کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: سمندر میں سوار ہونے (یعنی بحری سفر) کے بارے میں جو کچھ وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 3566
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: " كَلَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هَذَا الْبَحْرَ الْغَرْبِيَّ فَقَالَ: «يَا بَحْرُ إِنِّي خَلَقْتُكَ، وَأَحْسَنْتُ خَلْقَكَ، وَأَكْثَرْتُ فِيكَ مِنَ الْمَاءِ، وَإِنِّي حَامِلٌ فِيكَ عِبَادًا لِي يُكَبِّرُونِي، وَيَحْمَدُونِي، وَيُسَبِّحُونِي، وَيُهَلِّلُونِي، فَكَيْفَ أَنْتَ فَاعِلٌ بِهِمْ؟» قَالَ: أُغْرِقُهُمْ، قَالَ: «بَأْسُكَ فِي نَوَاحِيكَ، وَأَحْمِلُهُمْ عَلَى يَدَيَّ» وَكَلَّمَ اللَّهُ الْبَحْرَ الشَّرْقِيَّ، فَقَالَ: " يَا بَحْرُ إِنِّي خَلَقْتُكَ، وَأَحْسَنْتُ خَلْقَكَ، وَأَكْثَرْتُ فِيكَ مِنَ الْمَاءِ، وَإِنِّي حَامِلٌ فِيكَ عِبَادًا لِي يُكَبِّرُونِي، وَيَحْمَدُونِي، وَيُسَبِّحُونِي، وَيُهَلِّلُونِي، فَكَيْفَ أَنْتَ فَاعِلٌ بِهِمْ؟ فَقَالَ: إِذًا أُسَبِّحُكَ مَعَهُمْ، وَأُهَلِّلُكَ مَعَهُمْ، وَأَحْمِلُهُمْ بَيْنَ ظَهْرِي وَبَطْنِي , فَأَثَابَهُ رَبُّهُ الْحِلْيَةَ وَالصَّيْدَ "
مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مغربی سمندر سے کلام کیا اور فرمایا: ”اے سمندر! میں نے تجھے پیدا کیا ہے، اور تیرے پیدا کرنے کو خوب بہتر بنایا ہے، اور تجھ میں پانی کو بہت زیادہ رکھا ہے، اور میں اپنے کچھ بندوں کو تجھ پر سوار کرنے والا ہوں جو میری تکبیر، تحمید، تسبیح اور تہلیل کریں گے۔ تو ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟“ سمندر نے عرض کیا: ”میں انہیں غرق کر دوں گا۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں تمہارا قہر تمہارے کناروں میں رکھ دوں گا، اور میں اپنے ان بندوں کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا لوں گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرقی سمندر سے کلام کیا اور فرمایا: ”اے سمندر! میں نے تجھے پیدا کیا ہے، اور تیرے پیدا کرنے کو خوب بہتر بنایا ہے، اور تجھ میں پانی کو بہت زیادہ رکھا ہے، اور میں اپنے کچھ بندوں کو تجھ پر سوار کرنے والا ہوں جو میری تکبیر، تحمید، تسبیح اور تہلیل کریں گے۔ تو ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟“ مشرقی سمندر نے عرض کیا: ”میں ان کے ساتھ مل کر تیری تسبیح، تحمید، اور تہلیل کروں گا اور انہیں اپنے اوپر، اپنے بطن اور اپنی پشت پر اٹھائے رکھوں گا۔“ اللہ تعالیٰ نے اسے بدلے میں زیورات اور شکار کا انعام عطا فرمایا۔
وضاحت:
سند میں خفیف ضعف ہے، لیکن محتمل اور قابلِ متابعت ہے۔
حدیث نمبر: 3567
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْعَلَاءَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ ذُكَرَ لَهُ أَنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَ الْبَحْرَ قَالَ: «كَيْفَ إِذَا حَمَلْتُ عَلَيْكَ خَلْقًا مِنْ خَلْقِي؟» قَالَ: لَا أُقِرُّهُمْ عَلَى ظَهْرِي، قَالَ: «بَلْ لضعر لَكَ وقما، سَأَجْعَلُ بَأْسَكَ فِي أَطْرَافِكَ»
مظاہر امیر خان
سعید بن ابی ہلال رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ علاء بن اسماعیل رحمہ اللہ نے انہیں خبر دی کہ جب اللہ تعالیٰ نے سمندر کو پیدا کیا تو اس سے فرمایا: ”جب میں اپنی مخلوق میں سے کچھ کو تم پر سوار کروں گا تو تم ان کے ساتھ کیا کرو گے؟“ سمندر نے کہا: ”میں انہیں اپنے اوپر ٹھہرنے نہ دوں گا۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”بلکہ میں تیرے کناروں میں تیرا قہر رکھوں گا اور تجھے اس کا حکم دوں گا۔“
حدیث نمبر: 3568
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، قَالَ: نا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَاتَ عَلَى إِجَّارٍ لَيْسَ حَوْلَهُ بِنَاءٌ يَدْفَعُ قَدَمَيْهِ فَهَلَكَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ إِذَا ارْتَجَّ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بغیر حفاظتی دیوار کے چھت پر سوئے اور مر جائے تو اس کی کوئی ذمہ داری ہم پر نہیں، اور جو سمندر پر سوار ہو اور ہلاک ہو جائے تو اس کی بھی کوئی ذمہ داری نہیں۔“
حدیث نمبر: 3569
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: «لَا يَرْكَبُ الْبَحْرَ إِلَّا حَاجٌّ أَوْ مُعْتَمِرٌ أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ»
مظاہر امیر خان
حضرت مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”سمندر میں صرف حاجی، معتمر یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا ہی سوار ہو۔“
حدیث نمبر: 3570
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ بِشْرٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرْكَبُ الْبَحْرَ إِلَّا حَاجٌّ، أَوْ مُعْتَمِرٌ، أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّ تَحْتَ الْبَحْرِ نَارًا، وَتَحْتَ النَّارِ بَحْرًا، وَلَا تَشْتَرِيَنَّ مِنْ ذِي ضَغْطَةِ سُلْطَانٍ شَيْئًا»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندر میں صرف حاجی، معتمر یا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا سوار ہو، کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے دوبارہ سمندر ہے، اور کسی ظالم حکمران کے مال سے خریداری نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 3571
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْبَهْرَانِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى النَّاسِ: «وَأَمَّا الْبَحْرُ فَإِنَّا نَرَى أَنَّ سَبِيلَهُ كَسَبِيلِ الْبَرِّ» إِنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ «فَنَأْذَنُ فِي الْبَحْرِ أَنْ يَتَّجِرَ فِيهِ مَنْ شَاءَ، لَا يُحَالُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ وَبَيْنَهُ»
مظاہر امیر خان
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھا: ”سمندر کا سفر زمین کے سفر کی طرح جائز ہے، اللہ نے سمندر کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم کشتیوں میں اس کے فضل کو تلاش کرو، لہٰذا کوئی کسی کو سمندر میں تجارت سے نہ روکے۔“