں کی قید سے بچ کر جہاز کے ساتھ بیروت آئے تھے، ان کو وہ جہاز اور اس میں موجود مال و اسباب انعام میں دے دیا جائے، سوائے خمس کے۔
حدیث نمبر: 3889
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: «السَّلَبُ مَغْنَمٌ، وَفِيهِ الْخُمُسُ»
مظاہر امیر خان
امام مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلب (قتل شدہ دشمن کا مال) مالِ غنیمت ہے اور اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حدیث نمبر: 3890
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، عَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي، وَخَاصَمْتُ إِلَيْهِ فَأَفْلَحَنِي، وَخُطِبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي، قَالَ مَعْنٌ: «لَا تَحِلُّ غَنِيمَةٌ حَتَّى تُقَسَّمَ، وَلَا يَحِلُّ نَفْلٌ حَتَّى يُقَسَّمَ عَلَى النَّاسِ حَفَّةً وَاحِدَةً، فَإِذَا قُسِمَ حَلَّ لِي أَنْ أُعْطِيَكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں، میرے والد اور میرے دادا تینوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، میں نے آپ کے پاس مقدمہ لڑا، اور آپ نے میرے حق میں فیصلہ کیا، اور میرے نکاح کا معاملہ بھی آپ نے طے فرمایا۔ پھر کہا: ”مالِ غنیمت اور نفل اس وقت تک حلال نہیں ہوتا جب تک کہ اسے سب پر برابر تقسیم نہ کر دیا جائے۔“