کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: وہ اعمال جن کا ثواب شہادت کے برابر ہے، ان کے بارے میں وارد احادیث۔
حدیث نمبر: 3792
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: نا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْضَةٍ مَرِضَهَا، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: إِنْ كُنَّا لَنَرْجُو غَيْرَ هَذِهِ الْمُوتَةِ يَا ابْنَ سَلَامٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الَّذِي كُنْتُمْ تَرْجُونَ لَهُ؟» فَأَعْظَمُوا جَوَابَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: يَقُولُونَ: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ: الشَّهَادَةُ، فَقَالَ: «إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ إِنَّ الْقَتْلَ لَمِنَ الشَّهَادَةِ، وَالْهَدْمَ، وَالْغَرَقَ، وَالْحَرْقَ، وَوَجَعَ الْبَطْنِ، وَالنُّفَسَاءَ، وَالطَّاعُونَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے مرض الموت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ صحابہ نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ ابن سلام شہید ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہداء تو بہت کم ہیں۔ قتل، عمارت گرنے، ڈوبنے، جلنے، پیٹ کی بیماری، نفاس اور طاعون میں مرنے والا بھی شہید ہے۔“
وضاحت:
یہ مضمون دوسرے صحیح طرق سے بھی ثابت ہے: صحیح بخاری (حدیث: 2829)، صحیح مسلم (حدیث: 1914) وغیرہ۔ «المبطون شهيد، والمطعون شهيد، والغريق شهيد، وصاحب الهدم شهيد...» ◄ لہٰذا حدیث کا مضمون صحیح ہے، اگرچہ یہ مخصوص سند ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 3793
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَعُدُّونَ الشُّهَدَاءَ مِنْ أُمَّتِي» قَالُوا: مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: «إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، فَذَكَرَ الطَّاعُونَ وَذَكَرَ الْحَرْقَى، وَذَكَرَ الْغَرْقَى، وَذَكَرَ الْبَطْنَ، وَذَكَرَ الْمَرْأَةَ الَّتِي تَمُوتُ بِجُمْعٍ»
مظاہر امیر خان
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میری امت کے شہداء کن کو شمار کرتے ہو؟“ صحابہ نے کہا: ”جو اللہ کے راستے میں قتل ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو شہداء بہت کم ہوں گے۔ طاعون، جلنے، ڈوبنے، پیٹ کی بیماری اور وہ عورت جو حمل یا ولادت کی حالت میں مرے وہ بھی شہیدہ ہے۔“
حدیث نمبر: 3794
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: ذُكِرَ الشُّهَدَاءُ عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالُوا: إِنَّ الشَّهَادَةَ: الْقَتْلُ , فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «إِنَّ شُهَدَاءَكُمْ إِذًا لَقَلِيلٌ» ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «إِنَّ مَنْ يَغْرَقُ فِي الْبَحْرِ وَيَتَرَدَّى مِنَ الْجِبَالِ، وَتَأْكُلُهُ السِّبَاعُ شَهِيدٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے شہداء کا ذکر ہوا تو فرمایا: ”تمہارے شہداء بہت کم ہوں گے۔ جو سمندر میں غرق ہو جائے، یا پہاڑ سے گر کر مرے، یا درندے کا شکار ہو، وہ بھی اللہ کے ہاں شہید ہے۔“
حدیث نمبر: 3795
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الْمُخَارِقِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَطَلَقَتْ نَاقَتُهُ فَأَقَامَ عَلَيْهَا سَبْعًا، فَمَرَّ بِنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ، فَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ رَجُلًا أَجْلَدَ وَلَا أَقْوَى لَوْ كَانَ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى صِبْيَةٍ لَهُ صِغَارٍ لِيُغْنِيَهُمْ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى وَالِدَيْهِ لِيُغْنِيَهُمَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى نَفْسِهِ لِيُغْنِيَهَا وَيُكَافِئَ النَّاسَ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى سُمْعَةً وَرِيَاءً فَهُوَ لِلشَّيْطَانِ»
مظاہر امیر خان
نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے سفر میں نکلے۔ ایک شخص اونٹ کے پیچھے دوڑا۔ صحابہ نے کہا: ”اگر یہی کوشش اللہ کی راہ میں ہوتی۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے بچوں، والدین یا خود کو کفالت دینے کے لیے دوڑتا ہے وہ اللہ کی راہ میں ہے، اور جو دکھاوے یا شہرت کے لیے دوڑتا ہے وہ شیطان کے لیے ہے۔“