کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: جنگ میں دشمن کے کٹے ہوئے سروں کو اٹھا کر لانے سے متعلق جو کچھ وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 3826
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَأْسِ يَنَّاقِ الْبِطْرِيقِ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ بِنَا، قَالَ: «فَاسْتِنَانٌ بِفَارِسَ وَالرُّومِ؟ لَا تُحْمَلْ إِلَيَّ رَأْسٌ، فَإِنَّمَا يَكْفِي الْكِتَابُ وَالْخَبَرُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس رومی سردار یناق کا کٹا ہوا سر لائے تو ابو بکر نے ناپسند کیا اور فرمایا: ”رومیوں اور فارسیوں کی سنت کیوں اختیار کرتے ہو؟ سر مت لاؤ، خبر اور خط کافی ہے۔“
حدیث نمبر: 3827
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ (1)، حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: جِئْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَوَّلِ فَتْحٍ مِنَ الشَّامِ بِرُؤُوسٍ، فَقَالَ: « مَا كُنْتَ تَصْنَعُ بِهَذِهِ شَيْئًا » وَقَالَ: « مَنْ أَعْطَاكُمُ الْجِزْيَةَ فَاقْبَلُوهَا مِنْهُ، وَمَنْ قَاتَلَكُمْ فَقَاتِلُوهُ، فَلَنْ تُؤْتَوُا الْجِزْيَةَ مِنْ وَرَاءِ الدَّرْبِ آخِرَ مَا عَلَيْكُمْ » .
مظاہر امیر خان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں شام کی پہلی فتح میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ کٹے ہوئے سر لایا تو انہوں نے فرمایا: ”اس کا کوئی فائدہ نہیں، جس نے جزیہ دیا اسے قبول کرو، جس نے قتال کیا اس سے قتال کرو، لیکن سر نہ لاؤ۔“
حدیث نمبر: 3828
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَاحِبٌ لِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: «لَمْ يُحْمَلْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسٌ قَطُّ، وَلَا يَوْمَ بَدْرٍ، وَحُمِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَأْسٌ فَأَنْكَرَهُ، وَأَوَّلُ مَنْ حُمِلَتْ إِلَيْهِ الرُّءُوسُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ»
مظاہر امیر خان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کبھی کوئی کٹا ہوا سر نہیں لایا گیا، نہ بدر کے دن اور نہ بعد میں، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سر لایا گیا تو انہوں نے ناپسند کیا، سب سے پہلے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس سر لایا گیا۔
حدیث نمبر: 3829
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، قَالَ: " أُتِيَ أَبُو بَكْرٍ بِرَأْسٍ، فَقَالَ: «بَغَيْتُمْ»
مظاہر امیر خان
جب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سر لایا گیا تو فرمایا: ”تم نے زیادتی کی۔“
حدیث نمبر: 3830
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَأَبِي بَكْرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَدِمُوا عَلَى أَبِي بَكْرٍ بِرَأْسِ يَنَّاقِ الْبِطْرِيقِ وَبِرُءُوسٍ فَكَتَبَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَامِلِهِ بِالشَّامِ: «أَنْ لَا تَبْعَثُوا إِلَيَّ بِرَأْسٍ، إِنَّمَا يَكْفِيَكُمُ الْكِتَابُ وَالْخَبَرُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس یناق بطریق اور دیگر کے سر لائے گئے تو آپ نے اپنے عامل کو لکھا: ”میرے پاس سر مت بھیجو، خط اور خبر کافی ہے۔“