کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نفل اموال کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3858
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن اپنی تلوار ”ذو الفقار“ کو بطور نفل اپنے لیے خاص کر لیا تھا۔
حدیث نمبر: 3859
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ «سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَا الْفَقَارِ كَانَ لِأَبِي الْعَاصِ بْنِ مُنَبِّهٍ فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ وَتَسَلَّحَهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار ”ذو الفقار“ ابو العاص بن منبہ کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن اسے قتل کیا اور اس کا اسلحہ اپنے لیے لے لیا۔
حدیث نمبر: 3860
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا أَرَاكَ بِيَوْمِي هَذَا، فَأَوْصِنِي، قَالَ: «عَلَيْكَ بِجَبَلِ الْخَمَرِ؟» قَالَ: وَمَا جَبَلُ الْخَمَرِ؟ قَالَ: «أَرْضُ الْمَحْشَرِ» فَأَوْصَاهُ، ثُمَّ قَالَ: «إِيَّاكَ وَسَرِيَّةَ النَّفَلِ، فَإِنَّهُمْ إِنْ يَلْقَوْا يَفِرُّوا، وَإِنْ يَغْنَمُوا يَغُلُّوا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! مجھے ڈر ہے کہ یہ میرا آخری دن ہو، تو مجھے وصیت فرما دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبل خمر پر لازم رہنا۔“ انہوں نے پوچھا: ”جبل خمر کیا ہے؟“ فرمایا: ”یہ ارض المحشر ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی اور فرمایا: ”نفل کے لشکر سے بچو، کیونکہ اگر دشمن ملے تو وہ بھاگ جائیں گے، اور اگر مال غنیمت حاصل ہو تو اس میں خیانت کریں گے۔“
حدیث نمبر: 3861
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «إِذَا تَسَرَّتِ السَّرِيَّةُ بِإِذْنِ الْإِمَامِ، لَهُمْ مَا أَصَابُوا، وَإِذَا تَسَرَّتِ السَّرِيَّةُ بِغَيْرِ إِذْنِهِ خَمَّسَهُمْ وَكَانُوا كَالنَّاسِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اگر کوئی دستہ امیر کی اجازت سے نکلے تو جو مال وہ حاصل کریں وہ ان کا ہے، اور اگر بغیر اجازت کے نکلے تو ان کا مال پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور وہ عام لوگوں کے برابر ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 3862
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «إِذَا تَسَرَّتِ السَّرِيَّةُ، فَإِنْ شَاءَ الْإِمَامُ نَفَّلَهُمْ، وَإِنْ شَاءَ خَمَّسَهُمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اگر کوئی دستہ نکلے تو امام کو اختیار ہے کہ چاہے تو انہیں مال غنیمت سے نفل دے دے، اور چاہے تو خمس نکالے۔“
حدیث نمبر: 3863
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «لَا تُسَرَّى السَّرِيَّةُ إِلَّا بِإِذْنِ أَمِيرِهَا، وَمَا نَفَّلَهُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَهُمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”کوئی دستہ بغیر امیر کی اجازت کے نہ نکلے، اور جو کچھ ان کو دیا جائے وہ انہی کا حق ہے۔“
حدیث نمبر: 3864
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي السَّرِيَّةِ تُسَرَّى قَالَ: «إِنْ شَاءَ الْإِمَامُ نَفَّلَهُمْ قَبْلَ الْخُمُسِ، وَإِنْ شَاءَ خَمَّسَهُمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جب دستہ نکلے تو امام اگر چاہے تو خمس سے پہلے انہیں نفل دے، اور اگر چاہے تو خمس نکالے۔“
حدیث نمبر: 3865
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «كَانَ الْإِمَامُ يُنَفِّلُ الرَّجُلَ، وَالسَّرِيَّةَ كَذَلِكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”امام کسی ایک مرد کو بھی نفل دیتا تھا اور پوری سرایا (لشکر) کو بھی۔“