حدیث نمبر: 3647
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: حَاصَرَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ، فَقَالَ: دَعُونِي أَدْعُوهُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو إِنِّي مُخْبِرُكُمْ، أَمَا " إِنْ شِئْتُمْ فَأَسْلِمُوا فَلَكُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْكُمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ، فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَإِنَّا نَنْبِذُ إِلَيْكُمْ عَلَى سَوَاءٍ {إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ} [الأنفال: 58] " فَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يُقَاتِلُوا، فَوَثَبَ أَصْحَابُهُ لِيُقَاتِلُوهُمْ، فَنَهَاهُمْ حَتَّى دَعَاهُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَى أَوَّلِ مَا دَعَاهُمْ إِلَيْهِ، فَأَبَوْا أَنْ يُجِيبُوهُ، فَقَاتَلُوا، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ
مظاہر امیر خان
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ایک قلعے کا محاصرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اگر قبول کرو تو مسلمانوں جیسے حقوق و فرائض ہوں گے، اگر انکار کرو تو جزیہ دو، اگر پھر بھی انکار کرو تو ہم برابری کی بنیاد پر تم سے جنگ کریں گے۔“ پھر تین دن دعوت دی، جب نہ مانے تو جنگ کی اور اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی۔
حدیث نمبر: 3648
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «لَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَإِذَا نَزَلْتَ بِقَوْمٍ فَادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ تَنْقِلَهُمْ إِلَى دَارِ الْهِجْرَةِ، فَإِنْ أَبَوْا فَإِنَّهُمْ مِثْلُ أَعْرَابِ الْمُسْلِمِينِ، لَيْسَ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ شَيْءٌ، فَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَى قِتَالِهِمْ، وَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى أَنْ يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلَا تَفْعَلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللَّهِ أَمْ لَا، وَلَكِنْ يُنْزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ وَحُكْمِ قَوْمِكَ، وَإِنْ أَرَادُوكَ قَوْمٌ عَلَى أَنْ يَنْزِلُوا عَلَى أَنَّ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ فَلَا تَفْعَلَنَّ، وَلَكِنْ أَعْطِهِمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ آبَائِكَ؛ فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا بِذِمَّتِكُمْ وَذِمَّةِ آبَائِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا بِذِمَّةِ اللَّهِ، وَلَا تُعْطِيَنَّ قَوْمًا عَهْدَ اللَّهِ»
مظاہر امیر خان
عمرو بن حارث رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”خیانت نہ کرو، دھوکہ نہ دو، جب کسی قوم کے پاس اترو تو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو، اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو انہیں دار ہجرت کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دو، اگر انکار کریں تو وہ دیہاتی مسلمانوں جیسے ہوں گے، ان کا مال غنیمت میں کوئی حصہ نہ ہوگا، پھر اگر وہ انکار کریں تو اللہ سے مدد مانگ کر ان سے قتال کرو، اور اگر وہ کہیں کہ اللہ کے حکم پر فیصلہ چاہتے ہیں تو نہ ماننا، کیونکہ تم نہیں جانتے اللہ کا حکم کیا ہے، بلکہ اپنے اور اپنی قوم کے حکم پر انہیں تسلیم کراؤ، اور اگر وہ کہیں کہ اللہ کی پناہ میں رہنا چاہتے ہیں تو نہ دینا، بلکہ اپنی اور اپنے آباء کی امان دینا، کیونکہ اپنی دی ہوئی امان کو توڑنا اللہ کی دی ہوئی امان کو توڑنے سے بہتر ہے، اور کسی قوم کو اللہ کے عہد پر ہرگز امان نہ دینا۔“