حدیث نمبر: 3676
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى أَنْ تُقَامَ الْحُدُودُ عَلَى الرَّجُلِ، وَهُوَ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَقْفُلَ مَخَافَةَ أَنْ تَحْمِلَهُ الْحَمِيَّةُ فَيَلْحَقَ بِالْكُفَّارِ، فَإِنْ تَابُوا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، وَإِنْ عَادُوا فَإِنَّ عُقُوبَةَ اللَّهِ مِنْ وَرَائِهِمْ "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دوران جنگ کسی پر حد قائم نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ غیرت میں آ کر وہ کافروں سے جا ملے۔“
حدیث نمبر: 3677
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى النَّاسِ: «أَنْ لَا يَجْلِدَنَّ أَمِيرُ جَيْشٍ وَلَا سَرِيَّةٍ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَدًّا وَهُوَ غَازٍ حَتَّى يَقْطَعَ الدَّرْبَ قَافِلًا لِئَلَّا تَحْمِلَهُ حَمِيَّةُ الشَّيْطَانِ فَيَلْحَقَ بِالْكُفَّارِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمان جاری کیا: ”کسی لشکر یا سریہ کا امیر کسی مسلمان پر حد نہ جاری کرے جب تک وہ واپس نہ آ جائے تاکہ غیرت میں آ کر کافروں سے جا ملنے کا خطرہ نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 3678
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: كُنَّا فِي جَيْشٍ فِي أَرْضِ الرُّومِ، وَمَعَنَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، وَعَلَيْنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، فَشَرِبَ الْخَمْرَ، فَأَرَدْنَا أَنَّ نُحِدَّهُ، قَالَ حُذَيْفَةُ: «أَتُحِدُّونَ أَمِيرَكُمْ؟ وَقَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ فَيَطْمَعُونَ فِيكُمْ» فَبَلَغَهُ، فَقَالَ: لَأَشْرَبَنَّ وَإِنْ كَانَتْ مُحَرَّمَةً، وَلَأَشْرَبَنَّ عَلَى رَغْمِ مَنْ رَغِمَ
مظاہر امیر خان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہم روم کی سرزمین میں ایک لشکر میں تھے اور ہم پر ولید بن عقبہ امیر تھے، اس نے شراب پی، ہم اسے حد دینا چاہتے تھے، تو میں نے فرمایا: کیا تم اپنے امیر پر حد قائم کرو گے جبکہ تم اپنے دشمن کے قریب ہو، تو وہ تم پر طمع کریں گے؟“ جب ولید کو یہ بات پہنچی تو اس نے کہا: ”میں تو ضرور پیوں گا اگرچہ یہ حرام ہو، اور ان کی ناک رگڑ کر پیوں گا۔“
حدیث نمبر: 3679
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا عَمْرُو بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أُتِيَ سَعْدٌ بِأَبِي مِحْجَنٍ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ وَقَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ، فَأَمَرَ بِهِ إِلَى الْقَيْدِ، وَكَانَتْ بِسَعْدٍ جِرَاحَةٌ فَلَمْ يَخْرُجْ يَوْمَئِذٍ إِلَى النَّاسِ قَالَ: وَصَعِدُوا بِهِ فَوْقَ الْعُذَيْبِ لَيَنْظُرَ إِلَى النَّاسِ، وَاسْتَعْمَلَ عَلَى الْخَيْلِ خَالِدَ بْنَ عُرْفُطَةَ، فَلَمَّا الْتَقَى النَّاسُ، قَالَ أَبُو مِحْجَنٍ: ¤ [البحر الطويل] ¤ كَفَى حَزَنًا أَنْ تُطْرَدَ الْخَيْلُ بِالْقَنَا ... وَأُتْرَكَ مَشْدُودًا عَلَيَّ وِثَاقِيَا ¤ فَقَالَ لِابْنَةِ حَصْفَةَ امْرَأَةِ سَعْدٍ: أَطْلِقِينِي وَلَكِ اللَّهُ عَلَيَّ إِنْ سَلَّمَنِي اللَّهُ أَنْ أَرْجِعَ حَتَّى أَضَعَ رِجْلِي فِي الْقَيْدِ، وَإِنْ قُتِلْتُ اسْتَرَحْتُمْ مِنِّي، قَالَ: فَحَلَّتْهُ - حِينَ الْتَقَى النَّاسُ عَلَيَّ فَوَثَبَ عَلَى فَرَسٍ لِسَعْدٍ يُقَالُ لَهَا الْبَلْقَاءُ، ثُمَّ أَخَذَ رُمْحًا، ثُمَّ خَرَجَ، فَجَعَلَ لَا يَحْمِلُ عَلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْعَدُوِّ إِلَّا هَزَمَهُمْ، وَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ: هَذَا مَلَكٌ لِمَا يَرَوْنَهُ يَصْنَعُ، وَجَعَلَ سَعْدٌ يَقُولُ: «الضَّبْرُ ضَبْرُ الْبَلْقَاءِ، وَالطَّعْنُ طَعْنُ أَبِي مِحْجَنٍ، وَأَبُو مِحْجَنٍ فِي الْقَيْدِ» فَلَمَّا هُزِمَ الْعَدُوُّ، رَجَعَ أَبُو مِحْجَنٍ حَتَّى وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْقَيْدِ، وَأَخْبَرَتِ ابْنَةُ حَصْفَةَ سَعْدًا بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ، فَقَالَ سَعْدٌ: " لَا وَاللَّهِ: لَا أَضْرِبُ بَعْدَ الْيَوْمِ رَجُلًا أَبْلَى اللَّهُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى يَدَيْهِ مَا أَبْلَاهُمْ " فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَقَالَ أَبُو مِحْجَنٍ: قَدْ كُنْتُ أَشْرَبُهَا إِذْ يُقَامُ عَلَيَّ الْحَدُّ، وَأَطْهُرُ مِنْهَا، فَأَمَّا إِذَا بَهْرَجْتَنِي فَلَا وَاللَّهِ لَا أَشْرَبُهَا أَبَدًا ¤
مظاہر امیر خان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس قادسیہ کے دن سیدنا ابو محجن ثقفی رضی اللہ عنہ کو شراب پی کر لایا گیا تو انہوں نے اسے زنجیر میں بند کرنے کا حکم دیا، سعد زخمی تھے، وہ میدان میں نہیں نکلے۔ ابو محجن نے سعد کی بیوی سے کہا: ”مجھے چھوڑ دو، اگر میں سلامت رہا تو واپس آ کر قید ہو جاؤں گا، اگر مارا گیا تو تمہیں مجھ سے راحت ہو گی۔“ وہ نکلے، سعد کی بگھی پر سوار ہوئے اور لڑے یہاں تک کہ دشمنوں کو شکست ہوئی۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قسم ہے، میں آج کے بعد اس شخص کو سزا نہیں دوں گا جس کے ذریعے اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی۔“ پھر ابو محجن رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اب میں کبھی شراب نہیں پیوں گا۔“