حدیث نمبر: 3572
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «غَزْوَةٌ فِي الْبَحْرِ تَعْدِلُ عَشْرًا فِي الْبَرِّ، وَالْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ فِي الْبَرِّ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”سمندر میں ایک غزوہ زمین پر دس غزوات کے برابر ہے، اور جو سمندر میں ڈوبے وہ زمین پر خون میں لت پت شہید کی طرح ہے۔“
حدیث نمبر: 3573
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «لَأَنْ أَغْزُوَ فِي الْبَحْرِ خَيْرٌ لِي مِنْ أَنْ أُنْفِقَ قِنْطَارًا مُتَقَبَّلًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”سمندر میں جہاد کرنا میرے لیے اللہ کی راہ میں ایک قنطار سونا خرچ کرنے سے بہتر ہے۔“
حدیث نمبر: 3574
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ الْإِفْرِيقِيُّ، عَنْ أَبِي يَسَارٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «نِعْمَ الْغَزْوُ الْبَحْرُ، لَوْلَا وَاحِدَةٌ لَوْلَا أَنَّ الْعَبْدَ أَقْرَبُ مَا يَكُونُ مِنَ الشَّهَادَةِ يَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُخَلِّصَهُ مِنْهُ»
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”سمندر میں جہاد بہترین ہے، اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ بندہ شہادت کے قریب ہو کر اللہ سے نجات چاہے گا۔“
حدیث نمبر: 3575
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ أَنَّ كَعْبَ الْأَحْبَارِ كَانَ يَقُولُ: «لِصَاحِبِ الْبَحْرِ عَلَى صَاحِبِ الْبَرِّ مِنَ الْفَضِيلَةِ أَنَّهُ حِينَ يَضَعُ قَدَمَهُ فِيهِ إِذَا كَانَ مُحْتَسِبًا تُفْتَحُ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، فَإِنْ قُتِلَ أَوْ غَرِقَ كَانَ لَهُ كَأَجْرِ شَهِيدَيْنِ، وَأَنَّهُ يُكْتَبُ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِنْ حِينِ يَرْكَبُهُ حَتَّى يَسِيرَ كَأَجْرِ رَجُلٍ ضُرِبَتْ عُنُقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ، وَيَوْمٌ فِي الْبَحْرِ خَيْرٌ مِنْ شَهْرٍ فِي الْبَرِّ، وَشَهْرٌ فِي الْبَحْرِ خَيْرٌ مِنْ سَنَةٍ فِي الْبَرِّ»
مظاہر امیر خان
حضرت کعب الاحبار رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”سمندر کا مجاہد زمین والے مجاہد پر فضیلت رکھتا ہے، کیونکہ جب وہ سمندر میں قدم رکھتا ہے تو جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں، اگر وہ قتل ہو یا غرق ہو تو دو شہیدوں کا اجر ملتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3576
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ تَبِيعٍ، عَنْ كَعْبِ الْأَحْبَارِ، قَالَ: «إِذَا وَضَعَ الرَّجُلُ رِجْلَهُ فِي السَّفِينَةِ خَلَّفَ خَطَايَاهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَالْمَائِدُ فِيهِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالصَّابِرُ فِيهِ كَالْمَلِكِ عَلَى رَأْسِهِ التَّاجُ»
مظاہر امیر خان
حضرت کعب الاحبار رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”جب بندہ کشتی پر سوار ہوتا ہے تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو، اور سمندر میں ڈوبنے والا خون میں لت پت شہید کی طرح ہے، اور صبر کرنے والا ایسا ہے جیسے اس کے سر پر بادشاہی تاج ہو۔“
حدیث نمبر: 3577
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْحَرِيشِ الْقَصَّارُ، قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: لَوْ كُنْتُ رَجُلًا لَمْ أُجَاهِدْ إِلَّا فِي الْبَحْرِ، وَذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَصَابَهُ مَيْدٌ فِي الْبَحْرِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ فِي الْبَرِّ»
مظاہر امیر خان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”اگر میں مرد ہوتی تو صرف سمندر میں جہاد کرتی، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جسے سمندر میں چکر آئے وہ زمین پر خون میں لت پت شہید کی طرح ہے۔“