کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: جہاد میں حاصل شدہ نفل اور مال غنیمت کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3866
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَتَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، وَأَخَذْتُ سَيْفَهُ، وَكَانَ يُسَمَّى ذَا الْكَتِيفَةِ، فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ قُتِلَ أَخِي عُمَيْرٌ قَبْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبْ فَاطْرَحْهُ فِي الْقَبَضِ» قَالَ: فَرَجَعْتُ وَبِي مَا لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَتْلِ أَخِي وَأَخْذِ سَلَبِي، فَمَا جَاوَزْتُ إِلَّا قَرِيبًا حَتَّى نَزَلَتْ سُورَةُ الْأَنْفَالِ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اذْهَبْ فَخُذْ سَيْفَكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بدر کے دن میں نے سعید بن عاص کو قتل کیا اور اس کی تلوار (ذوالکتیفہ) لے لی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ میرا بھائی عمیر قتل ہو چکا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے غنیمت میں ڈال دو۔“ میں واپس لوٹا اور میرا دل غم سے بھر گیا کہ بھائی بھی مارا گیا اور مال بھی چھن گیا۔ میں زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ سورہ انفال نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”جا کر اپنی تلوار لے لو۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3866
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «إسناده صحیح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 983، 2689، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1576، والبزار فى «مسنده» برقم: 1239، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33757»
حدیث نمبر: 3867
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: أنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، بَارَزَ رَجُلًا يَوْمَ الْيَمَامَةِ فَقَتَلَهُ فَسُلِّمَ لَهُ سَلَبُهُ "
مظاہر امیر خان
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یمامہ کے دن ایک شخص سے مقابلہ کیا اور اسے قتل کر دیا، تو اس کا سلب (ہتھیار اور لباس) انہیں دے دیا گیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3867
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
قال ابن حجر: حجاج بن أرطاة بن ثور صدوق كثير الخطأ والتدليس
حدیث نمبر: 3868
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: ثنا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ مَعْدِي كَرِبَ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ وَهُوَ يُحَرِّضُ النَّاسَ عَلَى الْقِتَالِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُونُوا أَسَدًا أَسَدًا أَغْنَى شَاتَهُ، إِنَّمَا الْفَارِسِيُّ تَيْسٌ إِذَا لَقِيَ يَتْرُكُهُ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَوَّأَ لَهُ أَسْوَارٌ مِنْ أَسَاوِرَةِ فَارِسَ بِنُشَّابَةٍ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا ثَوْرٍ إِنَّ هَذَا الْأَسْوَارَ قَدْ بَوَّأَ إِلَيْكَ بِنُشَّابَتِهِ فَأَرْسَلَ الْآخَرُ بِنُشَّابَتِهِ، فَأَصَابَتْ سِيَةَ قَوْسِ عَمْرٍو، فَكَسَرَتْهَا، فَحَمَلَ عَلَيْهِ عَمْرٌو فَطَعَنَهُ، فَدَقَّ صُلْبَهُ، فَصَرَعَهُ، وَنَزَلَ إِلَيْهِ، فَقَطَعَ يَدَيْهِ، وَأَخَذَ سِوَارَيْنِ كَانَا عَلَيْهِ وَيَمْلَقًا مِنْ دِيبَاجٍ وَمِنْطَقَةً فَسُلِّمَ ذَلِكَ لَهُ "
مظاہر امیر خان
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عمرو بن معدی کرب کو قادسیہ کے دن دیکھا کہ وہ لوگوں کو قتال پر ابھار رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”اے لوگو! شیر کی طرح بنو، شیر کی طرح جس نے اپنی بکری کو بچا لیا ہو، درحقیقت فارسی بکری کی طرح ہے، جب اس کا سامنا کرے تو چھوڑ دیتا ہے۔“ اسی دوران ایک فارسی افسر نے تیر مارا اور ہم نے کہا: ”اے ابا ثور! وہ تمہیں تیر مارنے کا نشانہ بنا رہا ہے۔“ چنانچہ اس نے دوسرا تیر مارا جو عمرو کی کمان کی لکڑی پر لگا اور اسے توڑ دیا، تو عمرو نے اس پر حملہ کیا، نیزہ مار کر اس کی کمر توڑ دی اور اسے گرا دیا، پھر نیچے اتر کر اس کے دونوں ہاتھ کاٹ دیے اور اس کے دونوں کنگن اور دیباج کا ایک چغہ اور کمر بند لے لیا، اور یہ سب کچھ عمرو کو دے دیا گیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3868
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2691، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33141، 34268، 34432، والطبراني فى«الكبير» برقم: 98»
