کتب حدیث ›
سنن سعید بن منصور › ابواب
› باب: جب لشکر نکلے تو اسے کیا ہدایات دی جاتی ہیں، اس بارے میں بیان۔
حدیث نمبر: 3560
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا أَمَّرَ عَلَى الْأَجْنَادِ: يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى جُنْدٍ، وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جُنْدٍ، وَشُرَحْبِيلَ ابْنَ حَسَنَةَ عَلَى جُنْدٍ، وَأَمَّرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى جُنْدٍ، ثُمَّ جَعَلَ يَزِيدَ عَلَى الْجَمَاعَةِ، وَخَرَجَ مَعَهُ يُشَيِّعُهُ وَيُوصِيهِ، وَيَزِيدُ رَاكِبٌ، وَأَبُو بَكْرٍ يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ يَزِيدُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ، وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ وَأَمْشِيَ مَعَكَ، فَقَالَ: إِنِّي لَسْتُ بِرَاكِبٍ، وَلَسْتُ بِتَارِكِكَ أَنْ تَنْزِلَ , إِنِّي أَحْتَسِبُ هَذَا الْخَطْوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَا يَزِيدُ إِنَّكُمْ سَتَقْدَمُونَ أَرْضًا يُقَدَّمُ إِلَيْكُمْ فِيهَا أَلْوَانُ الْأَطْعِمَةِ، فَسَمُّوا اللَّهَ إِذَا أَكَلْتُمْ، وَاحْمَدُوهُ إِذَا فَرَغْتُمْ، يَا يَزِيدُ، إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ قَوْمًا قَدْ فَحَصُوا أَوْسَاطَ رُءُوسِهِمْ فَهِيَ كَالْعَصَائِبِ، فَفَلَقُوا هَامَهُمْ بِالسُّيُوفِ، وَسَتَمُرُّونَ عَلَى قَوْمٍ فِي صَوَامِعَ لَهُمْ، احْتَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ فِيهَا، فَدَعْهُمْ حَتَّى يُمِيتَهُمُ اللَّهُ فِيهَا عَلَى ضَلَالَتِهِمْ، يَا يَزِيدُ لَا تَقْتُلْ صَبِيًّا، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا صَغِيرًا، وَلَا تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا، وَلَا تَعْقِرَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا، وَلَا دَابَّةً عَجْمَاءَ، وَلَا بَقَرَةً، وَلَا شَاةً إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ، وَلَا تَحْرِقَنَّ نَخْلًا، وَلَا تُغَرِّقَنَّهُ، وَلَا تَغْلُلْ، وَلَا تَجْبُنْ "
مظاہر امیر خان
عبداللہ بن عبید بن نشیط رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف لشکر روانہ کیے تو یزید بن ابی سفیان، عمرو بن العاص، شرحبیل بن حسنہ، خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کو الگ الگ جیشوں پر مقرر کیا۔ یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ان تمام پر سردار مقرر کیا۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خود ان کے ساتھ پیدل چلے، نصیحتیں کرتے ہوئے۔ یزید نے کہا: ”اے خلیفۃ رسول اللہ! یا تو آپ سوار ہوں، یا میں اتر کر پیدل آپ کے ساتھ چلوں۔“ تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہ میں سوار ہوں گا، نہ تمہیں اترنے دوں گا، میں اللہ کی راہ میں ان قدموں کا ثواب چاہتا ہوں۔“ پھر فرمایا: ”وہاں تمہیں بہت سی کھانے پینے کی چیزیں پیش کی جائیں گی، کھاتے وقت اللہ کا نام لو، ختم کرو تو الحمد للہ کہو۔ تم ایسے لوگوں سے ملو گے جنہوں نے اپنے سروں کو صاف کیا ہوگا، ان کے سر پٹوں جیسے ہوں گے، تلواروں سے ان کے سروں کو چیر دو۔ کچھ لوگ تمہیں صوامع میں قید شدہ ملیں گے، جو عبادت میں گم ہیں، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔“ پھر فرمایا: ”کسی بچے، عورت یا بوڑھے کو قتل نہ کرنا۔ آباد علاقہ نہ اجاڑنا۔ پھلدار درخت، بے زبان جانور، گائے، بکری صرف کھانے کے لیے ہی ذبح کرنا۔ نخلستان کو نہ جلانا، نہ ڈبونا۔ خیانت نہ کرنا۔ بزدلی نہ دکھانا۔“
حدیث نمبر: 3561
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: نا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَزْوِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ: «إِنْ لَقِيتَ فَلَا تَجْبُنْ، وَإِنْ قَدَرْتَ فَلَا تَغْلُلْ، وَلَا تَحْرِقَنَّ نَخْلًا، وَلَا تَعْقِرْهَا، وَلَا تَقْطَعْ شَجَرَةً مَطْعَمَةً، وَلَا تَقْتُلْ بَهِيمَةً لَيْسَتْ لَكَ فِيهَا حَاجَةٌ، وَاتَّقِ أَذَى الْمُؤْمِنِ»
مظاہر امیر خان
ایک صحابی نے جہاد کی اجازت لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ڈرنا نہیں، خیانت نہ کرنا، کھجور کے درخت کو نہ جلانا، نہ کاٹنا، جانور کو بغیر ضرورت نہ مارنا، اور مسلمانوں کو ایذا نہ دینا۔“
حدیث نمبر: 3562
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، عَنِ ابْنِ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم میں بھیجا اور فرمایا: ”اگر مسجد دیکھو یا اذان سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 3563
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ، وَأَبِي الْمُسَافِعِ، قَالَا: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ وَنَحْنُ بِنَهَاوَنْدَ «أَقِيمُوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَإِذَا لَقِيتُمْ فَلَا تَفِرُّوا، وَإِذَا غَنِمْتُمْ فَلَا تَغُلُّوا»
مظاہر امیر خان
ابو الصلت اور ابو المسافع رحمہما اللہ بیان کرتے ہیں: ”ہم نہاوند میں تھے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ تحریر بھیجی: نماز کو اس کے وقت پر قائم رکھو، جب دشمن سے ملو تو پیٹھ نہ پھیرو، جب غنیمت حاصل ہو تو اس میں خیانت نہ کرو۔“