حدیث نمبر: 3739
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ خِصَالًا، يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْقَةٍ مِنْ دَمِهِ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ، وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ، الْيَاقُوتَةُ مِنْهُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَيُزَوَّجُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کے لیے اللہ کے ہاں کئی خصوصیات ہیں، پہلی خون کی بوند کے ساتھ ہی اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اور اسے جنت میں اس کا مقام دکھایا جاتا ہے، اور ایمان کا لباس پہنایا جاتا ہے، اور حور عین سے نکاح کرایا جاتا ہے، اور قبر کے عذاب سے محفوظ کر دیا جاتا ہے، اور بڑی گھبراہٹ سے امن میں رکھا جاتا ہے، اور اس کے سر پر عزت کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک یاقوت دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہوتا ہے، اور اسے بہتر بہتر حور عین سے شادی کرائی جاتی ہے، اور اسے اپنے ستر (70) قریبی رشتہ داروں کی شفاعت کا حق دیا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3740
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ
مظاہر امیر خان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بیان فرمایا۔
حدیث نمبر: 3741
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: قَدْ أَصْبَحَتْ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ نِعْمَةٌ مِنْ بَيْنِ أَصْفَرَ وَأَخْضَرَ وَأَحْمَرَ، وَفِي الْبُيُوتِ مَا فِيهَا، فَإِذَا لَقِيتُمُ الْعَدُوَّ غَدًا فَقُدُمًا قُدُمًا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا تَقَدَّمَ عَبْدٌ خُطْوَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا اطَّلَعَ عَلَيْهِ الْحُورُ الْعِينُ، فَإِنْ تَأَخَّرَ اسْتَتَرْنَ مِنْهُ، فَإِنْ قُتِلَ كَانَتْ أَوَّلُ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهِ كَفَّارَةً لِخَطَايَاهُ، وَتَأْتِيهِ اثْنَتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ مَعَ كُلِّ وَاحِدَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً لَا يُجَاوِزُ بَيْنَ أُصْبُعِهَا، تَنْفُضَانِ عَنْهُ التُّرَابَ، وَتَقُولَانِ: مَرْحَبًا قَدْ آنَ لَكَ، وَيَقُولُ: مَرْحَبًا قَدْ آنَ لَكُمَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا یزید بن شجرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اللہ نے تم پر نعمتیں برسائی ہیں، تمہارے ارد گرد زرد، سبز، سرخ چیزیں اور گھروں میں طرح طرح کی آسائشیں ہیں۔ جب تم کل دشمن سے ملو تو آگے بڑھو آگے بڑھو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو اللہ کی راہ میں ایک قدم بھی آگے بڑھاتا ہے، اس پر حور عین جھانکتی ہیں۔ اگر وہ پیچھے ہٹتا ہے تو وہ حوریں چھپ جاتی ہیں۔ اگر وہ قتل ہو جائے تو اس کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘ پھر دو حوریں آتی ہیں جن کے ساتھ ہر ایک کے پاس ستر (70) لباس ہوتے ہیں، وہ اس سے مٹی جھاڑتی ہیں اور کہتی ہیں: ’’خوش آمدید! اب تیرا وقت آ گیا ہے۔‘‘ وہ جواب دیتا ہے: ’’خوش آمدید! تمہارا بھی وقت آ گیا ہے۔‘‘“
حدیث نمبر: 3742
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ دَارًا لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ، أَوْ إِمَامٌ عَدْلٌ أَوْ مُخَيَّرٌ بَيْنَ الْقَتْلِ وَالْكُفْرِ، فَاخْتَارَ الْقَتْلَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”جنت میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں کوئی داخل نہیں ہو سکتا سوائے نبی، صدیق، شہید، عادل امام یا اس کے جسے قتل اور کفر میں اختیار دیا گیا اور اس نے قتل کو پسند کیا۔“
حدیث نمبر: 3743
