حدیث نمبر: 3718
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ أَسَدِ بْنِ وَدَاعَةَ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةِ السَّكُونِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: الرَّجُلُ يُقَاتِلُ الْعَدُوَّ يُحِبُّ أَنْ يُحْمَدَ وَيُؤْجَرَ، فَقَالَ: «لَا أَجْرَ لَهُ، وَلَوْ ضَرَبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى يَنْقَطِعَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے پوچھا: آدمی دشمن سے لڑے اور چاہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں اور ثواب بھی ملے، تو آپ نے فرمایا: ”اس کے لیے کوئی اجر نہیں، چاہے وہ تلوار سے وار کرتے کرتے تھک جائے۔“
حدیث نمبر: 3719
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ: أَصْلَحَكَ اللَّهُ أُنْشِئُ الْغَزْوَ فَأُنْفِقُ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، وَأَخْرُجُ لِذَلِكَ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقِتَالِ ابْتَغَيْتُ أَنْ يُرَى بَأْسِي وَمَحْضَرِي قَالَ: «أَسْمَعُكَ رَجُلًا مُرَائِيًا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب عمر بن عبید اللہ نے پوچھا: اگر میں اللہ کی رضا کے لیے جنگ کروں اور قتال کے وقت چاہوں کہ لوگ میری بہادری دیکھیں تو آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں ریا کار آدمی سمجھتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 3720
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُصِيبَ الْمَغْنَمَ، وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ , فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ایک شخص مال غنیمت کے لیے لڑتا ہے، ایک شہرت کے لیے اور ایک اپنی بہادری دکھانے کے لیے، ان میں اللہ کے راستے میں لڑنے والا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے لڑے وہ اللہ کے راستے میں ہے۔“
وضاحت:
یہ حدیث صحیح ہے۔ (متن بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق ہے، لہٰذا صحت میں کوئی شک نہیں۔)
حدیث نمبر: 3721
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَشَجَاعَةً، وَعَلَانِيَةً، فَقَالَ: «مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا دَخَلَ الْجَنَّةَ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: آدمی حمیت، بہادری اور ناموری کے لیے لڑتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے لڑے وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
حدیث نمبر: 3722
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: نا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهُ قُتِلَ شَهِيدًا؟ إِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ غَضَبًا، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ رِئَاءً، إِنَّمَا الشَّهِيدُ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے کہا: فلاں شخص شہید ہو گیا، تو آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیا خبر کہ وہ شہید ہے؟ آدمی غصے، حمیت یا ریا کے لیے بھی لڑتا ہے، اصل شہید وہ ہے جو اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے لڑے۔“
وضاحت:
یہ اثر صحیح ہے۔ (صحیح الاسناد ہے اور مضمون صحیحین کی متفق علیہ احادیث کے مطابق ہے۔)
حدیث نمبر: 3723
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ لِأَبِي مُوسَى: «أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ بِسَيْفِهِ يَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، فَضُرِبَ فَقُتِلَ كَانَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟» فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: نَعَمْ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: «لَا، وَلَكِنْ إِذَا خَرَجَ بِسَيْفِهِ يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ثُمَّ أَصَابَ أَمْرَ اللَّهِ فَقُتِلَ، دَخَلَ الْجَنَّةَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہا: بتاؤ اگر کوئی شخص اللہ کا چہرہ مانگتے ہوئے اپنی تلوار لے کر نکلے، پھر مارا جائے تو کیا وہ جنت میں داخل ہوگا؟ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ جب وہ اللہ کا چہرہ مانگتے ہوئے نکلے، پھر اللہ کا حکم پورا کرے اور پھر قتل ہو تو جنت میں داخل ہوگا۔“
وضاحت:
یہ اثر صحیح ہے۔(سنداً بھی صحیح ہے اور اصولِ شریعت کے مطابق بھی ہے۔)
حدیث نمبر: 3724
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: نا أَبُو الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: أَلَا لَا تُغَالُوا فِي صُدُقِ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوًى عِنْدَ اللَّهِ لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ فَوْقَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، أَلَا وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُغْلِي بِصَدُقَةِ امْرَأَتِهِ حَتَّى يُبْقِيَ لَهَا عَدَاوَةً فِي نَفْسِهِ، فَيَقُولُ كَلَّفْتُ إِلَيْكَ عَلَقَ الْقِرْبَةِ - أَوْ عَرَقَ الْقِرْبَةِ - وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا فِي مَغَازِيكُمْ، قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا، وَمَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا، وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَوْقَرَ دَفَّ رَاحِلَتِهِ أَوْ عَجُزَهَا ذَهَبًا أَوْ فِضَّةٍ يُرِيدَ الدَّنَانِيرَ وَالدَّرَاهِمَ، أَلَا لَا تَقُولُوا ذَاكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا: كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ قُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو العجفاء سلمی نے کہا: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے سنا، آپ نے اللہ کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: ”خبردار! عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کرو، اگر دنیا میں یہ کوئی عزت کی بات ہوتی یا اللہ کے نزدیک پرہیزگاری کی علامت ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اس کے حقدار ہوتے۔ نہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ کو بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر دیا اور نہ ہی اپنی بیٹیوں کو۔ تم میں سے کوئی اپنی عورت کا مہر بڑھا کر خود ہی اپنے دل میں دشمنی پیدا کر لیتا ہے، پھر کہتا ہے کہ میں نے تجھ پر مشقت اٹھائی۔ اور تم اپنی لڑائیوں میں کہتے ہو: فلاں شہید ہوا، فلاں شہید ہوا۔ شاید وہ اپنے اونٹ کے کجاوے یا دم پر سونا چاندی لادے ہوئے نکلا تھا، دنیا کے مال و دولت کا طالب تھا۔ خبردار! ایسا نہ کہا کرو۔ بلکہ ویسا کہو جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو اللہ کے راستے میں مارا جائے یا مر جائے وہی شہید ہے۔‘‘“