کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ اور خاص مال کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3850
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ الْحَارِثِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ عَنْ سَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِيِّ، قَالَ: «أَمَّا السَّهْمُ فَكَانَ سَهْمُهُ كَسَهْمِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا الصَّفِيُّ فَكَانَتْ لَهُ غُرَّةٌ يَصْطَفِيهَا مِنَ الْمَغْنَمِ»
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مالِ غنیمت میں سے حصے اور صفی (چنی ہوئی چیز) کے بارے میں، تو انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی کے برابر تھا، اور صفی وہ چیز تھی جسے آپ مالِ غنیمت سے اپنے لیے چن لیتے تھے۔“
حدیث نمبر: 3851
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سُئِلَ عَنِ الصَّفِيِّ، قَالَ: «هُوَ عُلُوٌّ مِنَ الْمَالِ يَتَخَيَّرُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
مظاہر امیر خان
شعبی رحمہ اللہ سے صفی کے بارے میں سوال کیا گیا تو کہا: ”صفی مال میں سے ایک برتر حصہ تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 3852
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَفَى يَوْمَ خَيْبَرَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو اپنے لیے چن لیا تھا۔
حدیث نمبر: 3853
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ: «الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي» حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ مُرْدِفِي، وَأَنَا غُلَامٌ قَدْ رَاهَقْتُ الْحُلُمَ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» ثُمَّ قَدِمْنَا خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا، وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ: «آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ» فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَيْهِ، فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَرْكَبَ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ: «هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ» ثُمَّ نَظَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: «إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا بِمِثْلِ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنے لڑکوں میں سے میرے لیے کوئی ایسا لڑکا تلاش کرو جو میری خدمت کرے، جب آپ خیبر کے لیے نکلے۔“ چنانچہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے، اور میں اس وقت قریب البلوغ تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا جب آپ کہیں اترتے۔ میں اکثر سنتا کہ آپ یہ دعا کرتے: ”اے اللہ! میں تجھ سے غم و فکر، عاجزی اور سستی، بخل اور بزدلی، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے دباؤ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ جب ہم خیبر پہنچے تو اللہ نے قلعہ فتح کرایا، پھر صفیہ بنت حیی بن اخطب کا حسن ذکر کیا گیا، اور ان کے شوہر قتل ہو چکے تھے، اور وہ نئی نویلی دلہن تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب کر لیا۔ پھر آپ ان کے ساتھ چلے یہاں تک کہ ہم صہباء کے مقام پر پہنچے۔ وہاں صفیہ رضی اللہ عنہا نے (عدت) پوری کی اور آپ نے ان سے نکاح فرمایا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کے ایک چھوٹے دسترخوان پر کھجور اور گھی کا حلوہ بنایا، اور فرمایا: ”جو آس پاس ہیں ان کو بلا لو۔“ تو یہی صفیہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ولیمہ تھا۔ پھر جب ہم مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے چادر سے پردہ کرتے تھے اور خود بیٹھ کر اونٹ کے پاس اپنا گھٹنا رکھتے، اور صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پر رکھ کر اونٹ پر سوار ہوتیں۔ پھر جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے اور احد پہاڑ نظر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر جب مدینہ کی طرف دیکھا تو فرمایا: ”بے شک میں مدینہ کے دو کالے پتھریلے میدانوں (لابتین) کے درمیان کی جگہ کو حرام قرار دیتا ہوں، جیسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اے اللہ! ان کے صاع (پیمانہ) اور مد (پیمانہ) میں برکت عطا فرما۔“
حدیث نمبر: 3854
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: «يُقَسَّمُ الْخُمُسُ عَلَى خَمْسَةِ أَخْمَاسٍ، وَسَهْمُ اللَّهِ وَالرَّسُولِ وَاحِدٌ»
مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ”مالِ غنیمت کا خمس پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ایک ہے۔“
حدیث نمبر: 3855
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ عَنْ سَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخُمُسِ فَقَالَ: «خُمُسُ الْخُمُسِ»
مظاہر امیر خان
یحییٰ بن الجزار رحمہ اللہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خمس سے حصے کے بارے میں پوچھا گیا تو کہا: ”خمس کا خمس (یعنی پانچویں حصے کا پانچواں حصہ)۔“
حدیث نمبر: 3856
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضْرَبُ لَهُ سَهْمٌ مِنَ الْغَنَائِمِ شَهِدَ أَوْ غَابَ»
مظاہر امیر خان
ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مالِ غنیمت میں حصہ مقرر تھا، خواہ آپ جنگ میں موجود ہوں یا غیر موجود۔“
حدیث نمبر: 3857
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ بَلْقَيْنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحَاصِرٌ وَادِيَ الْقُرَى، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِلَى مَا تَدْعُو قَالَ: «إِلَى اللَّهِ وَحْدَهُ» قَالَ: فَهَذَا الْمَالُ هَلْ أَحَدٌ أَحَقُّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ؟ فَقَالَ: «خُمُسٌ لِلَّهِ وَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ لِهَؤُلَاءِ - يَعْنِي أَصْحَابَهُ - وَإِنِ انْتُزِعَ مِنْ جَنْبِكَ سَهْمٌ، فَلَسْتَ أَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ»
مظاہر امیر خان
نبی صلی اللہ علیہ وسلم وادی القریٰ کے محاصرے میں تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہا: ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ کس چیز کی طرف بلاتے ہیں؟“ آپ نے فرمایا: ”اللہ وحدہ لا شریک کی طرف۔“ اس نے پوچھا: ”یہ مال کس کا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”خمس اللہ کا ہے اور چار پانچویں حصہ میرے اصحاب کے لیے ہے، اور اگر تمہارا کوئی حصہ تم سے چھین لیا جائے تو تم دوسروں پر کوئی فوقیت نہیں رکھتے۔“
وضاحت:
ابن شقیق نے روایت ایک مجہول رجل ("رجل من بلقين") سے لی ہے، اور وہ "رجل عن رجل" یعنی دو مجہول واسطے موجود ہیں۔ ➔ یعنی سند میں دو مجہول راوی موجود ہیں۔
مفرد سند میں ضعف تھا (بسبب مجہولین)۔ لیکن مجموع طرق کی بنیاد پر یہ حدیث صحیح ہے۔ جیساکہ علامہ ابن رجب نے "علل الحديث" (3/351) میں بھی اس کو "أصحّ" کہا
مفرد سند میں ضعف تھا (بسبب مجہولین)۔ لیکن مجموع طرق کی بنیاد پر یہ حدیث صحیح ہے۔ جیساکہ علامہ ابن رجب نے "علل الحديث" (3/351) میں بھی اس کو "أصحّ" کہا