حدیث نمبر: 3869
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ شِبْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ، قَالَ: بَارَزْتُ رَجُلًا يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ فَقَتَلْتُهُ، وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ، فَأَتَيْتُ بِهِ سَعْدًا فَخَطَبَ سَعْدٌ أَصْحَابَهُ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذَا سَلَبُ شِبْرٍ لَهُوَ خَيْرٌ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، وَإِنَّا قَدْ نَفَّلْنَاهُ إِيَّاهُ»
مظاہر امیر خان
شبر بن علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے قادسیہ کے دن ایک شخص سے مقابلہ کیا، پھر اسے قتل کر کے اس کا مالِ غنیمت لے لیا، پھر میں اسے سعد رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، تو سعد نے اپنے ساتھیوں کو خطبہ دیا، پھر کہا: ”یہ شبر کی غنیمت ہے جو بارہ ہزار سے بھی بہتر ہے، اور ہم نے یہ مال بطور انعام اسے دے دیا۔“
وضاحت:
شبر بن علقمة: تابعی، اور یہ مجہول الحال نہیں، کیونکہ امام ابن سعد نے "تابعي قليل الحديث" کہا ہے، لیکن یہ اثر ان کی ذاتی روایت ہے، اور عملی واقعہ۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3869
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2692، 2693، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 12914، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9473، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33759، 33766، 34442، 34443، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5230»
حدیث نمبر: 3870
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، سَمِعَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ: بِشْرُ بْنُ عَلْقَمَةَ قَالَ: «بَارَزْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ فَارِسَ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ فَبَلَغَ سَلَبُهُ اثْنَي عَشَرَ أَلْفًا فَنَفَّلَنِيهِ سَعْدٌ»
مظاہر امیر خان
بشر بن علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے قادسیہ کے دن ایک شخص سے مقابلہ کیا جو اہلِ فارس میں سے تھا، اس کی غنیمت بارہ ہزار درہم تھی، تو سعد رضی اللہ عنہ نے وہ مال مجھے انعام میں دے دیا۔
وضاحت:
شبر بن علقمة: تابعی، اور یہ مجہول الحال نہیں، کیونکہ امام ابن سعد نے "تابعي قليل الحديث" کہا ہے، اور ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے، لیکن یہ اثر ان کی ذاتی روایت ہے، اور عملی واقعہ۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3870
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2692، 2693، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 12914، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9473، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33759، 33766، 34442، 34443، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5230»
حدیث نمبر: 3871
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: هَلْ مُبَارِزٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْرُزْ لَهُ يَا زُبَيْرُ» فَقَالَتْ صَفِيَّةُ: وَاحِدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «نَعَمْ»: فَبَرَزَ لَهُ فَقَتَلَهُ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ
مظاہر امیر خان
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ خیبر کے دن ایک یہودی نے مبارزت کا مطالبہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے زبیر! اس کے مقابلے کے لیے نکل۔“ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! یہ میرا اکیلا بیٹا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے میں نکلے اور اسے قتل کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مال بطور انعام سیدنا زبیر کو دے دیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3871
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2694، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 12899، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9470، 9477، 9704، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 37978»
حدیث نمبر: 3872
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَهُ سَلَبَ رَجُلٍ قَتَلَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَلَمْ يُخَمِّسْ "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حنین کے دن ایک شخص کا مالِ غنیمت انعام میں دیا جسے انہوں نے قتل کیا تھا، اور اس مال کو تقسیم نہیں کروایا (یعنی خمس نہیں نکالا)۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3872
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2100، 3142، 4321، 7170، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1751، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1654، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4805، 4837، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2717، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1562، 1562 م، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2528، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2837، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2695، 2696، والحميدي فى «مسنده» برقم: 427، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22954، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33762، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1195»
حدیث نمبر: 3873
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ: لَمَّا انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: أَمْرُ اللَّهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ تَرَاجَعُوا بَعْدُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى قَتِيلٍ قَتَلَهُ، فَلَهُ سَلَبُهُ» وَقَدْ كُنْتُ رَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَخْتِلُ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ لِيَقْتُلَهُ، فَأَتَيْتُهُ مِنْ خَلْفِهِ، فَضَرَبْتُ يَدَيْهِ فَقَطَعَتْهُمَا، فَمَالَ عَلَيَّ فَاحْتَضَنَنِي، فَقُلْتُ: لَأَمُوتَنَّ، ثُمَّ إِنَّهُ تَحَلَّلَ عَنِّي فَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ نَزَفَ، فَلَمَّا تَرَكَنِي مِلْتُ عَلَيْهِ بِالسَّيْفِ، فَضَرَبْتُ عُنُقَهُ، فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى قَتِيلٍ قَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ» فَقُمْتُ فَنَظَرْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ فَجَلَسْتُ، ثُمَّ إِنِّي قُمْتُ الثَّانِيَةَ، فَنَظَرْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَطَعْتُ يَدَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَقَتَلْتُهُ، وَلَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ عَلَى قَتْلِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّ سَلَبَ هَذَا الَّذِي يَذْكُرُ لَمَعِي، أَوْ قَالَ لَعِنْدِي , قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِلرَّجُلٍ: وَاللَّهِ مَا ذَاكَ لَكَ، رَجُلٌ يُقَاتِلُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ أَبُو بَكْرٍ، ادْفَعْ إِلَيْهِ سَلَبَهُ» فَأَخَذْتُ السَّلَبَ فَكَانَ أَوَّلُ مَخْرَفٍ أَصَبْتُهُ مِنَ الْمَدِينَةِ لَمِنْ ثَمَنِ ذَلِكَ السَّلَبِ
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب حنین کے دن مسلمان پیچھے ہٹ گئے، میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو پوچھا: ”یہ کیا ہو رہا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”یہ اللہ کا فیصلہ ہے۔“ پھر لوگ واپس پلٹے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صحابہ کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے، اور فرما رہے تھے: ”جو کوئی اپنے ہاتھ سے کسی کو قتل کرے اور اس پر گواہی پیش کرے، تو اس کا مالِ غنیمت (سلب) اسی کا ہوگا۔“ میں نے ایک مشرک کو ایک مسلمان کو چالاکی سے قتل کرنے کی کوشش کرتے دیکھا تھا، میں پیچھے سے آیا اور اس کی دونوں کلائیاں کاٹ دیں، وہ میرے اوپر جھپٹا، میں نے سوچا کہ اب میں مر جاؤں گا، لیکن وہ خون بہنے کی وجہ سے کمزور ہو گیا اور گر گیا، تو میں نے تلوار سے اس کی گردن کاٹ دی۔ جب میں گواہی کے لیے اٹھا تو کسی نے گواہی نہ دی، پھر دوسری بار اٹھا تو بھی کوئی نہ آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو قتادہ! کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں نے ایک مشرک کی کلائیاں کاٹیں اور پھر اسے قتل کیا، مگر میرے پاس کوئی گواہ نہیں۔“ ایک آدمی بولا: ”یا رسول اللہ! اس نے سچ کہا، اس کا مال میرے پاس ہے۔“ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”اللہ کی قسم! یہ مال تیرا نہیں ہو سکتا، ایک شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے دفاع میں لڑا، اس کا مال تو اسی کا حق ہے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو بکر نے سچ کہا، یہ مال ابو قتادہ کو دے دو۔“ چنانچہ میں نے وہ مال لے لیا، اور مدینہ میں سب سے پہلا مال جو میں نے حاصل کیا، وہ اسی سلب کی قیمت سے خریدا تھا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3873
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2100، 3142، 4321، 7170، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1751، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1654، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4805، 4837، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2717، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1562، 1562 م، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2528، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2837، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2695، 2696، والحميدي فى «مسنده» برقم: 427، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22954، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33762، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1195»
حدیث نمبر: 3874
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: غَزَوْنَا غَزْوَةً إِلَى طَرَفِ الشَّامِ فَأُمِّرَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَانْضَمَّ إِلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَمْدَادِ حِمْيَرَ يَأْوِي إِلَى رِحَالِنَا، وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ إِلَّا سَيْفٌ لَهُ، لَيْسَ مَعَهُ سِلَاحٌ غَيْرُهُ، فَنَحَرَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ جَزُورًا فَلَمْ يَزَلْ يَحْتَالُ حَتَّى أَخَذَ مِنْ جِلْدِهِ كَهَيْئَةِ الْمِجَنِّ، ثُمَّ بَسَطَهُ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ أَوَقَدْ عَلَيْهِ حَتَّى جَفَّ، فَجَعَلَ لَهُ مَمْسَكًا كَهَيْئَةِ التُّرْسِ، فَقُضِيَ لَنَا أَنْ لَقِينَا عَدُوَّنَا، وَفِيهِمْ أَخْلَاطٌ مِنَ الرُّومِ، وَالْعَرَبِ مِنْ قُضَاعَةَ، فَقَاتَلُونَا قِتَالًا شَدِيدًا، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الرُّومِ عَلَى فَرَسٍ لَهُ أَشْقَرَ، وَسَرْجٍ مُذَهَّبٍ، وَمِنْطَقَةٍ مُلَطَّخَةٍ، وَسَيْفٍ مِثْلِ ذَلِكَ، فَجَعَلَ يَحْمِلُ عَلَى الْقَوْمِ وَيُغْرِي بِهِمْ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ الْمَدَدِيُّ يَخْتِلُ لِذَلِكَ الرُّومِيِّ حَتَّى مَرَّ بِهِ، فَاسْتَقْفَاهُ، فَضَرَبَ عُرْقُوبَ فَرَسِهِ بِالسَّيْفِ، ثُمَّ وَقَعَ وَأَتْبَعَهُ ضَرْبًا بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ الْفَتْحَ أَقْبَلْ يُسْلِبُ السَّلَبَ، وَقَدْ شَهِدَ لَهُ النَّاسُ أَنَّهُ قَاتِلُهُ، فَأَعْطَاهُ خَالِدٌ بَعْضَ سَلَبِهِ، وَأَمْسَكَ سَائِرَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى رَحْلِ عَوْفٍ، ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عَوْفٌ: ارْجِعْ إِلَيْهِ فَلْيُعْطِكَ مَا بَقِيَ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَمَشَى حَتَّى أَتَى خَالِدًا فَقَالَ: أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْفَعَ إِلَيْهِ سَلَبَ قَتِيلِهِ؟ قَالَ خَالِدٌ: اسْتَكْثَرْتُهُ لَهُ، فَقَالَ عَوْفٌ: لَئِنْ رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعَثَهُ فَاسْتَعْدَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا خَالِدًا، وَعَوْفٌ قَاعِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْفَعَ إِلَى هَذَا سَلَبَ قَتِيلِهِ؟» قَالَ: اسْتَكْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَادْفَعْ إِلَيْهِ»، قَالَ: فَمَرَّ بِعَوْفٍ، فَجَرَّ عَوْفٌ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ أَنْجَزْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتُغْضِبَ، فَقَالَ: «لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُو لِي أُمَرَائِي، إِنَّمَا مَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلًا وَغَنَمًا، فَرَعَاهَا، ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا، فَأَوْرَدَهَا حَوْضَهُ، فَشَرَعَتْ فِيهِ فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ، وَتَرَكَتْ كَدَرَهُ، فَصَفْوُهُ أَمْرُهُ لَكُمْ، وَكَدَرُهُ عَلَيْهِمْ» وَإِذَا تَنَازَعَ رَجُلَانِ فِي الْقَتِيلِ، وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: يَقُولُ أَنَا قَتَلْتُهُ , وَلَيْسَ بِالْعِلْجِ رَمَقٌ، وَلَا بَيِّنَةٌ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا فَالسَّلَبُ بَيْنَهُمَا، وَإِنْ كَانَ بِالْعِلْجِ رَمَقٌ فَالسَّلَبُ لِمَنْ قَالَ الْعِلْجُ: إِنَّهُ قَتَلَهُ
مظاہر امیر خان
