کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: غلام کے امان دینے کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3785
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ، قَالَ: حَاصَرْنَا حِصْنًا عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَرَمَى عَبْدٌ مِنَّا بِسَهْمٍ فِيهِ أَمَانٌ، فَخَرَجُوا، فَقُلْنَا: مَا أَخْرَجَكُمْ؟ فَقَالُوا: أَمَّنْتُمُونَا، فَقُلْنَا: مَا ذَاكَ إِلَّا عَبْدٌ، وَلَا نُجِيزُ أَمْرَهُ، فَقَالُوا: مَا نَعْرِفُ الْعَبْدَ مِنْكُمْ مِنَ الْحُرِّ، فَكَتَبْنَا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَكَتَبَ «أَنَّ الْعَبْدَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ذِمَّتُهُ ذِمَّتُكُمْ»
مظاہر امیر خان
فضیل بن زید رقاشی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک قلعہ کا محاصرہ کیا۔ ہم میں سے ایک غلام نے امان کا تیر پھینکا، قلعہ والے باہر آگئے۔ ہم نے کہا: ”تم کیوں آئے؟“ انہوں نے کہا: ”تم نے ہمیں امان دی۔“ ہم نے کہا: ”یہ تو غلام تھا، ہم اس کا فیصلہ نہیں مانتے۔“ وہ کہنے لگے: ”ہم تو تم میں غلام و آزاد میں فرق نہیں کرتے۔“ ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا تو انہوں نے جواب دیا: ”غلام بھی مسلمانوں میں سے ایک ہے، اس کی دی گئی امان بھی معتبر ہے۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3785
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «إسناده صحیح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2608، 2609، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16917، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34075»
حدیث نمبر: 3786
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ، «أَنَّ عَبْدًا آمَنَ قَوْمًا فَأَجَازَ عُمَرُ أَمَانَهُ»
مظاہر امیر خان
فضیل بن زید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک قوم کو امان دی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی امان کو جائز قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3786
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2608، 2609، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16917، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34075»