حدیث نمبر: 3538
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ حُدَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الَّذِينَ يَغْزُونَ مِنْ أُمَّتِي وَيَأْخُذُونَ الْجُعْلَ يَتَقَوَّوْنَ بِهِ عَلَى عَدُوِّهِمْ مِثْلُ أُمِّ مُوسَى تُرْضِعُ وَلَدَهَا وَتَأْخُذُ أَجْرَهَا»
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے جو لوگ جہاد کے لیے اجرت لیتے ہیں تاکہ دشمن کے مقابلے میں قوی ہوں، ان کی مثال سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی ماں کی طرح ہے جو اپنے بیٹے کو دودھ پلا کر اجرت لیتی تھیں۔“
حدیث نمبر: 3539
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ، الرَّجُلُ يَغْزُو وَيَأْخُذُ الْجُعْلَ مِنْ قَوْمِهِ , أَطَيِّبٌ ذَلِكَ؟ قَالَ: «مَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ أُمِّ مُوسَى أَرْضَعَتْ وَلَدَهَا وَأَخَذَتْ أَجْرَهَا»
مظاہر امیر خان
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا: ”جو شخص جہاد کرے اور اپنی قوم سے اجرت لے، کیا یہ جائز ہے؟“ فرمایا: ”یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی ماں کی مثال ہے، وہ اپنے بچے کو دودھ پلا کر اجرت لیتی تھیں۔“
حدیث نمبر: 3540
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو، أَنَّ ابْنَ مُنْيَةَ - رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ - الْتَمَسَ رَجُلًا يُجْرِي لَهُ سَهْمَهُ وَيَكْفِيهِ أَمْرَهُ، فَلَمَّا أَتَاهُ الْأَجِيرُ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي مَا عَسَى سَهْمِي يَبْلُغُ، وَقَدْ أَحْبَبْتُ أَنْ تُسَمِّيَ لِي شَيْئًا كَانَ السَّهْمُ أَوْ لَمْ يَكُنْ فَسَمَّى لَهُ ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، فَلَمَّا أَصَابَ النَّاسُ الْغَنِيمَةَ أَرَادَ ابْنُ مُنْيَةَ أَنْ يَقْسِمَ لَهُ سَهْمَهُ مَعَ النَّاسِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ: «مَا أَجِدُ لَهُ فِي غَزْوَتِهِ هَذِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا الدَّنَانِيرَ الثَّلَاثَةَ الَّتِي أَخَذَ»
مظاہر امیر خان
ایک قریشی نے کسی کو اجرت پر رکھا کہ میرا حصہ وصول کرے، جب غنیمت ملی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صرف وہ اجرت ملے گی جو پہلے طے ہوئی تھی۔“
حدیث نمبر: 3541
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْحَةَ (1)، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ إِذْ بَرَزَ رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ، وَمَعَهُ حِمَارٌ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَيْهِ ثِقَلُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « مَنْ يُبَارِزُ هَذَا ؟ » فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لِيَ الْحِمَارُ، وَمَا عَلَيْهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « لَكَ الْحِمَارُ وَمَا عَلَيْهِ، فَانْطَلَقَ فَبَارَزَهُ، فَقُتِلَ الْمُسْلِمُ، فَقَالَ النَّاسُ: الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي رَزَقَهُ اللهُ الشَّهَادَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « لَهُ الْحِمَارُ وَمَا عَلَيْهِ » .
مظاہر امیر خان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دشمن آیا جس کے ساتھ گدھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون اس کا مقابلہ کرے گا؟“ ایک شخص نے کہا: ”میں۔“ اور شرط رکھی کہ گدھا اور اس کا سامان میرا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور جب وہ قتل ہو گیا تو آپ نے فرمایا: ”گدھا اور اس کا سامان اسی کا ہے۔“
حدیث نمبر: 3542
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَأَلَ عَلْقَمَةُ شُرَيْحًا عَنِ الْجُعْلِ، فَقَالَ: يَأْخُذُ كَثِيرًا وَيُعْطِي أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ، يَجْعَلُهُ لِلرَّجُلِ أَفَيُرِيبُكَ؟ " قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: «فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ»
مظاہر امیر خان
سیدنا شریح رحمہ اللہ سے جعالہ (اجرت پر جہاد) کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”جو شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور جو شک میں نہ ڈالے اسے اختیار کرو۔“
حدیث نمبر: 3543
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: خَرَجَ يُرِيدُ أَنْ يُجَاعِلَ فِي بَعْثٍ خَرَجَ عَلَيْهِ، فَأَصْبَحَ وَهُوَ يَتَجَهَّزُ فَقُلْتُ لَهُ: مَا لَكَ؟ أَلَيْسَ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تُجَاعِلَ؟ قَالَ: «بَلَى، وَلَكِنِّي قَرَأْتُ الْبَارِحَةَ سُورَةَ بَرَاءَةَ فَسَمِعْتُهَا تَحُثُّ عَلَى الْجِهَادِ»
مظاہر امیر خان
ایک شخص جہاد پر اجرت کے ساتھ جانا چاہتا تھا مگر جب سورہ براءۃ کی تلاوت کی تو اس نے جہاد کو بغیر اجرت کے لازم کر لیا۔