حدیث نمبر: 3615
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ يَمْسَحُ وَجْهَ فَرَسِهِ بِثَوْبِهِ، فَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ عَاتَبَنِي فِي الْخَيْلِ الْبَارِحَةَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا محمد بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات اپنے گھوڑے کا چہرہ اپنے کپڑے سے صاف کر رہے تھے اور فرمایا: ”گزشتہ رات جبرائیل نے گھوڑوں کے معاملے میں میری تنبیہ کی۔“
حدیث نمبر: 3616
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: زَارَهُ رَوْحُ بْنُ زِنْبَاعٍ، فَوَجَدَهُ يُنَقِّي الشَّعِيرَ لِفَرَسِهِ وَحَوْلَهُ أَهْلُهُ، فَقَالَ: مَا كَانَ فِي هَؤُلَاءِ مَنْ يَكْفِيكَ؟ فَقَالَ: «بَلَى، وَلَكِنْ مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يُنَقِّي لِفَرَسِهِ شَعِيرَةً، ثُمَّ يُعَلِّقُهُ عَلَيْهِ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ حَبَّةٍ حَسَنَةً»
مظاہر امیر خان
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: جب روح بن زنباع ان کے پاس آیا تو انہیں اپنے گھوڑے کے لیے جو صاف کرتے دیکھا، کہا: ”آپ کے اہل موجود ہیں؟“ فرمایا: ”ہر دانہ صاف کرنے پر اللہ نیکی لکھتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3617
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ السَّكُونِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، «يَنْهَى عَنْ رَكْضِ الْفَرَسِ، إِلَّا فِي حَقٍّ»
مظاہر امیر خان
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: ”گھوڑے کو دوڑانا صرف حق کے لیے جائز ہے۔“
حدیث نمبر: 3618
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّا لَنَقْطَعُ الْأَوْتَارَ مِنْ أَعْنَاقِ رِكَابِنَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہم اپنے گھوڑوں کی گردنوں سے دھاگے کے ہار کاٹتے تھے۔“
وضاحت:
هشيم بن بشير کا شمار مدلسین میں ہوتا ہے۔ اور مدلس راوی جب "عن" کے ساتھ روایت کرے تو اس کی روایت تب تک قابل قبول نہیں ہوتی جب تک تصریح بالسماع نہ ہو۔ لہٰذا یہاں جب تصریح بالسماع (حدثنا/أنا/سمعت) نہیں ہے، تو سند میں انقطاع ہے۔
حدیث نمبر: 3619
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنِ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجُزُّوا أَعْرَافَ الْخَيْلِ؛ فَإِنَّهَا إِدْفَاؤُهَا، وَلَا أَذْنَابَهَا؛ فَإِنَّهَا مَذَابُّهَا»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی گردن کے بال نہ کاٹو کیونکہ وہ ان کا لباس ہیں، اور نہ دم کاٹو کیونکہ وہ ان کا دفاع ہے۔“