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ایک لشکر کے ساتھ شام کے کنارے پر جہاد کے لیے گئے، اور ہم پر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا گیا۔ ہمارے ساتھ یمن سے ایک مددگار (مددی) بھی شامل ہوا، جس کے پاس صرف ایک تلوار تھی، نہ کوئی دوسرا ہتھیار۔ جب ایک مسلمان نے اونٹ ذبح کیا، تو اس مددگار نے اس کی کھال کو ڈھال کی طرح بنایا اور اسے آگ پر سخت کر کے ڈھال بنالی۔ جب دشمن سے ہماری ملاقات ہوئی، تو ان میں رومی اور قضاعہ قبیلے کے عرب شامل تھے، ان میں ایک رومی سوار سونے کے زین اور قیمتی ہتھیاروں کے ساتھ تھا، وہ بہت بہادری سے مسلمانوں پر حملے کر رہا تھا۔ مددی نے موقع پا کر اس کے گھوڑے کی پچھلی ٹانگ پر تلوار ماری، وہ گرا، تو اس نے رومی کو قتل کر دیا اور اس کے سامان کو قبضہ میں لے لیا۔ جب فتح ہوئی تو اس نے سلب لینے کی کوشش کی، لیکن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کا کچھ حصہ دیا اور باقی روک لیا۔ مددی نے سیدنا عوف بن مالک کو یہ شکایت کی تو عوف نے کہا: ”واپس جا کر مانگو۔“ جب دوبارہ مانگا تو خالد نے انکار کیا۔ مددی نے سیدنا عوف بن مالک سے کہا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھوں گا تو شکایت کروں گا۔ جب مدینہ پہنچے، تو مددی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ نے خالد کو بلایا اور فرمایا: ”تم نے اسے اس کے مقتول کا سلب کیوں نہ دیا؟“ خالد نے کہا: ”یا رسول اللہ! میں نے اسے زیادہ سمجھا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلب اسے دو!“ پھر جب مددی سیدنا عوف کے پاس آیا تو عوف نے کہا: ”دیکھ لو! میں نے تم سے کہا تھا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری اور فرمایا: ”خالد کو مت روکو! میرے امراء کو مت ستاؤ! تمہاری مثال اس شخص کی ہے جسے اونٹ اور بکریوں پر نگران بنایا گیا، تو اس نے انہیں پانی پلایا، صاف پانی خود پی لیا اور گدلا پانی ان پر چھوڑ دیا۔“ (اور مزید فرمایا) کہ اگر دو افراد ایک مقتول پر جھگڑیں اور کوئی گواہی موجود نہ ہو، تو مالِ غنیمت دونوں میں تقسیم کیا جائے گا، اور اگر مقتول کے پاس زندگی کی کوئی علامت ہو اور وہ کسی ایک کے حق میں گواہی دے تو سلب اسی کا ہوگا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3874
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1753، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4842، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2719، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2697، 2698، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 12907، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17097»
حدیث نمبر: 3875
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، مَرَّةً أُخْرَى عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ وَلَمْ يُخَمِّسِ السَّلَبَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عوف بن مالک اشجعی اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال میں قاتل کو مالِ غنیمت (سلب) دینے کا فیصلہ فرمایا، اور اس سلب میں خمس نہیں نکالا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3875
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1753، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4842، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2719، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2697، 2698، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 12907، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17097»
قال ابن عبدالبر: أحسن شيء في هذا مما يحتج به مرفوعا فذكره، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (23 / 242)
حدیث نمبر: 3876
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: «بَارَزَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُ مَرْحَبٌ، فَقَتَلَهُ وَأَخَذَ سَلَبَهُ»
مظاہر امیر خان
امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی جس کا نام مرحب تھا، کے ساتھ مبارزت کی، اسے قتل کیا اور اس کا مالِ غنیمت حاصل کیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3876
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
قال ابن حجر: إسماعيل بن رافع بن عويمر: ضعيف الحفظ، قال الذھبی: ضعيف واه
حدیث نمبر: 3877
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ (1)، حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ فِي غَزْوَةٍ بِالْمَغْرِبِ فَنَفَّلَ النَّاسَ، وَمَعَنَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرْدُدْ ذَلِكَ أَحَدٌ غَيْرُ جَبَلَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَنْصَارِيِّ .
مظاہر امیر خان
بکیر بن سلیمان رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم مغرب کے ایک معرکہ میں سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے لشکر میں مالِ غنیمت تقسیم کیا، اور ہمارے ساتھ صحابہ کرام بھی موجود تھے، لیکن کسی نے اعتراض نہ کیا، سوائے جبلہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کے، انہوں نے اعتراض کیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3877
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث « إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2700، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5229»
(1) كذا في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند، ولعل الصواب بكير (عن) سليمان .
حدیث نمبر: 3878
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَفِّلُ الثُّلُثَ فِي بَدْأَتِهِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے حملے کے آغاز میں ایک تہائی (مالِ غنیمت) بطور انعام دیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3878
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1156، 1157، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4835، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2614، 2615، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2748، 2749، 2750، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2526، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2851، 2853، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2701، 2702، 2703، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17734، والحميدي فى «مسنده» برقم: 895، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38022، 38024، 38025»
قالالحسن بن عبداللہ العسکری: صحيح متصل، إكمال تهذيب الكمال: (3 / 376)
حدیث نمبر: 3879
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ التَّمِيمِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ، قَالَ: «نَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثُّلُثَ وَالرُّبُعَ» قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَسَمِعَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: «الرُّبُعُ فِي بَدْأَتِهِ، وَالثُّلُثَ فِي رَجْعَتِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تہائی اور ایک چوتھائی (مالِ غنیمت) بطور انعام عطا فرمایا۔ عبید اللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث ذکر کی تو سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے فرمایا: ”حملے کے آغاز میں ایک چوتھائی، اور واپسی پر ایک تہائی (بطور انعام) دیا جاتا تھا۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3879
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1156، 1157، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4835، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2614، 2615، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2748، 2749، 2750، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2526، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2851، 2853، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2701، 2702، 2703، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17734، والحميدي فى «مسنده» برقم: 895، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38022، 38024، 38025»
قالالحسن بن عبداللہ العسکری: صحيح متصل، إكمال تهذيب الكمال: (3 / 376)
حدیث نمبر: 3880
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ النَّضْرِيَّ عَنِ النَّفْلِ، فَقَالَ: «نَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ» وَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَسْأَلَهُ مَنْ يُسْنِدُهُ إِلَّا إِجْلَالًا لَهُ
مظاہر امیر خان
امام مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حجاج بن عبداللہ النضری سے مالِ غنیمت میں انعام (نفل) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تہائی اور ایک چوتھائی نفل دیا۔“ (امام مکحول کہتے ہیں) مجھے ان کی عظمت کی وجہ سے ان سے روایت کی سند پوچھنے کا حوصلہ نہ ہوا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3880
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1156، 1157، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4835، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2614، 2615، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2748، 2749، 2750، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2526، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2851، 2853، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2701، 2702، 2703، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17734، والحميدي فى «مسنده» برقم: 895، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38022، 38024، 38025»
قال ابن حجر: عبد الرحمن بن يزيد بن تميم ضعيف ۔ الرتبة عند الذهبي: ضعفه ابن معين وابن عدي
