کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: اُس شخص کا بیان جس کے بال اللہ کی راہ میں سفید ہو گئے (بوڑھا ہوگیا)
حدیث نمبر: 3595
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَتْ بِهِ شَيْبَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ
مظاہر امیر خان
سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کے راستے میں بڑھاپے کو پہنچے، قیامت کے دن وہ نور ہوگا۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفید بال اکھیڑنے سے منع کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3596
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي لُقْمَانُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيهِ انْتِقَاصٌ، وَلَا وَهْمٌ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ وُلِدَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فِي الْإِسْلَامِ، فَقُبِضُوا، وَلَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سيبلِ اللَّهِ بَلَغَ بِهِ الْعَدُوَّ أَصَابَ أَمْ أَخْطَأَ، كَانَ لَهُ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْو مِنْهَا عُضْوًا مِنَ النَّارِ، وَمَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّ لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ يُدْخِلُهُ مِنْ أَيٍّ شَاءَ مِنْهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے تین بچے اسلام میں فوت ہو جائیں اور وہ بلوغت کو نہ پہنچیں، اللہ اس پر رحم کر کے اسے جنت میں داخل کرے گا۔ اور جو اللہ کی راہ میں سفید بالوں والا ہو، قیامت کے دن وہ نور ہوگا۔ اور جو اللہ کی راہ میں تیر پھینکے، چاہے لگے یا نہ لگے، ایک غلام آزاد کرنے کے برابر اجر پائے گا۔ اور جس نے مؤمن غلام آزاد کیا، اللہ جہنم سے اس کے ہر عضو کے بدلے ایک عضو کو آزاد کرے گا۔ اور جو اللہ کی راہ میں جوڑے خرچ کرے، جنت کے آٹھ دروازوں سے داخل ہوگا۔“
حدیث نمبر: 3597
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ (1)، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: يَا عَمْرُو، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيهِ تَزَيُّدٌ وَلَا نُقْصَانٌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: « مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ فَهِيَ لَهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ رَمَى الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ فَبَلَغَ سَهْمُهُ أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ، فَعِدْلُ رَقَبَةٍ، وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً فَهِيَ فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ كُلُّ عُضْوٍ بِعُضْوٍ » .
مظاہر امیر خان
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اسلام میں سفید بالوں والا ہو، وہ قیامت کے دن نور ہوگا۔ اور جو دشمن پر تیر پھینکے، چاہے لگے یا نہ لگے، ایک غلام آزاد کرنے کے برابر اجر پائے گا۔ اور جو مؤمن غلام آزاد کرے، اللہ اس کے ہر عضو کے بدلے ایک عضو کو جہنم سے بچائے گا۔“
حدیث نمبر: 3598
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَلَغَ الْعَدُوَّ كُتِبَ لَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَحُطَّ عَنْهُ سَيِّئَةٌ، وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا كَانَ فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ بِكُلِّ عُضْوَيْنِ مِنْهُمَا عُضْوًا مِنْهُ، وَمَنْ قَرَأَ خَمْسَ مِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ، قِيلَ: كَمِ الْقِنْطَارُ قَالَ: أَلْفٌ وَمِائَتَا أُوقِيَّةٍ، وَالْقِنْطَارُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ "
مظاہر امیر خان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”جو اللہ کے راستے میں سفید بالوں والا ہو، وہ نور ہوگا۔ اور جو اللہ کے راستے میں دشمن پر تیر مارے، اس کو ایک نیکی ملے گی اور ایک برائی مٹ جائے گی۔ اور جو مسلمان غلام آزاد کرے، اللہ ہر دو عضو کے بدلے ایک عضو کو آزاد کرے گا۔ اور جو پانچ سو آیات تلاوت کرے وہ قانتین میں لکھا جائے گا۔ اور جو ایک ہزار آیات پڑھے، اس کے لیے قنطار لکھا جائے گا۔“ پوچھا گیا: ”قنطار کتنا ہے؟“ فرمایا: ”ایک ہزار دو سو اوقیہ، اور قنطار دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔“