کتب حدیثسنن سعید بن منصورابوابباب: بزدلی اور بہادری کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 3709
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ فَضَالَةَ الْهَوْزَنِيِّ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، كَانَ يَقُولُ: «لَا نَامَتْ عُيُونُ الْجُبَنَاءِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ”بزدلوں کی آنکھیں کبھی نہ سوئیں۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3709
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2532، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33295»
قال ابن حجر: أبي بكر بن أبي مريم ضعيف، وكان قد سرق بيته، فاختلط
حدیث نمبر: 3710
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «إِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَفْسِهِ جُبْنًا فَلَا يَغْزُو»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنے اندر بزدلی کا خوف ہو تو اسے جہاد کے لیے نہ نکلنا چاہیے۔“
وضاحت:
یہ اثر سنداً ضعیف ہے۔(ابو بکر بن ابی مریم کے ضعف اور فضیل بن فضالہ کی غیر مضبوط حیثیت کی وجہ سے۔)
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3710
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2533، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19911، 33294»
حدیث نمبر: 3711
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ حَسَّانَ الْعَبْسِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " الْجِبْتُ: السِّحْرُ، وَالطَّاغُوتُ: الشَّيْطَانُ، وَإِنَّ الشَّجَاعَةَ وَالْجُبْنَ غَرَائِزُ تَكُونُ فِي الرَّجُلِ، يُقَاتِلُ الشُّجَاعُ عَنْ مَنْ لَا يَعْرِفُ، وَيَفِرُّ الْجَبَانُ عَنْ أَبِيهِ، وَإِنَّ كَرَمَ الرَّجُلِ دِينُهُ، وَحَسَبَهُ خُلُقُهُ، وَإِنْ كَانَ فَارِسِيًّا أَوْ نَبَطِيًّا "
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تک جادو ہے اور طاغوت شیطان ہے، اور بہادری اور بزدلی آدمی کی طبیعت میں ہوتی ہے، بہادر اجنبی کی حمایت کرتا ہے اور بزدل اپنے باپ سے بھاگ جاتا ہے، آدمی کا اصل شرف اس کا دین ہے اور اس کا نسب اس کا اخلاق ہے، چاہے وہ فارسی ہو یا نبطی۔“
وضاحت:
یہ اثر حسن درجے کا ہے۔، (سند میں ابو اسحاق کی تدلیس کا احتمال ہے لیکن اثر کے عمومی شواہد موجود ہیں، اور مفہوم کے اعتبار سے بھی صحیح ہے۔
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3711
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 1681، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 649، 2534، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 18634، 20868، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3806، 3807، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19868، 25843، 26463، 26464، 26466، 33283، 33284»
حدیث نمبر: 3712
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ شَيْخٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: «وَاللَّهِ لَأَنْ أَمُوتَ عَلَى فِرَاشِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَقَدَّمُ كَتِيبَةً فَأُسْتَقْبَلَ حَتَّى أُقْتَلَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میرا بستر پر مرنا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں لشکر کے اگلے دستے میں لڑتے ہوئے قتل ہو جاؤں۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3712
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2535، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9551»
یہ اثر سنداً ضعیف ہے۔ (کیونکہ روایت میں ایک نامعلوم شیخ موجود ہے، جس کی وجہ سے سند میں انقطاع اور ضعف ہے۔)
حدیث نمبر: 3713
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَجُلًا أَرَادَ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ وَحْدَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُرَاكَ تَقْتُلُهُمْ وَحْدَكَ حَتَّى تَحْمِلَ أَصْحَابَكَ فَتَحْمِلَ مَعَهُمْ»
مظاہر امیر خان
ایک آدمی نے مشرکین پر تنہا حملہ کرنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم تنہا انہیں قتل کر لو گے؟ بہتر ہے اپنے ساتھیوں کو بھی ساتھ لے جاؤ اور ان کے ساتھ حملہ کرو۔“
حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب الجهاد / حدیث: 3713
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2536، وأبو داود فى "المراسيل"، 322»