کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: قیدیوں کو ان کے والدین اور رشتہ داروں سے الگ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3831
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِ سَبْيٌ صَفَّهُمْ، ثُمَّ قَامَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، فَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةٌ تَبْكِي قَالَ لَهَا: «مَا يُبْكِيكِ؟» فَتَقُولُ: بِيعَ ابْنِي، بِيعَتِ ابْنَتِي، فَيُرَدُّ إِلَيْهَا وَقَدِمَ عَلَيْهِ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ بِسَبْيٍ فَصُفُّوا لَهُ، ثُمَّ قَامَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، فَرَأَى امْرَأَةً تَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: بِيعَ ابْنِي فِي بَنِي عَبْسٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَرْكَبَنَّ فَلَتَأْتِيَنِّي بِهِ كَمَا بِعْتَهُ» فَرَكِبَ أَبُو أُسَيْدٍ، فَجَاءَ بِهِ
مظاہر امیر خان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قیدیوں کا قافلہ آتا تو ان کو صف بندی کراتے اور دیکھتے، اگر کوئی عورت اپنے بچے کے جدا ہونے پر روتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کو اس کی ماں کے پاس واپس کر دیتے۔
حدیث نمبر: 3832
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَنْهَى عَنْ تَفْرِيقِ ذَوِي الْقَرَابَةِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قرابت دار قیدیوں کو جدا کرنے سے منع کرتے تھے۔
وضاحت:
عطاء بن ابی رباح تابعی ہیں، اور یہاں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت کر رہے ہیں۔
مرسل روایت اصول حدیث میں ضعیف ہوتی ہے، جب تک کوئی دوسری قوی متابعت یا شواہد موجود نہ ہوں۔
➤ مسئلہ نمبر ➋: إسماعيل بن عياش کی ابن جریج سے روایت
➔ اسماعیل بن عیاش (وفات: 181ھ) کے بارے میں محدثین کا قاعدہ ہے: "جب وہ شامیوں سے روایت کرتے ہیں تو ثقہ ہوتے ہیں۔
لیکن جب وہ حجازیوں، عراقیوں یا دیگر غیر شامیوں (جیسے ابن جریج، جو مکی ہیں) سے روایت کرتے ہیں تو ضعیف ہو جاتے ہیں۔"
➔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا: إذا حدّث عن أهل بلده فصحيح، وإذا حدّث عن غيرهم ففيه لين.
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 2/129)
➔ اور ابن معین نے کہا: إذا روى عن أهل الشام فهو ثقة، وإذا روى عن أهل الحجاز فهو ضعيف.
(ميزان الاعتدال 1/274)
➤ تطبیق یہاں: ابن جریج، یعنی عبد الملک بن عبد العزیز بن جریج مکی (یعنی حجازی) راوی ہیں۔
اسماعیل بن عیاش ان سے روایت کر رہے ہیں۔
لہٰذا یہ روایت بھی ضعیف ہو جاتی ہے، کیونکہ اسماعیل بن عیاش کی حجازیوں سے روایت ضعیف ہے۔
مرسل روایت اصول حدیث میں ضعیف ہوتی ہے، جب تک کوئی دوسری قوی متابعت یا شواہد موجود نہ ہوں۔
➤ مسئلہ نمبر ➋: إسماعيل بن عياش کی ابن جریج سے روایت
➔ اسماعیل بن عیاش (وفات: 181ھ) کے بارے میں محدثین کا قاعدہ ہے: "جب وہ شامیوں سے روایت کرتے ہیں تو ثقہ ہوتے ہیں۔
لیکن جب وہ حجازیوں، عراقیوں یا دیگر غیر شامیوں (جیسے ابن جریج، جو مکی ہیں) سے روایت کرتے ہیں تو ضعیف ہو جاتے ہیں۔"
➔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا: إذا حدّث عن أهل بلده فصحيح، وإذا حدّث عن غيرهم ففيه لين.
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 2/129)
➔ اور ابن معین نے کہا: إذا روى عن أهل الشام فهو ثقة، وإذا روى عن أهل الحجاز فهو ضعيف.
(ميزان الاعتدال 1/274)
➤ تطبیق یہاں: ابن جریج، یعنی عبد الملک بن عبد العزیز بن جریج مکی (یعنی حجازی) راوی ہیں۔
اسماعیل بن عیاش ان سے روایت کر رہے ہیں۔
لہٰذا یہ روایت بھی ضعیف ہو جاتی ہے، کیونکہ اسماعیل بن عیاش کی حجازیوں سے روایت ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 3833
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ أَنَّ عَلِيًّا فَرَّقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَدْرِكْ أَدْرِكْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قیدیوں کو جدا کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ادرکو، ادرکو!“ (یعنی جلدی کرو، جلدی کرو!)
