کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: مجاہد کا اپنے گھر والوں سے لمبی مدت تک غیر حاضر رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3638
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أُمَرَاءِ الثُّغُورِ يَأْمُرُهُمْ أَنْ يَأْخُذُوا الرِّجَالَ بِالْقُفُولِ إِلَى النِّسَاءِ، فَإِنْ فَعَلُوا، وَإِلَّا أَخَذُوهُمْ بِالنَّفَقَةِ، فَإِنْ أَنْفَقُوا وَإِلَّا أَخَذُوهُمْ بِالطَّلَاقِ، فَإِنْ طَلَّقُوا وَإِلَّا أَخَذُوهُمْ بِالنَّفَقَةِ فِيمَا مَضَى»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سرحدی علاقوں کے گورنروں کو لکھا: ”مردوں کو بیویوں کے پاس واپسی پر مجبور کرو، اگر نہ لوٹیں تو نان نفقہ کا مطالبہ کرو، پھر بھی نہ کریں تو طلاق دلواؤ، پھر بھی نہ کریں تو سابقہ نان نفقہ کا مطالبہ کرو۔“
حدیث نمبر: 3639
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَرَسَ لَيْلَةً وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ، فَرَأَى سَوَادًا، فَقَالَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ، انْظُرْ مَا هَذَا؟» فَذَهَبَ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكِ؟ فَقَالَتْ: مَا سَاءَكَ وَسَاءَ صَاحِبَكَ الَّذِي مَعَكَ؟ قَالَ: وَمَنْ هُوَ؟ قَالَتْ: عُمَرُ، أَفِي اللَّهِ أَنْ يُحْبَسَ زَوْجِي عَنِّي سَنَةً، وَأَنَا أَشْتَهِي مَا تَشْتَهِي النِّسَاءُ؟ فَرَجَعَ إِلَى عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ، فَسَأَلَهَا: «أَيْنَ بَعْثُهُ؟» فَأَخْبَرَتْهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ، فَأَقْدَمَهُ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک رات گشت کر رہے تھے، سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تھے، ایک عورت کو دیکھا، اس نے شکایت کی کہ اس کا شوہر ایک سال سے غائب ہے اور اس کی خواہشات پوری نہیں ہو رہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے شوہر کو بلوایا۔
حدیث نمبر: 3640
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: نا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ لَيْلَةً يَحْرُسُ النَّاسَ، فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ وَهِيَ فِي بَيْتِهَا وَهِيَ تَقُولُ: ¤ [البحر الطويل] ¤ تَطَاوَلَ هَذَا اللَّيْلُ وَاسْوَدَّ جَانِبُهْ ... وَطَالَ عَلَيَّ أَنْ لَا خَلِيلَ أُلَاعِبُهْ ¤ فَوَاللَّهِ لَوْلَا خَشْيَةُ اللَّهِ وَحْدَهْ ... لَحُرِّكَ مِنْ هَذَا السَّرِيرِ جَوَانِبُهْ ¤ فَلَمَّا أَصْبَحَ عُمَرُ أَرْسَلَ إِلَى الْمَرْأَةِ، فَسَأَلَ عَنْهَا، فَقِيلَ: هَذِهِ فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانٍ، وَزَوْجُهَا غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا امْرَأَةً، فَقَالَ: كُونِي مَعَهَا حَتَّى يَأْتِيَ زَوْجُهَا، وَكَتَبَ إِلَى زَوْجِهَا، فَأَقْفَلَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى حَفْصَةَ بِنْتِهِ، فَقَالَ لَهَا: «يَا بُنَيَّةُ، كَمْ تَصْبِرُ الْمَرْأَةُ عَنْ زَوْجِهَا؟» فَقَالَتْ لَهُ: يَا أَبَهْ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَمِثْلُكَ يَسْأَلُ مِثْلِي عَنْ هَذَا؟ فَقَالَ لَهَا: «إِنَّهُ لَوْلَا أَنَّهُ شَيْءٌ أُرِيدُ أَنْ أَنْظُرَ فِيهِ لِلرَّعِيَّةِ، مَا سَأَلْتُكِ عَنْ هَذَا»، قَالَتْ: أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، أَوْ خَمْسَةَ أَشْهُرٍ، أَوْ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، فَقَالَ عُمَرُ: «يَغْزُو النَّاسُ يَسِيرُونَ شَهْرًا ذَاهِبِينَ وَيَكُونُونَ فِي غَزْوِهِمْ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، وَيَقْفُلُونَ شَهْرًا»، فَوَقَّتَ ذَلِكَ لِلنَّاسِ مِنْ سَنَتِهِمْ فِي غَزْوِهِمْ " ¤
مظاہر امیر خان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رات گشت کیا اور ایک عورت کو یہ اشعار پڑھتے سنا کہ رات لمبی ہو گئی ہے اور کوئی دل بہلانے والا نہیں، اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو بستر ہل جاتا۔ صبح انہوں نے عورت کے شوہر کو بلوایا اور فیصلہ کیا کہ مجاہدین کو چار ماہ بعد گھروں میں لوٹایا جائے۔