حدیث نمبر: 3661
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أنا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنْ دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ عِنْدَ الْقِتَالِ، فَكَتَبَ: أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَقَدْ «أَغَارَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تَسْقِي عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلِيهِمْ، وَسَبَى سَبْيَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ»، حَدَّثَنِي بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ
مظاہر امیر خان
ابن عون رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ کو خط لکھ کر مشرکین کو لڑائی سے پہلے دعوت دینے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ: ”یہ عمل ابتدائے اسلام میں تھا، اور نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی المصطلق پر اچانک حملہ کیا جبکہ وہ بے خبر تھے، اور ان کے مویشی پانی پر چر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا، ان کے قیدی بنائے، اور اسی دن سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کو حاصل کیا۔“ یہ روایت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی، جو اس لشکر میں شامل تھے۔
حدیث نمبر: 3662
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: «كُنَّا نَدْعُو وَنَدَعُ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ہم لڑائی سے پہلے مشرکین کو دعوت دیتے تھے اور کبھی دعوت چھوڑ بھی دیتے تھے۔“
حدیث نمبر: 3663
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «لَيْسَ لِلرُّومِ دَعْوَةٌ، قَدْ دُعُوا مُنْذُ أَيَادِ الدَّهْرِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”رومیوں کے لیے اسلام کی طرف کوئی نئی دعوت نہیں ہے، کیونکہ انہیں بہت پہلے زمانے میں دعوت دی جا چکی ہے۔“
حدیث نمبر: 3664
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا جُوَيْبِرٌ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: كَانَ يَصِيحُ بِذَلِكَ صِيَاحًا «أَنْ لَا دَعْوَةَ لِلرُّومِ»
مظاہر امیر خان
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ اس بات کا اعلان کرتے تھے کہ روم والوں کے لیے اب کوئی دعوت باقی نہیں رہی۔“
حدیث نمبر: 3665
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: «كُنَّا نَغْزُو فَنَدْعُو وَنَدَعُ»
مظاہر امیر خان
حضرت ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہم جب جہاد میں نکلتے تو کبھی دعوت دیتے اور کبھی چھوڑ دیتے۔“