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الَّذِينَ يُلْقَوْنَ فِي الصَّفِّ وَلَا يَفْتِلُونَ وُجُوهَهُمْ حَتَّى يُقْتَلُوا، أُولَئِكَ الَّذِينَ يَتَلَبَّطُونَ فِي الْغُرَفِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ يَضْحَكُ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ، وَإِذَا ضَحِكَ رَبُّكَ إِلَى عَبْدٍ فِي مَوْطِنٍ فَلَا حِسَابَ عَلَيْهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”سب سے افضل شہداء کون ہیں؟“ آپ نے فرمایا: ”وہ لوگ جو صف میں ڈٹ جاتے ہیں اور چہرے نہ موڑتے یہاں تک کہ قتل کر دیے جاتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے بلند ترین درجات میں کودتے پھرتے ہیں، ان پر تمہارا رب ہنستا ہے، اور جب اللہ کسی بندے پر کسی موقع پر ہنسے تو اس پر کوئی حساب نہیں۔“
حدیث نمبر: 3744
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ، قَالَ: كَانَ يَقُصُّ، وَكَانَ يُصَدِّقُ قَوْلُهُ فِعْلَهُ، وَكَانَ يَقُولُ: «السُّيُوفُ مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ» وَكَانَ يَقُولُ: " إِذَا الْتَقَى الصَّفَّانِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ نَزَلْنَ الْحُورُ الْعِينُ فَاطَّلَعْنَ، فَإِذَا أَقْبَلَ الرَّجُلُ قُلْنَ: اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، اللَّهُمَّ انْصُرْهُ، اللَّهُمَّ أَعِنْهُ، فَإِذَا أَدْبَرَ احْتَجَبْنَ مِنْهُ قُلْنَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَإِذَا قُتِلَ غُفِرَ لَهُ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَخْرُجُ مِنْ دَمِهِ كُلُّ ذَنْبٍ لَهُ، وَتَنْزِلُ عَلَيْهِ ثِنْتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ تَمْسَحَانِ عَنْ وَجْهِهِ الْغُبَارَ، تَقُولَانِ: قَدْ أَنَى لَكَ، وَيَقُولُ: قَدْ أَنَى لَكُمَا "
مظاہر امیر خان
سیدنا یزید بن شجرہ رحمہ اللہ بیان کرتے تھے اور ان کا قول ان کے عمل کی تصدیق کرتا تھا، وہ کہتے تھے: ”تلواریں جنت کی کنجیاں ہیں۔“ اور کہتے تھے: ”جب اللہ کی راہ میں دو صفیں آمنے سامنے ہوتی ہیں اور نماز قائم کی جاتی ہے تو حور عین آسمان سے جھانکتی ہیں۔ جب کوئی مرد آگے بڑھتا ہے تو وہ کہتی ہیں: ’’اے اللہ اسے ثابت قدم رکھ، اے اللہ اس کی مدد فرما، اے اللہ اس کی نصرت کر۔‘‘ اور جب وہ پیچھے ہٹتا ہے تو وہ حوریں اس سے چھپ جاتی ہیں اور کہتی ہیں: ’’اے اللہ اسے بخش دے۔‘‘ اور جب وہ قتل ہو جاتا ہے تو اس کے خون کی پہلی بوند کے ساتھ اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ پھر دو حوریں اس پر نازل ہوتی ہیں اور اس کے چہرے سے گرد جھاڑتی ہیں اور کہتی ہیں: ’’اب تیرا وقت آ گیا ہے۔‘‘ وہ کہتا ہے: ’’اب تمہارا بھی وقت آ گیا ہے۔‘‘“
حدیث نمبر: 3745
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ حُجْرٍ الْهَجَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي قَوْلِهِ: فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ: «الشُّهَدَاءُ ثَنِيَّةُ اللَّهِ حَوْلَ الْعَرْشِ مُتَقَلِّدِينَ لِلسِّيُوفِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «فصعق من في السماوات ومن في الأرض إلا من شاء الله» کی تفسیر میں کہتے ہیں: ”شہداء اللہ کے عرش کے گرد موجود ہوں گے اور ان کی گردنوں میں تلواریں لٹکی ہوں گی۔“
حدیث نمبر: 3746
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا الْعَوَّامُ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي قَوْلِهِ {فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ} [النمل: 87] قَالَ: «هُمُ الشُّهَدَاءُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان «ففزع من في السماوات ومن في الأرض إلا من شاء الله» کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا: ”وہ شہداء ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 3747
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدٌ، عَنِ الْعَوَّامِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، قَالَ: «يَشْفَعُ النَّبِيُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَشْفَعُ الشُّهَدَاءُ، فَيَشْفَعُ كُلُّ شَهِيدٍ فِي أَرْبَعِينَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن ابی ہذیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”قیامت کے دن انبیاء شفاعت کریں گے، پھر شہداء شفاعت کریں گے، اور ہر شہید چالیس (40) لوگوں کی شفاعت کرے گا۔“