حدیث نمبر: 3834
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ فَرُّوخَ (1)، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ « لَا تُفَرِّقُوا بَيْنَ الْأَخَوَيْنِ، وَلَا بَيْنَ الْأُمِّ وَوَلَدِهَا فِي الْبَيْعِ » وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: كَتَبَ إِلَيَّ نَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْحَارِثِ بِذَلِكَ .
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”دو بھائیوں کو یا ماں اور بچے کو بیچنے میں جدا نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 3835
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ طَلِيقِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَلْعُونٌ مَنْ فَرَّقَ»
مظاہر امیر خان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ملعون ہے وہ جو جدا کرے۔“
حدیث نمبر: 3836
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ عِقَالٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَيْهِ: " أَنْ يَبْتَاعَ لَهُ مِائَةَ أَهْلِ بَيْتٍ، ثُمَّ يَبْعَثَ بِهِمْ إِلَيْهِ، وَكَتَبَ إِلَيْهِ: «أَنْ لَا تَشْتَرِيَ مِنْهُمْ أَحَدًا تُفَرِّقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ وَالِدَتِهِ أَوْ وَالِدِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”جو قیدی خریدو، ان میں کسی کو اس کی ماں یا باپ سے جدا نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 3837
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ مَدَائِنُ قُبْرُسَ، وَقَعَ النَّاسُ يَقْتَسِمُونَ السَّبْيَ، وَيُفَرِّقُونَ بَيْنَهُمْ وَيَبْكِي بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَتَنَحَّى أَبُو الدَّرْدَاءِ، ثُمَّ احْتَبَى بِحَمَائِلِ سَيْفِهِ، فَجَعَلَ يَبْكِي، فَأَتَاهُ جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ؟ أَتَبْكِي فِي يَوْمٍ أَعَزَّ اللَّهُ فِيهِ الْإِسْلَامَ وَأَهْلَهُ؟ وَأَذَلَّ فِيهِ الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ، فَضَرَبَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا جُبَيْرُ بْنَ نُفَيْرٍ، مَا أَهْوَنَ الْخَلْقَ عَلَى اللَّهِ إِذَا تَرَكُوا أَمْرَهُ، بَيْنَا هِيَ أُمَّةٌ قَاهِرَةٌ ظَاهِرَةٌ عَلَى النَّاسِ، لَهُمُ الْمُلْكُ حَتَّى تَرَكُوا أَمْرَ اللَّهِ، فَصَارُوا إِلَى مَا تَرَى، وَإِنَّهُ إِذَا سُلِّطَ السِّبَاءُ عَلَى قَوْمٍ فَقَدْ خَرَجُوا مِنْ عَيْنِ اللَّهِ , لَيْسَ لِلَّهِ بِهِمْ حَاجَةٌ»
مظاہر امیر خان
جب مدائن قبرس فتح ہوا اور لوگ قیدیوں کو بانٹنے لگے اور روتے، تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ الگ ہو کر رونے لگے اور کہا: ”جب اللہ کے حکم کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو قوم ذلیل ہو جاتی ہے، اور قیدی بن جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 3838
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَى مَدِينَةِ مَقْنَا - قَالَ سَعِيدٌ: مَقْنَا هِيَ مَدْيَنُ - فَأَصَابَ مِنْهُمْ سَبَايَا مِنْهُمْ ضَيْمَرٌ مَوْلَى عَلِيٍّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعِهِمْ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، وَهُمْ يَبْكُونَ فَقَالَ لَهُمْ: «مِمَّ يَبْكُونَ؟» قَالُوا: فَرَّقْنَا بَيْنَهُمْ وَهُمْ إِخْوَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ , بِيعُوهُمْ جَمِيعًا»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ مقنا (مدین) کی طرف بھیجا، وہاں سے کچھ قیدی لائے گئے، ان میں سے ضیمر بھی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدیوں کو بیچنے کا حکم دیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ قیدی رو رہے ہیں کیونکہ ان کو آپس میں جدا کر دیا گیا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”ان کو الگ نہ کرو، بلکہ انہیں اکٹھے بیچو۔“