حدیث نمبر: 3881
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَفَّلَهُمْ فِي سَرِيَّةٍ خَرَجُوا فِيهَا قِبَلَ نَجْدٍ، فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً فَنَفَّلَهُمْ بَعِيرًا بَعِيرًا، وَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَلَمْ يَكُونُوا خَرَجُوا عَلَى نَفْلِ شَيْءٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ نجد کی طرف روانہ کیا، جس نے بہت سے اونٹ مالِ غنیمت میں حاصل کیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کو ایک ایک اونٹ بطور نفل دیا، حالانکہ وہ نفل کے کسی خاص وعدے پر نہیں نکلے تھے، اور ان کے حصے بارہ بارہ اونٹ بنے۔
وضاحت:
إسماعيل بن عياش: اگرچہ اس کے بارے میں قاعدہ ہے کہ جب یہ غیر شامی راویوں سے روایت کرے تو اس کی روایت ضعیف ہوتی ہے، لیکن یہاں اس نے عبيد الله بن عمر العمري سے روایت کی ہے، جو مدنی ہے، لیکن بعض اہلِ علم نے عبيد الله بن عمر سے اسماعیل کی روایت کو مقبول کہا ہے۔ خطیب بغدادی اور ابن عبدالبر وغیرہ نے اسماعیل عن عبيد الله کے طرق کو روایت بالمعروف قرار دیا ہے، اور تضعیف نہیں کی۔
عبيد الله بن عمر العمري: ثقہ، فقیہ، اور إمام مالک کے ہم درس۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3881
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3134، 4338، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1749، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1637، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4833، 4834، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2741، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2704، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4669، والحميدي فى «مسنده» برقم: 711، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38020»
حدیث نمبر: 3882
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، وَعُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، وَعَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، وَمَكْحُولٍ، [7/308] وَسُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَيَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، وَيَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، وَالْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، وَالْمُتَوَكِّلِ بْنِ اللَّيْثِ، وَابْنِ عُتَيْبَةَ، وَالْمُجَارِي (1)أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: « لَا نَفَلَ إِلَّا فِي أَوَّلِ الْمَغْنَمِ » .
مظاہر امیر خان
محمد بن عثمان رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ رجاء بن حیوہ، عبادہ بن نسی، عدی بن عدی کندی، مکحول، سلیمان بن موسیٰ، یزید بن یزید بن جابر، یحییٰ بن جابر، قاسم بن عبدالرحمن، یزید بن ابی مالک، متوکل بن لیث، ابن عتیبہ اور محاربی سب کا قول تھا: ”نفل (انعام) صرف مالِ غنیمت کے پہلے حصے سے دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3882
درجۂ حدیث محدثین: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»»,(1) كذا في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند
تخریج حدیث ««انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
(1) كذا في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند، وقال المحقق: كذا في ص، والصواب عندي: "المحاربي"
حدیث نمبر: 3883
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: «مَا كَانُوا يُنَفِّلُونَ إِلَّا مِنَ الْخُمُسِ»
مظاہر امیر خان
امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وہ نفل صرف خمس (پانچواں حصہ) سے دیا کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3883
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 1658، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2706، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 12936، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9341، 9342، 9344، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33914، 33970»
حدیث نمبر: 3884
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ: «يَا ابْنَ أُخْتِي نَفَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ لَيْلَى بِنْتَ الْجُودِيِّ، وَكَانَتْ مِنْ سَبْيِ دِمَشْقَ، فَرَأَيْتُهَا عِنْدِي مَا أَعْرِفُ لَهَا قِيمَةً مِنْ جَمَالِهَا وَفَضْلِهَا وَحُسْنِهَا»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے میرے بھانجے! سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میرے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو لیلیٰ بنت جودی (دمشق کی لونڈیوں میں سے) نفل میں دی تھی۔ میں نے اسے اپنے پاس پایا اور میں نے اس جیسی خوبصورتی، کمال اور حسن کی کوئی قیمت نہیں جانی۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3884
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، و«انفرد به المصنف من هذا الطريق»»
عبد الرحمن بن أبي الزناد: عبد الله بن ذكوان قال ابن معين: هو أثبت الناس في هشام بن عروة . وقال أبو حاتم وغيره: لا يحتج به