کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: وہ وقت یا عمر جب لڑکے کو جہاد میں شریک ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 3641
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، فَرَدَّنِي وَلَمْ يُجِزْنِي فِي الْمُقَاتِلَةِ، وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَأَجَازَنِي فِي الْمُقَاتِلَةِ
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں غزوہ بدر میں تیرہ سال کا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال کی اجازت نہیں دی، خندق کے دن پندرہ سال کا ہوا تو اجازت دی۔“
حدیث نمبر: 3642
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَلَمْ يُجِزْنِي فِي الْقِتَالِ، وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي فِي الْقِتَالِ» قَالَ نَافِعٌ: فَحَدَّثْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا فَصْلُ مَا بَيْنَ الرِّجَالِ وَبَيْنَ الْغِلْمَانِ، ثُمَّ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ: أَنْ لَا يُجِيزُوا فِي الْقِتَالِ أَحَدًا أَقَلَّ مِنِ ابْنِ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً
مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں جب چودہ سال کا تھا تو قتال کی اجازت نہیں ملی، جب پندرہ سال کا ہوا تو اجازت ملی۔“ حضرت نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے یہ حدیث سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو سنائی تو انہوں نے حکم دیا کہ پندرہ سال سے کم کو قتال کی اجازت نہ دی جائے۔“
حدیث نمبر: 3643
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «كُنْتُ أَمِيحُ أَصْحَابِي الْمَاءَ يَوْمَ بَدْرٍ»
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”بدر کے دن میں اپنے ساتھیوں کو پانی پلاتا تھا۔“
وضاحت:
محمد بن زياد الألهاني (أبو سفيان)
ثقہ
شام کے رہنے والے
صحیح مسلم میں ان کی جابر بن عبد الله سے روایت موجود ہے
امام مسلم، ابن خزیمہ، ابن حبان، نسائی وغیرہ نے ان کی جابر سے روایات کو مُسنَد طریق پر لیا ہے
ابن حجر (تهذيب التهذيب 5/325): "روى عن جابر بن عبد الله... وقال النسائي: ثقة."
? الذهبي (سير أعلام النبلاء): "روى عن جابر، وأبي أمامة... وثقه جماعة"
? امام مسلم نے "صحيح مسلم" میں أبو سفيان عن جابر کی متعدد روایات ذکر کی ہیں
(مثلاً: صحیح مسلم، کتاب المساجد)
ثقہ
شام کے رہنے والے
صحیح مسلم میں ان کی جابر بن عبد الله سے روایت موجود ہے
امام مسلم، ابن خزیمہ، ابن حبان، نسائی وغیرہ نے ان کی جابر سے روایات کو مُسنَد طریق پر لیا ہے
ابن حجر (تهذيب التهذيب 5/325): "روى عن جابر بن عبد الله... وقال النسائي: ثقة."
? الذهبي (سير أعلام النبلاء): "روى عن جابر، وأبي أمامة... وثقه جماعة"
? امام مسلم نے "صحيح مسلم" میں أبو سفيان عن جابر کی متعدد روایات ذکر کی ہیں
(مثلاً: صحیح مسلم، کتاب المساجد)