کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: سرحدوں کی حفاظت (رباط) کے فضائل کے بارے میں وارد احادیث۔
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ، يَقُولُ: مَرَّ سَلْمَانُ بِابْنِ السِّمْطِ وَهُوَ مُرَابِطٌ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، وَقَدْ شَقَّ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ يَا ابْنَ السِّمْطِ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَمَنْ مَاتَ فِيهِ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، وَنَمَا لَهُ عَمَلٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں ایک دن کا پہرہ ایک مہینے کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے، اور جو اس میں مرے وہ قبر کے فتنہ سے بچ جاتا ہے اور اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُوافِقَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي أَحَدِ الْمَسْجِدَيْنِ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ رَابَطَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ رَابَطَ، وَمَنْ رَابَطَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الرِّبَاطَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اللہ کے راستے میں ایک دن کا پہرہ مجھے مسجد حرام یا مسجد نبوی میں شب قدر کی رات پا لینے سے زیادہ محبوب ہے، اور جس نے تین دن پہرہ دیا اس نے رباط مکمل کر لیا، اور جس نے چالیس دن پہرہ دیا اس نے رباط مکمل کر لیا۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ (1)، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: « كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يَنْقَطِعُ إِذَا مَاتَ صَاحِبُهُ غَيْرَ الرِّبَاطِ، فَإِنَّهُ يَجْرِي لِصَاحِبِهِ مِثْلُ أَجْرِ الْمُرَابِطِ الْحَيِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ » .
مظاہر امیر خان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”ہر انسان کا عمل اس کے مرنے کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، مگر جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتا ہو، اس کا اجر قیامت تک جاری رہتا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عِصْمَةَ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَضِّلُونَ الرِّبَاطَ عَلَى الْجِهَادِ، قُلْتُ لِأَبِي: وَلِمَ؟ قَالَ: «لِأَنَّ فِي الْجِهَادِ شُرُوطًا كَثِيرَةً، وَلَيْسَتْ فِي الرِّبَاطِ»
مظاہر امیر خان
حضرت عصمہ بن راشد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سنا کہ وہ رباط کو جہاد پر فضیلت دیتے تھے۔“ میں نے اپنے والد سے پوچھا کیوں؟ انہوں نے کہا: ”جہاد کے لیے بہت ساری شرائط ہیں جو رباط میں نہیں۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ إِسْحَاقَ الْأَزْرَقِ (1)، أَنَّ أَبَا سَالِمٍ الْجَيْشَانِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ: « كُلُّ عَمَلٍ يَنْقَطِعُ عَنْ صَاحِبِهِ، إِذَا مَاتَ إِلَّا الْمُرَابِطُ، فَإِنَّهُ يَجْرِي عَلَيْهِ الرِّبَاطُ حَتَّى يُبْعَثَ مِنْ قَبْرِهِ » .
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ”ہر عمل انسان کے مرنے پر ختم ہو جاتا ہے، مگر سرحد پر پہرہ دینے والے کا عمل قیامت تک جاری رہتا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ يَنْمُو لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَيُؤَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”ہر میت کے عمل پر مہر لگ جاتی ہے مگر اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دینے والے کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور قبر کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَحِمَ اللَّهُ أَهْلَ الْمَقْبَرَةِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: تِلْكَ مَقْبَرَةٌ تَكُونُ بِعَسْقَلَانَ " فَكَانَ عَطَاءٌ يُرَابِطُ بِهَا كُلَّ عَامٍ أَرْبَعِينَ يَوْمًا حَتَّى مَاتَ
مظاہر امیر خان
حضرت عطا خراسانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس قبرستان پر رحم کرے۔“ تین بار فرمایا۔ پوچھا گیا کیوں؟ فرمایا: ”یہ عسقلان کا قبرستان ہے۔“ پھر حضرت عطا ہر سال چالیس دن وہاں رباط کرتے تھے یہاں تک کہ وہیں وفات پائی۔