کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: تدفین کے عمل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 3759
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَرْحَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَقَالُوا: كَيْفَ تَأْمُرُنَا بِقَتْلَانَا؟ فَقَالَ: «احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا فِي الْقَبْرِ الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا» قَالَ هِشَامٌ: فَقُدِّمَ أَبِي بَيْنَ يَدَيِ اثْنَيْنِ
مظاہر امیر خان
سیدنا ہشام بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: احد کے دن صحابہ نے زخموں کی شکایت کی اور کہا: ”یا رسول اللہ! اپنے مقتولین کے بارے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو، کشادہ کرو، حسن طریقے سے دفناؤ، اور ایک قبر میں دو یا تین کو دفن کرو، اور قرآن زیادہ یاد کرنے والے کو آگے رکھو۔“ ہشام کہتے ہیں: میرے والد کو دو افراد کے ساتھ آگے رکھا گیا۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3759
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وأخرجه النسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2009، 2010، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2148، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3215، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1713، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1560، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2582، وأحمد فى «مسنده» برقم: 16509، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 37943»
قال ابن أبي حاتم في علله سألت أبي أي هذين الحديثين أصح فقال حديث حميد عن هشام يعني بدون واسطة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 295)
حدیث نمبر: 3760
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، وَلَمْ أُتْقِنْهُ، فَقَالَ مَعْمَرٌ: إِنَّهُ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ صُعَيْرٍ أَوِ ابْنِ أَبِي صُعَيْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، فَقَالَ: «قَدْ شَهِدْتُ عَلَى هَؤُلَاءِ فَزَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ وَكُلُومِهِمْ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن صعیر یا ابن ابی صعیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احد کے شہداء پر جھکے اور فرمایا: ”میں ان پر گواہ ہوں، انہیں ان کے خون اور زخموں کے ساتھ کفناؤ۔“
وضاحت:
وضاحت: یہ سند ضعیف ہے، کیونکہ: زہری سے سفیان کا اتقان ناقص ہے ("لم أتقنه")، راوی کا نام مبہم ہے (ابن صعير یا ابن أبي صعير؟)، عبد اللہ بن ثعلبہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات تو ثابت ہے مگر سماع نہیں، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے والی روایت اصولاً مرسل ہوگی، اور مرسل صحابی کی روایت، خصوصاً جب ضعف بھی شامل ہو، ضعیف کہلاتی ہے۔
مضمون صحیح شواہد سے تقویت پاتا ہے، (کیونکہ شہداء احد کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دیگر صحیح احادیث بھی موجود ہیں، جیسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں۔)
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3760
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «إسنادہ ضعیف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 103، 104، 105، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5253، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2001، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2140، 4341، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2583، 2584، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6902، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24146»
حدیث نمبر: 3761
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي قَتْلَى أُحُدٍ: «زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کے بارے میں فرمایا: ”انہیں ان کے خون میں لپیٹ دو، اور قرآن زیادہ جاننے والے کو آگے رکھو۔“
وضاحت:
وضاحت: عبد اللہ بن ثعلبہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات تو ثابت ہے مگر سماع نہیں، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے والی روایت اصولاً مرسل ہوگی، اور مرسل صحابی کی روایت، خصوصاً جب ضعف بھی شامل ہو، ضعیف کہلاتی ہے۔
مضمون صحیح شواہد سے تقویت پاتا ہے، (کیونکہ شہداء احد کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دیگر صحیح احادیث بھی موجود ہیں، جیسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں۔)
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3761
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «إسناده ضعیف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 103، 104، 105، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5253، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2001، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2140، 4341، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2583، 2584، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6902، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24146»